مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کا وقت آ گیا ہے: خواجہ آصف کا بڑا بیان

Spread the love

منصور احمد,September 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ خطے کی موجودہ حالات کے تناظر میں وہ صورتحال پیدا ہو چکی ہے جہاں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر فوری عملدرآمد کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ انہوں نے تکرار کے ساتھ کہا کہ پاکستان مکہ معاہدے کا مکمل پاسدار ہے اور حرمین شریفین و مقدس مقامات کا تحفظ اپنی سب سے پہلی اور بنیادی قومی و ایمانی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

نجی ٹی وی کے ایک کرنٹ افیئرز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ اگرچہ وہ معاہدے کے انتہائی حساس نکات کی تفصیلات عام نہیں کر سکتے، تاہم پاکستان اس معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کا پابند ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کا انتہائی اہم سفارتی پیغام ایران تک پہنچا دیا ہے اور انہیں پوری توقع ہے کہ ایران بحیثیت ایک ذمہ دار ریاست خطے میں کشیدگی کا کوئی نیا محاذ نہیں کھولے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ویسے تو کسی تحریری معاہدے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت ہر پاکستانی کے لیے فرض کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مکہ مکرمہ پر کسی بھی جانب سے براہِ راست حملے کا خطرناک ماحول بنایا گیا تو پاکستان اپنے اس مقدس فرض سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔

خواجہ آصف کا یہ اہم ترین بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی فضائی دفاعی فورسز نے 15 ستمبر کی شام مکہ مکرمہ کے جنوب میں ممنوعہ فضائی حدود کے قریب آنے والے ایک مسلح ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحادی ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اسے مقدس شہر کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے، تاہم حوثی گروپ نے اس الزامی دعوے کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ 7 اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” طے پایا تھا۔ اس معاہدے کی اہم ترین شق یہ ہے کہ تنیوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر بھی بیرونی مسلح حملہ تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد ہو چکا ہے جس میں پاکستان نے علاقائی امن کے لیے سفارت کاری کو اولیت دینے کا اعادہ کیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
خواجہ آصف کا یہ بیان ایک سیاسی و دفاعی موقف ہے، جبکہ مکہ کے قریب ڈرون واقعے کے بارے میں سعودی حکام اور حوثیوں کے مؤقف مختلف ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق سعودی عرب نے ڈرون کو مکہ کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایران کو سعودی عرب کا پیغام پہنچانے کی بات بھی وزیر دفاع نے کی ہے، تاہم اس پیغام کی تفصیلات سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔

ماخذ: دفاعی ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔