

محمود احمد, September 17,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 17 ستمبر 2026ء
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے انتہائی اہم تزویراتی مقام قشم جزیرے کی فضائی حدود میں امریکی فوج کا ایک جدید MQ-9 ریپر ڈرون اپنے مقامی ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے تباہ کر دیا ہے۔ ایرانی عسکری حکام کے مطابق یہ کارروائی مربوط قومی فضائی دفاعی نیٹ ورک کے تحت پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے انجام دی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق ڈرون کو جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر 12 منٹ پر نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ تباہ کیا جانے والا غیر ملکی ڈرون امریکی فوج کی ملکیت تھا جو ایرانی سرحد کے قریب جاسوسی و نگرانی کی ماموریت پر تھا۔ ایرانی عسکری ذرائع کے مطابق یہ موجودہ علاقائی کشیدگی اور تنازع کے دوران تباہ کیا جانے والا 53واں امریکی MQ-9 ڈرون ہے۔
یہ سنگین واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیج کے اطراف میں امریکی اور ایرانی عسکری فورسز کے درمیان شدید کشیدگی برقرار ہے۔ قشم جزیرہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے، جس کے باعث یہاں کسی بھی قسم کا عسکری تصادم بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اس سے قبل 16 ستمبر کو بھی قشم کے قریب 52واں MQ-9 ڈرون گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
امریکی پینٹاگون یا سینٹکام کی جانب سے اس تازہ ایرانی دعوے کی فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے، جس کے باعث واقعے کی تمام تر تفصیلات فی الحال ایرانی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ایم کیو-9 ریپر امریکی فوج کا ایک جدید ترین بغیر پائلٹ کا فضائی نظام ہے جو طویل فاصلے تک انٹیلی جنس جمع کرنے اور سمارٹ گائیڈڈ حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تزویراتی گزرگاہوں پر ایسے واقعات عالمی توانائی کی ترسیل کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سرکاری شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیانات اور بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے نجی ذرائع سے فراہم کردہ رپورٹس کے عین مطابق تیار کی گئی ہے۔
ماخذ:
انادولو ایجنسی، ویسٹ ایشیا نیوز ایجنسی، ڈان،