ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا امریکہ کو ‘سخت سزا’ دینے کا عزم: ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد تہران کا بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, September 01,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری ٹکراؤ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے منگل کو ہونے والی امریکی بمباری کے بعد باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس امریکی جارحیت کا انتہائی ‘سخت’ اور دردناک جواب دیں گے۔

منگل کے روز پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر امریکی طیاروں کے حملوں کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے تہران میں صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس کی اس حماقت پر ’سخت سزا‘ دی جائے گی اور واشنگٹن اپنے ان نئے حملوں کے فیصلوں پر شدید پچھتائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے یہ تند و تیز اور جنگی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند ہی لمحے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے کوئی بھی جوابی کارروائی کی تو امریکہ کا اگلا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ‘سخت اور وسیع’ ہو گا۔

ایرانی عسکری حکام نے امریکہ کی اس تنبیہ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کا دباؤ یا دھمکی ایران کو اپنی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں اور قومی مفادات کے دفاع کے حق سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں قائم تمام امریکی تنصیبات اور امریکی فورسز پاسدارانِ انقلاب کے نشانوں پر ہیں اور وقت و مقام کا انتخاب ایران خود کرے گا۔

ایران کا جزیرہ لارک پر حملے کے بعد شدید ردِعمل: امریکی و اسرائیلی اقدامات کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دینے کا عزم

محمود احمد, August 31,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی پارلیمان کی اہم اور سٹریٹجک ‘قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی’ کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سٹریٹجک جزیرہ لارک پر ہونے والے حالیہ حملے پر انتہائی سخت اور تند و تیز ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس جارحانہ کارروائی کا تہران کی جانب سے حتمی اور لازمی جواب دیا جائے گا۔

ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں طاقتور لہجہ اپناتے ہوئے لکھا کہ “ہماری دفاعی قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے” کی دشمنوں کی کوئی بھی نئی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں اور معاشی و جیو پولیٹیکل نقصان کی قیمت کو مزید شدید اور بھاری کر دے گی۔ انہوں نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامی ایران اس جارحیت کا انتہائی “تباہ کن، تکلیف دہ اور عبرت ناک سبق آموز” جواب فراہم کرے گا۔

ایرانی رہنما کی جانب سے یہ سخت بیانات ایک ایسے کشیدہ وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے خلیجِ فارس میں واقع جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں اپنے متعدد عسکری اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حملے کے منصوبہ سازوں اور حملہ آوروں کے خلاف فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

امریکی بحری ناکہ بندی سے ایران کی درآمدات شدید متاثر، پیٹرول کی قلت کے باعث کوٹہ میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا قوی امکان

محمود احمد, August 29,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ سخت اور بین الاقوامی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی بین الاقوامی تجارت اور ضروری سامان کی درآمدات کا عمل شدید ترین مشکلات اور رکاوٹوں کا شکار ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ایرانی دارالحکومت تہران سمیت ملک بھر میں ایندھن، بالخصوص پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کی اہم اقتصادی کمیٹی کے سینئر رکن جعفر قادری نے ملک کو درپیش اس سنگین معاشی صورتحال، ایندھن کے بحران اور بحری ناکہ بندی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایران اس وقت سنگین اقتصادی دباؤ کی زد میں ہے اور حکومت کے لیے پرانے نرخوں اور طریقہ کار پر پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے رکن جعفر قادری کے فراہم کردہ اہم اور سنسنی خیز اعداد و شمار کے مطابق، ایران سالانہ بنیادوں پر جو مجموعی طور پر تقریباً 210 ملین (21 کروڑ) ٹن مختلف سامان و خام مال درآمد کرتا ہے، اس کی کل درآمدات کا تقریباً 83 فیصد حصہ جنوبی بحیرۂ چین اور متعلقہ بین الاقوامی بحری شاہراہوں کے راستے ایرانی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ تاہم، امریکی بحری جہازوں اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے اس سب سے اہم اور بنیادی تجارتی راستے میں شدید ترین رکاوٹیں کھڑی ہو چکی ہیں، جس کے باعث نہ صرف تیل کے ٹینکرز کی آمد و رفت منقطع ہوئی ہے بلکہ ایندھن کے دیگر بحری جہاز بھی ایرانی ساحلوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

جعفر قادری نے ملک کے اندرونی ایندھن کے اعداد و شمار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کو اس وقت یومیہ (روزانہ) کی بنیاد پر تقریباً 15 سے 20 ملین (ڈیڑھ سے دو کروڑ) لیٹر پیٹرول کے بدترین خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے معاشی حقیقت اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ بین الاقوامی بحران اور کرنسی کے دباؤ میں بیرونِ ملک سے محض ایک لیٹر پیٹرول درآمد کرنے پر ایرانی حکومت کو تقریباً 1 امریکی ڈالر کے برابر خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے، جو ملکی معیشت اور خزانوں پر ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔

ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ناکہ بندی، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی کمی اور موجودہ نازک ترین حالات میں ماضی کی طرح شہریوں کو بلا پابندی اور بے تحاشا سبسڈی والے نرخوں پر پیٹرول فراہم کرتے رہنا معاشی منطق کے تمام اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران کو مزید سنگین بنانے والی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سستے پیٹرول کا ایک بڑا اور اہم حصہ منظم سمگلنگ کے ذریعے سرحد پار دوسرے ممالک میں چلا جاتا ہے، جس سے ایرانی عوام کے حق پر ڈاکہ پڑ رہا ہے۔

جعفر قادری نے تہران حکومت اور ایرانی انتظامیہ کے متوقع سخت فیصلے کے بارے میں اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب پیٹرول کی ملکی طلب اور محدود دستیابی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اور سخت قسم کے کنٹرولنگ اقدامات نافذ کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان متوقع اور اضطراری اقدامات میں شہریوں کے لیے ایندھن کے ماہانہ کوٹے میں نمایاں کمی کرنا یا پیٹرول کی سرکاری قیمتوں میں ردوبدل اور اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اس بحرانی وقت میں حکومت کے لیے انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ وہ دستیاب محدود قومی وسائل کا مؤثر اور محتاط استعمال یقینی بنائے، ایندھن کی بارڈر سمگلنگ کو ہر قیمت پر روکے، اور صرف اندرونِ ملک اور ہنگامی ضروریات کو ترجیح دے