

محمود احمد May16,2026
کراچی (نیوز اینڈ نیوز)
کراچی کی سٹی کورٹ نے منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو بائیس مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
عدالت نے تفتیشی حکام کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے سپرد کرنے کا حکم جاری کیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ مختلف مقدمات میں مطلوب ہے اور اس سے اہم معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی نے منشیات کا اپنا ایک باقاعدہ “برانڈ” بنا رکھا تھا، جبکہ پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حساس ایجنسیاں طویل عرصے سے اس کی تلاش میں تھیں۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ حالیہ کارروائی کے دوران ملزمہ کی نشاندہی پر مزید منشیات برآمد کی گئی ہیں جبکہ اس کے خلاف مزید گیارہ مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ کا تعلق اصل میں لاہور سے ہے، تاہم اس کے شناختی کارڈ پر اب بھی کراچی کا پتہ درج ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کا پرانا ریکارڈ اس کے سابق شوہر نے بلاک کر رکھا ہے، جبکہ وہ گزشتہ پندرہ برس سے مبینہ طور پر منشیات کا نیٹ ورک چلا رہی تھی۔
پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قانون کی گرفت سے بچنے اور سیکیورٹی معاملات سے نمٹنے کے لیے ملزمہ نے پنجاب پولیس کے ایک ڈی ایس پی سے بھی شادی کی تھی۔
تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمہ مجموعی طور پر تین شادیاں کر چکی ہے، تاہم حیران کن طور پر نادرا کے ریکارڈ میں ان شادیوں کا اندراج موجود نہیں۔
دورانِ سماعت عدالت نے قتل کے ایک مقدمے سے متعلق بھی استفسار کیا، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ مقتول کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، تاہم لاش کی تلاشی کے دوران ملزمہ کے مبینہ برانڈ کی منشیات کی ڈبی برآمد ہوئی تھی، جس سے مقتول کا تعلق ملزمہ سے جوڑا جا رہا ہے۔
عدالت نے ملزمہ کے خلاف درج مجموعی طور پر بارہ مقدمات سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کراچی کی ملیر کورٹ نے سچل تھانے میں درج مقدمے میں انمول عرف پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جبکہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی