

کاشف عباسی , August 18,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلمانوں نے ایک دور میں علم، تحقیق اور سائنسی جستجو میں پوری دنیا کی قیادت کی ہے، لیکن جو تہذیب کسی زمانے میں علمی دنیا کی رہنما تھی وہ آج دوسروں کی محتاج نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی عظیم علمی روایت کو دوبارہ زندہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ منصوبہ بندی میں منعقدہ محفلِ میلاد النبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے تاریخی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بغداد اور اندلس کے عظیم علمی مراکز، رصد گاہوں اور مسلم سائنس دانوں نے فلکیات، طب، ریاضی، اور کیمیا کے شعبوں میں جدید تحقیق کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی یہ سائنسی و علمی ترقی کوئی اتفاقی امر نہیں تھا، بلکہ یہ قرآنِ کریم کی اس بنیادی تعلیم اور دعوت سے جڑا ہوا تھا جس میں انسان کو کائنات میں مشاہدہ کرنے، عقل کے استعمال اور غور و فکر کی بار بار ہدایت کی گئی ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے موجودہ دور کی جدید سائنسی ایجادات اور جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسی انسانی کوششیں کائنات کے اسرار جاننے کی سائنسی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ہم تحقیق و دریافت کے میدان میں پیچھے کیوں رہ گئے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی کے کارناموں پر صرف فخر کرنے کے بجائے نئی نسل میں سوال کرنے، مشاہدہ کرنے اور تخلیقی سوچ بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قوم پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔