ریپبلکن پارٹی کا ڈلاس میں پہلا وسط مدتی انتخابی کنونشن: ڈونلڈ ٹرمپ کا ہر بالغ امریکی کو 5,000 ڈالر دینے کا بڑا اور غیر متوقع اعلان

محمود احمد, September 10,2026

ڈلاس (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کا پہلا وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابی کنونشن منعقد ہوا جس میں روایتی صدارتی انتخابی سال کے بڑے اجتماعات جیسا شاندار اور جوشیلا ماحول دیکھنے میں آیا۔ چمکدار اور رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس جذباتی حامی، اہم امیدواروں کی تقاریر کا مسلسل سلسلہ، اور انتخابی مہم سے متعلق یادگاری اشیا فروخت کرنے والے دکاندار اس بڑے اجتماع کا نمایاں حصہ تھے۔

تاہم کسی بھی روایتی حزبی کنونشن کے برعکس ڈلاس میں منعقد ہونے والی اس دو روزہ تقریب میں پارٹی کا کوئی باضابطہ یا قانونی کاروبار انجام نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے یہ تمام تر اجتماع ریپبلکن رہنماؤں کے لیے ایک زبردست پاور شو اور انتخابی جلسے کی حیثیت رکھتا تھا، جو رواں سال نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے دوران امریکی کانگریس کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار رکھنے اور اپنے ووٹ بینک و ووٹرز کی شرکت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور ووٹرز پر اثر و رسوخ آج بھی بدستور مکمل طور پر قائم و دائم ہے، نے دو روزہ تقریب کی افتتاحی شام ایک انتہائی طویل اور جذباتی کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے اس خطاب میں ان تمام اہم موضوعات اور پالیسیوں پر کھل کر بات کی جن پر وہ رواں سال انتخابی جلسوں میں بار بار اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں، تاہم اس تقریب کے دوران ان کی جانب سے چند انتہائی غیر متوقع اور سنسنی خیز اعلانات بھی کیے گئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے سیاسی جلسوں اور تقریروں میں غیر روایتی اور چونکا دینے والی تجاویز پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ اپنے اسی انداز کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ریپبلکن پارٹی نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر (تقریباً 3,700 برطانوی پاؤنڈ) کا بڑا کیش ریلیف دینے کی باقاعدہ قانون سازی کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس معاشی منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم کی فراہمی کی صرف اور صرف ایک بنیادی شرط ہوگی، اور وہ یہ کہ ہر شہری کو یہ رقم لازمی طور پر امریکہ کی حدود ہی کے اندر مختلف اشیاء اور خدمات پر خرچ کرنا ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو تقویت مل سکے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پورے خطاب میں یہ بالکل نہیں بتایا کہ اس دیوہیکل منصوبے پر عملی طور پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا، اس کھربوں ڈالر کی خطیر رقم کا انتظام کہاں سے ہوگا، یا امریکی حکومت اور اس کے محکمے یہ کیسے چیک اور جانچ سکیں گے کہ یہ رقم واقعی امریکہ کے اندر ہی خرچ کی گئی ہے۔

ریاستی مخالف جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر متوقع اعلان پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور انہوں نے اسے فوری طور پر ایک سیاسی اور “کھوکھلا وعدہ” قرار دے کر مسترد کر دیا، جبکہ متعدد معاشی اور قانونی ناقدین نے یہ سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ آیا امریکی آئین اور قانونی فریم ورک کے تحت ایسا معاشی وعدہ عملی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔

حساب کتاب کے مطابق اس وقت امریکہ میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد موجود ہیں، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر فی کس 5,000 ڈالر کی رقم تقسیم کی جائے تو امریکی حکومت کے خزانے پر اس کا مجموعی بوجھ تقریباً 1.3 کھرب (1.3 ٹریلین) ڈالر پڑے گا۔

امریکی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز عملی طور پر قابلِ عمل ہے یا نہیں، بظاہر اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اس بڑے اعلان کا کنونشن میں موجود ٹرمپ کے حامیوں اور حاضرین پر کیا تاثر قائم ہوا۔ پورے ہال میں اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی پرجوش شرکاء نے کھڑے ہو کر منٹوں تک زوردار تالیاں بجائیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے حامیوں کے اس والہانہ ردِعمل سے بے حد محظوظ اور خوش دکھائی دیے۔

قانونی چارہ جوئی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی بنیادی اصول ہے: وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی تحریری فیصلہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک اہم اور تفصیلی تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانونی داد رسی اور چارہ جوئی کے لیے متعین کردہ مقررہ مدت پر عمل کرنا قانون کا بنیادی اور اہم ترین اصول ہے، اس لیے محض کسی معاملے کو بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواست کے ذریعے قانون میں طے شدہ مدت کو نظر انداز یا بائی پاس نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی تحریری فیصلے میں مذہبی لٹریچر، کتب اور مواد پر پابندی اور ان کی ضبطگی کے خلاف دائر کی گئی متعدد اپیلیں اور درخواستیں بلاجواز تاخیر کی بنیاد پر خارج کر دی گئی ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا ہے کہ درخواستوں کی دائرگی میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے غیر معمولی تاخیر قانونی اصطلاح میں “لیشز” کا باعث بنتی ہے، اور آئینی درخواست کے ذریعے قانونی مدت سے بچنے کی ایسی تمام کاوشیں دراصل آئین اور قانون کے جائز عمل کا غلط استعمال ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزاروں کے پاس صوبائی حکومت کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99 اے کے تحت کی گئی انتظامی کارروائی کے خلاف دفعہ 99 بی کے تحت ہائی کورٹ سے باضابطہ رجوع کرنے کا مؤثر اور متبادل قانونی راستہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ متعلقہ آرڈیننس کے تحت بھی متفقہ طور پر اپیل کا حق میسر تھا، تاہم تمام تر درخواست گزاروں نے مقررہ قانونی مدت کے اندر یہ لازمی قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے انتہائی تاخیر کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بنیادی قانونی نقطہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اختیارات کا ہر قسم کا استعمال قانون کے اندر موجود باضابطہ ماخذ سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ محض یہ حقیقت کہ کوئی فیصلہ انتظامی افسر کی جانب سے ہوا ہے، اسے ازخود غیر قانونی یا محض صوابدیدی اختیار نہیں بنا دیتی، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اختیار کس بنیادی قانون کے تحت حاصل کیا گیا تھا اور اس کا ماخذ کیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ بنیادی حقوق بلاشبہ آئین پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ اہم ترین ضمانتیں ہیں، تاہم ان حقوق کا استعمال ملکی قانون، عمومی پالیسی اور اخلاقیات کے واضح تابع ہوتا ہے۔ مذہبی آزادی سمیت آئین میں درج تمام بنیادی حقوق کو ہمیشہ وسیع تر عوامی مفاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور امنِ عامہ کے ساتھ متوازن بنانا قانون کے لیے بے حد ضروری ہے۔

مقدمے کے پس منظر کے مطابق درخواست گزار محمد عبد القدوس نے پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 25 جون 2014 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت “روحانی خزائن” کی جلد اول سے 23 پر باضابطہ پابندی عائد کی گئی تھی اور تمام دستیاب نقول کو ضبط کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام درخواست گزاروں نے بھی مختلف دینی و دیگر لٹریچر اور متنازع مواد کے خلاف کی جانے والی حکومتی و انتظامی کارروائیوں کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

عدالت نے حتمی طور پر قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے وقت پر متبادل قانونی چارہ جوئی کا فورم اختیار کرنے کے بجائے برسوں کی تاخیر کے بعد براہِ راست آئینی درخواستیں دائر کی ہیں اور عدالت کے سامنے تاخیر کی کوئی معقول یا قابلِ قبول وجہ بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلوں کو بحال رکھتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ نظر فیصلے میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی موجود نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے، اور اسی بنا پر تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے زیر التوا متفرق متفرقات کو نمٹا دیا گیا۔

اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانوی پابندیوں کا اقدام: پاکستان کا برطانیہ اور دیگر ممالک کے فیصلے کا پرجوش خیرمقدم

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی یا وہاں سے صادر کی جانے والی تمام مصنوعات کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے تاریخی اور جرات مندانہ اعلان کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم پریس ریلیز اور باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل اور متنازع توسیع بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ایسے تمام تر غیر قانونی اور غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے حصول کے لیے جاری عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، بلکہ پوری مشرقِ وسطیٰ کے دائم امن، توازن اور استحکام کو بھی سخت خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ پاکستان برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد اہم ممالک کے اس اہم اعلان کی بھی مکمل تائید اور خیرمقدم کرتا ہے، جس میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ اور اسی نوعیت کے سخت تجارتی و سفارتی قدغنوں پر غور کرنے اور عملی اقدامات کی حمایت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ان بین الاقوامی اقدامات، تجارتی پابندیوں اور مشترکہ فیصلوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام تر غاصبانہ و غیر قانونی سرگرمیوں کو عالمی برادری کی جانب سے یکسر مسترد کیے جانے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت پیغام پہنچے گا۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی ‘نسل کشی’ اور تشدد پر مجرمانہ چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

گزشتہ روز برطانوی پارلیمان کے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا تھا کہ یہ اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے ‘ایک نئے اور عملی طرزِ عمل کی شروعات’ ہے، جو صرف زبانی زبانی ناانصافی کی نشاندہی ہی نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی سطح پر عملی پیش رفت بھی کرتا ہے۔ برطانوی پابندیوں کے تحت بستیوں کی مصنوعات پر کامل پابندی عائد رہے گی جبکہ بستیوں کی توسیع میں مددگار کمپنیوں اور افراد پر بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔

یہ جدید پابندیاں فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر نافذ کی گئی ہیں، جنہوں نے ایک مشترکہ بین الاقوامی اعلامیے میں کہا ہے کہ یہ قدم دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے طرزِ عمل میں اہم موڑ ثابت ہوگا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ تمام تر بستیاں مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران ان علاقوں میں فلسطینیوں پر تشدد کے بزدلانہ واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایران کا بڑا عسکری و بحری اقدام: ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی حدود خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب تک بڑھانے کا اعلان

محمود احمد, September 09,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں جاری شدید عسکری کشیدگی کے دوران بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے طے کردہ ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی جغرافیائی حدود کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جس میں اب خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے انتہائی اہم اور حساس حصے بھی شامل ہوں گے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے باضابطہ ترجمان حسین محبی نے تہران میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس نئے اور جدید توسیع شدہ ممنوعہ علاقے سے ایرانی حکومت یا بحریہ کی پیشگی اجازت کے بغیر گزرنے والے تمام ملکی و غیر ملکی تجارتی اور آئل ٹینکرز کے خلاف سخت ترین تعزیری ‘پابندیاں’ نافذ کی جائیں گی۔

ایرانی عسکری ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس توسیع شدہ ممنوعہ علاقے کی دقیق جغرافیائی حدود اور اس سے متعلقہ بین الاقوامی کوآرڈینیٹس کا باقاعدہ نقشہ اور تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، تاہم ابتدائی طور پر یہ سمندری حد بندرگاہ چابہار کے علاقے سے شروع ہوتی ہے۔

حسین محبی نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بحری جہاز ایران کی جانب سے مقررہ اور واضح کی گئی ممنوعہ حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوں گے، انہیں بعد میں عالمی توانائی کی شاہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو بین الاقوامی قانونی، لاجسٹک، تکنیکی اور انشورنس کی خدمات کی فراہمی بھی روک دی جائے گی تاکہ ان کی آزادانہ آمدورفت ناممکن بنائی جا سکے۔

ایران کی جانب سے یہ غیر معمولی اور خطرناک اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد عسکری و بحری محاذ آرائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہازرانی اور خام تیل و ایل این جی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے محدود سمندری زونز کی توسیع کا یہ اقدام حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب کئی آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کے باہر بحری حدود میں ایک نیا ‘محدود سمندری زون’ قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کر چکا ہے، جس کا حتمی مقصد ان بین الاقوامی جہازوں کو روکنا اور تحویل میں لینا تھا جو ایرانی نگرانی، جانچ اور تجارتی پابندیوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تہران کے اس تازہ ترین اعلان کے بعد خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری تجارت اور خصوصاً خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں کو ہونے والی توانائی کی فراہمی پر بلاواسطہ منفی اثرات اور معاشی خطرات کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں ٹیکسوں کا بڑا حصہ: پٹرول پر 134 روپے اور ڈیزل پر 118 روپے سے زائد کے ٹیکس عائد ہونے کا انکشاف

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران پاکستان میں ایندھن کی حتمی قیمتوں کا ایک بہت بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں، لیوی، کسٹم ڈیوٹیز اور تجارتی مارجنز پر مشتمل ہونے کی تحریری دستاویزات سامنے آئی ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں پیش کیے گئے مستند اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر پاکستانی عوام مجموعی طور پر 134 روپے 60 پیسے کا بھاری ٹیکس اور اضافی اخراجات ادا کر رہے ہیں، جبکہ فی الوقت پٹرول کی اصل قیمت 229 روپے 75 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔

دستاویزات کی تفصیلات کے مطابق پٹرول پر فی لیٹر 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی عائد کی گئی ہے، جبکہ 21 روپے 15 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور تقریباً 3 روپے پریمیم بھی فی لیٹر قیمت میں پہلے سے شامل کیے گئے ہیں۔ مزید برآں پٹرول کی حتمی فروخت کی رقم میں 7 روپے 60 پیسے ریفائنری و فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مقررہ منافع اور 9 روپے 98 پیسے پٹرول پمپ ڈیلرز کا مارجن شامل ہوتا ہے۔

دوسری جانب معیشت کی شاہ رگ سمجھے جانے والے ڈائریکٹ ڈیزل کی بات کی جائے تو ایک لیٹر ڈیزل پر مجموعی ٹیکسز اور اخراجات کی رقم 118 روپے 55 پیسے بتائی گئی ہے، جو کہ ڈیزل کی کل فروخت کی قیمت کا تقریباً 31 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں ڈیزل کی اصل بنیادی قیمت 267 روپے 40 پیسے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق ڈیزل پر بھی حکومت کی جانب سے 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور ایک روپیہ پریمیم کی مد میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 2 پیسے فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل کمپنیوں کا منافع اور 9 روپے 98 پیسے ڈیلرز کا کمیشن و مارجن بھی شامل کیا جاتا ہے۔

معاشی ماہرین اور رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد یہ بھاری لیوی، کسٹم ڈیوٹیز، کمپنیوں کے منافع اور دیگر اخراجات ہی عوام کے لیے ایندھن کی حتمی مہنگی قیمت اور ملک میں افراطِ زر کا بنیادی سبب بن رہے ہیں۔

برطانیہ کی پابندیوں پر اسرائیل کا شدید جوابی ایکشن: مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا باضابطہ اعلان

محمود احمد, September 09,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں اور بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر مکمل درآمدی قدغن کے اعلان کے جواب میں اسرائیل نے انتہائی سخت اور غیر معمولی سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے مشرقی یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں حکومت کا تاریخی فیصلہ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم تمام غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیائے صرف اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان پابندیوں کے تحت بستیوں کی تعمیری سرگرمیوں، انفراسٹرکچر، مالیاتی معاونت اور رئیل اسٹیٹ میں سہولت کاری فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی سخت مالی و قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے واضح کیا تھا کہ یہ جامع فیصلہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور اس سے جڑے معاشی تعلقات کے حوالے سے برطانوی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کے تحت نئی بستیوں کی تعمیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ سمیت 12 اتحادی ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بستیوں کی مسلسل توسیع بند کرے اور دو ریاستی حل کے تمام سفارتی راستے مسدود کرنے سے گریز کرے۔

برطانیہ کے ان اقتصادی و سفارتی اقدامات پر اسرائیل نے نپٹا ہوا اور سخت ترین جوابی حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے برطانوی فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ پر عالمی برادری میں “سنگین اور من گھڑت جھوٹ” پھیلانے کا براہِ راست الزام عائد کیا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے ردِعمل کے طور پر مشرقی یروشلم میں سالہا سال سے قائم برطانوی قونصل خانے کے دفتری آپریشنز کو مکمل طور پر بند کرنے اور سفارتی عملے کی سہولیات محدود کرنے سمیت متعدد جوابی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

دوطرفہ سفارتی کشیدگی کا یہ نیا اور خوفناک دور ایک ایسے نازک لمحے پر شروع ہوا ہے جب اسرائیل نے مغربی کنارے کے انتہائی حساس علاقے ای 1 میں نئی بستیوں کی تعمیر کے لیے باضابطہ ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک اس منصوبے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ای 1 منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو مشرقی یروشلم سے جغرافیائی طور پر الگ تھلگ کر کے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی تمام امیدوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ اسرائیل کے اس تازہ ترین جوابی قدم کے بعد برطانیہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی و تجارتی تعلقات بدترین تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اروناچل پردیش میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان دو روزہ مذاکرات

محمود احمد, September 09,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر طویل عرصے سے جاری شدید عسکری کشیدگی کو کم کرنے کے تناظر میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اروناچل پردیش کے حساس سرحدی علاقے میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دو دور کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دہلی میں پریس بریفنگ کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اعلیٰ عسکری سطح کی پہلی فلیگ میٹنگ 6 ستمبر کو اروناچل پردیش میں بھارت کی جانب واقع واچا کے مقام پر ہوئی، جبکہ مذاکرات کی دوسری اہم ملاقات 7 ستمبر کو چین کی حدود میں واقع دامائی میں منعقد کی گئی۔ یہ مشرقی سیکٹر کی سرحد پر دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے درمیان پہلی باضابطہ کور کمانڈر سطح کی عسکری و سفارتی ملاقات تھی۔

وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں ممالک کے کمانڈروں کے درمیان یہ اہم مذاکرات اپر سبانسری کے متنازع ٹاکسنگ علاقے میں حال ہی میں پیدا ہونے والی عسکری کشیدگی کے پس منظر میں منعقد کیے گئے۔ بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام ملاقاتیں اگست 2025 اور اگست 2026 میں دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں کے درمیان طے پانے والی اعلیٰ سطحی مفاہمت، نیز مئی اور اگست 2026 میں بیجنگ اور نئی دہلی میں منعقدہ ورکنک میکنزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے فیصلوں کے تسلسل کے طور پر عمل میں لائی گئی ہیں۔

رندھیر جیسوال نے پریس کانفرنس کے دوران دو روزہ مذاکرات کے حتمی نتائج یا تفصیلی معاہدے کی فوری معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مغربی سیکٹر میں بھی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اسی نوعیت کا فعال اور مربوط رابطہ موجود ہے، جو سال 2020 میں وادیٔ گلوان میں ہونے والی خونریز عسکری جھڑپوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

بھارت اور چین کے درمیان طویل مشترکہ سرحد پر سرحدی تنازع کے باعث ایل اے سی کے متعدد حساس حصوں پر فوج کی بھاری نفری تعینات رہی ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں کے دوران دونوں ممالک نے باہمی عسکری و سفارتی رابطوں کو تیز کر کے کشیدگی میں کمی لانے اور سفارتی تعلقات کو استوار کرنے کی کاوشیں شروع کر رکھی ہیں۔ بھارتی ترجمان کے مطابق دوطرفہ تعلقات بتدریج مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مذاکرات کا یہ تازہ اور اہم دور چینی صدر شی جن پنگ کے بھارت میں متوقع برکس سربراہی اجلاس کے اہم دورے سے محض چند روز قبل سامنے آیا ہے، جسے خطے میں طاقت کے توازن اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی کوششوں میں انتہائی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی کا تاریخی اعلان

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات اور اشیائے صرف کی درامد پر باضابطہ طور پر مکمل پابندی عائد کرنے سمیت بستیوں کی غیر قانونی توسیع اور پھیلاؤ کے خلاف متعدد سخت اقدامات کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کے روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں خطاط کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ایک انتہائی جامع اور سخت پابندیوں کا بین الاقوامی نظام متعارف کرانے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پابندی کا بنیادی ہدف صرف غیر قانونی طور پر قائم کی گئی اسرائیلی بستیاں اور ان کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، جبکہ اس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ مجموعی یا عمومی دوطرفہ تجارت کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے اپنے سخت ترین موقف کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ برطانوی عوام یہ پسند کریں گے کہ ملک کی مارکیٹوں اور دکانوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع غیر قانونی بستیوں کی مصنوعات بیچ کر فلسطینی سرزمین پر قبضے اور تسلط کی مالی حمایت کی جائے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے بھی مشترکہ اور قومی سطح پر مغربی کنارے کی ان بستیوں کی اشیا پر پابندیاں نافذ کرنے کا باقاعدہ اعادہ کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق ان نئے قانونی اقدامات میں مناسب اور مخصوص مذہبی استثنا بھی شامل رکھا جائے گا، تاہم جو افراد، کمپنیاں یا ادارے ان غیر قانونی بستیوں کی تعمیر یا توسیع میں سہولت کاری فراہم کریں گے، انہیں برطانیہ کی جانب سے انتہائی شدید اقتصادی و سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے اندر مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور ان سے منسلک کاروباری اشتہارات کی نمائش پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمان میں دہرایا گیا کہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے سمیت بستیوں کی یہ مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے تمام سفارتی امکانات کو تباہ کر رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے پارلیمان میں برطانوی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ لندن حکومت مغربی کنارے میں فلسطینی باشندوں کی مسلسل جبری بے دخلی اور خطے کے بگڑتے حالات کو ‘نسلی صفائی’ کے مترادف سمجھتی ہے۔

برطانیہ کے اس فیصلے پر تل ابیب کے حکام کی جانب سے شدید اور تلخ ردِعمل سامنے آیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے بھی برطانوی اقدامات پر تنقید کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حتمی فیصلے کے بعد برطانیہ اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات میں مزید بگاڑ اور شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں


Brent oil prices rise

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی انتہائی حساس توانائی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے تباہ کن ڈرون و میزائل حملوں اور خلیج فارس میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ‘اقتصادی اور عسکری جنگ’ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں متعدد ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس شدید جیو پولیٹیکل بحران کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خطرات گہرے ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق منگل کو تجارتی سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کے بین الاقوامی سودے 1.39 ڈالر یعنی 1.43 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد 98.39 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتے رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی 2.25 ڈالر یعنی 2.46 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا اور یہ 93.73 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

اس سے قبل منڈی میں خرید و فروخت کے دوران برینٹ خام تیل کی اعلیٰ ترین قیمت 99.46 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی، جو کہ 24 جولائی کے بعد سے اب تک کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت دورانِ تجارت بڑھ کر 94.73 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو 8 جون کے بعد کی بلند ترین قیمت شمار کی جا رہی ہے۔

عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اچانک اس بڑے اور غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ سعودی عرب میں حوثیوں کی طرف سے حال ہی میں کیے گئے مربوط عسکری حملے ہیں۔ سعودی حکومت کے باضابطہ بیانات کے مطابق ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں بنیادی انفراسٹرکچر اور اہم توانائی کی تنصیبات ان حملوں کی زد میں آئی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے باعث خطے کے کئی پیدواری یونٹس اور توانائی کی تنصیبات کی سرگرمیاں وقتی طور پر معطل یا متاثر ہو چکی ہیں۔

دوسری طرف ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی باہمی عسکری و معاشی محاذ آرائی نے عالمی تیل کی مارکیٹ کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تہران کی طرف سے امریکی بحری ناکہ بندی اور کارروائیوں کے جواب میں شدید ردِعمل دینے اور خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کی دھمکی سے عالمی سرمایہ کاروں میں تیل اور گیس کی عالمی ترسیل بند ہونے کا شدید خوف پیدا ہو چکا ہے۔

عالمی ایندھن کے اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری راستے سے اِس وقت آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت معمول کے حجم سے کافی کم ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کل فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے ہرمز کے بحری راستے سے ہو کر دنیا بھر کے ممالک تک پہنچتا ہے۔ پینٹاگون کی سینٹرل کمانڈ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان ایک دوسرے کے تیل بردار جہازوں اور عسکری ہدف پر حملوں نے حالات کو بے حد سنجیدہ بنا دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں یہ عسکری ٹکراؤ اور کشیدگی طویل ہوئی تو خام تیل کی فی بیرل قیمت بہت جلد 100 ڈالر کا ہدف عبور کر جائے گی، جس سے عالمی معیشت اور افراطِ زر پر شدید دباؤ آئے گا۔

یمن پر 120 سے زائد سعودی فضائی حملوں کے بعد حوثیوں کا شدید جوابی ردِعمل: سعودی عرب پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین روز کے دوران یمنی سرزمین پر 120 سے زائد سعودی فضائی و بحری حملوں کے ردِعمل میں سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بیلسٹک میزائل اور بارود سے لیس ڈرونز داغے ہیں۔

حوثی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یمنی عسکری دستوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک انتہائی بڑے پیمانے کی ملٹری آپریشنل کارروائی مکمل کی ہے۔ ان کے بقول اس جامع حملے میں درجنوں جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا مربوط استعمال کیا گیا، جن کا بنیادی ہدف سعودی عرب کے اندر قائم مختلف عسکری اڈوں اور حساس معاشی تنصیبات کو بنانا تھا تاکہ حالیہ سعودی بمباری کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

یہ سنسنی خیز پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح باضابطہ آگاہ کیا گیا تھا کہ ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں حوثی حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ریاض حکومت نے خبردار کیا تھا کہ بے گناہ شہریوں اور عام انفراسٹرکچر پر متواتر بمباری کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس عسکری ٹکراؤ سے قبل یمن کے حوثی ابلاغی ادارے ‘المسیرہ’ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ شب صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ‘سینٹرل کریکشنل فیسلٹی’ یعنی مرکزی جیل کو شدید فضائی بمباری کا نشانہ بنایا۔ حوثی حکام کے مطابق تباہ شدہ جیل کے ملبے سے ایک خاتون سمیت 11 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید 20 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حوثیوں کا یہ بھی الزام ہے کہ الجوف کے علاوہ البیضا، مارب، تعز اور الحدیدہ پر بھی کروز میزائلوں سے شدید حملے کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں حوثی عسکری ترجمان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فورسز کے چار جدید ترین جاسوس ڈرونز، جن میں ایک طاقتور سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے، کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا نیا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سعودی عسکری حکام یا سرکاری ذرائع کی جانب سے حوثیوں کے تازہ ترین فضائی و میزائل حملوں، ڈرونز کی تباہی اور جیل پر بمباری کے ان دعوؤں پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر آئس لینڈ سمیت گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکی پرچم میں لپٹا دکھانے کا معاملہ؛ ریکیاوک انتظامیہ نے پوسٹ کو مکمل طور پر نامناسب قرار دے دیا

محمود احمد, September 08,2026

کوپن ہیگن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یورپی ملک آئس لینڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازع اور اشتعال انگیز نقشہ شیئر کیے جانے کے بعد ریکیاوک میں تعینات امریکی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ نقشے میں آئس لینڈ سمیت خطے کے کئی آزاد اور خود مختار ممالک کو امریکی پرچم کے نیچے دکھایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بغیر کسی تحریری وضاحت کے ایک نقشہ شائع کیا، جس میں امریکہ، کینیڈا، گرین لینڈ، آئس لینڈ، میکسیکو، وسطی امریکہ اور کیریبین کے تمام تر جغرافیائی علاقوں کو امریکی پرچم کے اندر ڈھکا ہوا دکھایا گیا تھا، جبکہ اس پورے خطے کو مجموعی طور پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ” کا لیبل دیا گیا تھا۔

اس غیر معمولی واقعے کے بعد آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیرڈور کترین گُنّارسڈوتیر نے نو تعینات شدہ امریکی سفیر بلی لانگ کو ہنگامی بنیادوں پر وزارتِ خارجہ طلب کیا۔ واضح رہے کہ سفیر بلی لانگ نے گزشتہ ماہ ہی آئس لینڈ میں بحیثیت امریکی سفیر اپنی باضابطہ سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

آئس لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے مقامی میڈیا اور نشریاتی اداروں کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران امریکی سفیر پر واضح کیا گیا کہ آئس لینڈ جیسے خود مختار ملک کو امریکہ کے نقشے اور پرچم میں دکھانا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی یہ پوسٹ سفارتی آداب کے منافی اور “مکمل طور پر نامناسب” تھی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ، کوپن ہیگن اور ریکیاوک میں قائم امریکی سفارت خانوں، نیز نوک میں واقع امریکی قونصل خانے نے آئس لینڈ کے اس احتجاج اور طلبی پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی یہ تنازع سے بھرپور تصویر ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب گرین لینڈ اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے حساس معاشی و تزویراتی خطے سے متعلق امریکی صدر کے سابقہ بیانات اور علاقائی خودمختاری کو چیلنج کرنے والے خدشات پر پہلے ہی یورپی و سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا عالمی قوانین، آزادانہ نگرانی اور اے آئی کی سخت ریگولیشن کا فوری مطالبات کے ساتھ زور

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کو موثر کنٹرول میں لانے کے بڑھتے ہوئے عالمی مطالبات کی پرزور حمایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی ضابطے کے بے قابو چھوڑ دیا گیا تو یہ بالآخر “انسانیت کے وجود کے لیے تباہ کن خطرہ” ثابت ہو سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا کہ پابند قوانین، آزادانہ نگرانی اور واضح بین الاقوامی حدود کے بغیر مصنوعی ذہانت کا نظام انسانوں کے قابو سے باہر نکل سکتا ہے۔ انہوں نے اس سنگین خدشے کا اظہار کیا کہ اے آئی سسٹمز اتنے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بنانے والے (ڈویلپرز) بھی ان پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکیں۔

وولکر ترک نے سائنسی امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ای آئی ٹیکنالوجی جو اپنے تجرباتی اور آزمائشی ماحول سے باہر نکل جائے یا بند کیے جانے سے بچنے کے لیے اپنے ہی ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے لگے، انتہائی خطرناک اور حد سے زیادہ طاقتور صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر جامع اور موثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

انہوں نے اے آئی کی ہوسٹنگ کرنے والے اور اس کی عالمی سپلائی چین سے منسلک تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مل کر واضح اور سخت حدود مقرر کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا بھر میں مٹھی بھر افراد اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے پاس مصنوعی ذہانت پر تقریباً لامحدود طاقت اور وسیع ڈیٹا جمع ہو چکا ہے، جو کہ طاقت کا خطرناک ارتکاز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانوں کی خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے غلام بنیں۔ انہوں نے اے آئی کے روزگار، جمہوریت، ماحولیات اور انسانی حقوق پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے متفقہ عالمی اصولوں پر کاربند رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تہران میں ہنگامی پناہ گاہوں اور میٹرو اسٹیشنز کی نشاندہی کے لیے سائن بورڈز نصب کرنے کا بڑا فیصلہ

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

تہران سٹی کونسل کے سربراہ مہدی چمران نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت کے مختلف حساس علاقوں اور بالخصوص معینہ میٹرو اسٹیشنز میں قائم ہنگامی پناہ گاہوں کی واضح نشاندہی کے لیے باقاعدہ سائن بورڈز نصب کیے جائیں گے۔

مہدی چمران نے سٹی کونسل کے اجلاس کے بعد تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کونسل کی حالیہ منظوریوں کی روشنی میں ان تمام تر مقامات پر نمایاں بورڈز لگانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے جنہیں کسی بھی ہنگامی یا جنگی صورتحال میں عوام کی حفاظت کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر مختص کیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو بلا تاخیر معلوم ہو سکے کہ قریب ترین محفوظ ترین مقامات کہاں واقع ہیں۔

سٹی کونسل کے سربراہ نے مزید بتایا کہ پناہ گاہوں کی صلاحیت رکھنے والے تمام میٹرو اسٹیشنز کی فہرست اور تفصیلات سے بھی عوام کو جامع انداز میں آگاہ کیا جائے گا اور وہاں معلوماتی سائن بورڈز اور رہنمائی کے واضح انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔

ایرانی دارالحکومت کی انتظامیہ کا یہ اہم اور تحفظاتی اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ماضی کی جنگوں اور پرتشدد کشیدگی کے دوران تہران کے رہائشیوں نے شہر میں بم پناہ گاہوں کی شدید کمی اور موجودہ محفوظ مقامات تک رسائی کے لیے گائیڈ لائنز یا سائن بورڈز کے نہ ہونے پر گہرے تحفظات اور شکایات کا اظہار کیا تھا۔

مہدی چمران نے اس امر پر زور دیا کہ شہریوں کو ممکنہ خطرات کے دوران اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور درست معلومات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت یا فضائی حملوں کی صورت میں وہ کم سے کم وقت میں ان محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچ سکیں۔ تہران انتظامیہ کے اس قدم سے دارالحکومت کے باشندوں کے تحفظ اور کسی بھی ہنگامی حالت میں فوری ردِعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا قومی امکان

منصور احمد,September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانوی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر قائم اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی تجارتی اشیا کی خرید و فروخت اور درامد پر سخت نئی پابندیاں عائد کرنے کا باقاعدہ اعلان کرنے جا رہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ آج پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے متعلق حکومت کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ اقدامات کی تفصیلی خاکہ پیش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان ممکنہ پابندیوں میں بالخصوص غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی زرعی مصنوعات کی برطانیہ میں تجارت پر مکمل بندش بھی شامل ہو سکتی ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ ہفتے اپنے اہم بیان میں کہا تھا کہ برطانوی حکومت اسرائیل کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات اور تجارتی پالیسی میں ایک جامع تبدیلی لانے کا اعلان کرے گی۔ برطانوی حکومت اس سے قبل بھی مقبوضہ بستیوں کی مسلسل توسیع کی شدید مخالفت کرتی آئی ہے، جبکہ اگست میں برطانوی وزیر خارجہ نے اسرائیل کے متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کو قطعی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ ایسی آبادکاری دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

حکومت کے اس موقف کو اس وقت مزید تقویت ملی جب 7 ستمبر کو برطانوی وزیراعظم نے امیرِ قطر سے اہم گفتگو کے دوران بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غصب شدہ زمینوں پر آبادکاری کے منصوبوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔

دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے لندن کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں کی تجارتی مصنوعات پر کسی بھی قسم کی پابندیاں لاگو کیں تو تل ابیب کی جانب سے فوری اور سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے بھی ممکنہ برطانوی اقدامات کی شدید مخالفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اس حساس معاملے پر واشنگٹن کی طرف سے سخت اور واضح ردِعمل سامنے آئے گا۔

برطانیہ کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ بڑا اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آ رہا ہے جب لندن کی حکومت اسرائیلی آبادکاری کی نئی پالیسی کو خطے میں پائیدار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم پر بستیوں کی توسیع روکنے کے لیے سفارتی و معاشی دباؤ بڑھا رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ٹیلیفونک رابطہ؛ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اسلامی دنیا کے متحد ہونے پر زور

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو ایران کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر فوری اور انتہائی ذمہ دارانہ ردِعمل دینا چاہیے۔

ایرانی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے حسین ابراہیم طٰہٰ کو اسلامی تعاون تنظیم کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے اور سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کی مستقبل کی سفارتی کاوشوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران اس امید کا اظہار کیا کہ نئے سیکریٹری جنرل موجودہ دباؤ اور درپیش عالمی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے تنظیم کے پلیٹ فارم اور اسلامی دنیا کی اجتماعی صلاحیتوں کو مکمل اور مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں گے اور تمام رکن ممالک کے مابین باہمی اتحاد، سفارتی رابطے اور کثیر الجہتی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

اس اہم رابطے میں عباس عراقچی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو خطے میں امریکی اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایران کے خلاف ہونے والی مبینہ عسکری جارحیت اور اس کے بعد کی انتہائی حساس علاقائی صورتحال سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کی پامالی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے اسلامی دنیا کی جانب سے ایک مربوط، متفقہ اور جرات مندانہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے موجودہ سنگین بحران کے تناظر میں اسلامی ممالک پر باہمی مشاورت کو تیز کرنے اور یکجہتی کے پیغام کو عالمی سطح پر عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

ایران کا خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کا بڑا اعلان: امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف عسکری حکمتِ عملی تبدیل

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر میجر جنرل محسن رضائی نے خلیج فارس میں ایک بڑا عسکری و معاشی قدم اٹھاتے ہوئے سمندری ‘ممنوعہ زون’ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو حالیہ دنوں میں ایران کے جدید اور موثر میزائل تجربات کے ذریعے واضح اور دوٹوک پیغام پہنچایا جا چکا ہے، جس کے بعد تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں اور خطے میں قائم امریکی عسکری اڈوں کے خلاف اپنی تمام تر آپریشنل حکمتِ عملی اور پوزیشن کو بنیادی طور پر یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک خاص اور اہم بیان میں میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مسلط کردہ معاشی جنگ اور بحری ناکہ بندی کا موثر جواب دینے کے لیے ایران خلیج فارس کے حساس پانیوں میں ایک خصوصی ‘سمندری ممنوعہ زون’ قائم کر رہا ہے جو امریکی بحری ناکہ بندی کی آخری حدود تک پھیلا ہوا ہوگا۔

ایرانی حکام کے باضابطہ موقف کے مطابق تہران آنے والے چند دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کے باہر اس نئے ممنوعہ اور محدود بحری زون کے حتمی جغرافیائی حدود کا باقاعدہ اعلان کرے گا۔ یہ زون امریکی بحری ناکہ بندی کی قائم کردہ لائن سے شروع ہو کر خلیج فارس کے انتہائی اہم حصوں تک محیط ہوگا، جبکہ تہران نے متنبہ کیا ہے کہ اس زون میں پیشگی اجازت کے بغیر داخل ہونے والے تمام تر تجارتی و عسکری بحری جہازوں کو ایرانی بلیک لسٹ اور سخت ترین پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

یہ سنگین اور پیش رفت سے بھرپور بیان ایک ایسے موڑ پر سامنے آیا ہے جب خطے کے سمندری محاذ پر امریکہ اور ایران کی افواج کے مابین براہِ راست اور خونریز تصادم کے خطرات ڈرامائی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ دنوں میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل داغے تھے، تاہم پینٹاگون کے مطابق دونوں امریکی عسکری جہاز ان حملوں سے محفوظ رہے اور ان کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جب کہ اس کے برعکس تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلی بار کامیابی کے ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ میزائلوں سے امریکی بحری ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایرانی اقدامات کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور امریکی فوج ایران کو ہر امریکی جہاز پر حملے کے بدلے تین گنا معاشی قیمت چکانے پر مجبور کرے گی۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستے پر بننے والی اس شدید جنگی صورتحال، املاک کی تباہی اور ممکنہ ناکہ بندی نے عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی اور بحری آمدورفت کی سلامتی پر شدید خطرات کے بادل منڈلا دیے ہیں۔

حوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی: سعودی عرب کا سخت ردِعمل، شدید مذمت

محمود احمد, September 08,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جنوبی مملکت کے اہم شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری آبادی اور حساس اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سنگین واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان پرتشدد اور بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور اہم اعلامیے کے مطابق، حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آ کر جنوبی سعودی عرب کے مختلف اور اہم حصوں میں واقع توانائی اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی حکام نے ان کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک عسکری کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور قومی مفادات کی ہمہ وقت حفاظت کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ حوثی ملیشیا نہ صرف زمینی اہداف بلکہ بحیرۂ احمر جیسے اہم ترین تجارتی راستے پر بھی تجارتی بحری جہازوں کو مسلسل اور منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے، جس سے بین الاقوامی بحری آمدورفت اور آزادانہ سمندری تجارت کی سلامتی کو کھلے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے حوثیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان مخالفانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں اور تجارت کو مفلوج کرنے سے باز رہیں۔

اعلامیے کے مطابق، ریاض حکومت یمن کے ساتھ ساتھ اپنے تمام عرب اور اسلامی ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور پائیدار استحکام کو داؤ پر لگانے والے حوثی گروپ کے کسی بھی جارحانہ قدم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ بیان میں حوثیوں کی طرف سے خطے میں امن کی مسلسل کوششوں کو ناکام بنانے اور بات چیت کو معطل کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

سعودی حکومت نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مملکت کو اپنی جغرافیائی خودمختاری کے تحفظ، قومی وسائل کی سلامتی اور ملک میں موجود تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا آئینی و بین الاقوامی حق حاصل ہے۔ ریاض نے باور کرایا کہ اپنی سرزمین پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کی کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت میں بھرتیوں کا نظام جدید اور شفاف بنانے کی منظوری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اصلاحاتی رپورٹ منظور کر لی

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وفاقی حکومت میں سرکاری ملازمین کی بھرتی کے موجودہ نظام میں اصلاحات لانے اور ‘نیشنل جاب پورٹل’ کو مزید جامع و مؤثر بنانے کے لیے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کا دوسرا اور حتمی اجلاس منعقد ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم اجلاس میں کمیٹی کی طرف سے وفاقی وزارتی و انتظامی محکموں میں بھرتیوں کے نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پورٹل کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر مبنی تفصیلی کام کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے کمیٹی کی کارکردگی اور تجاویز کو سراہتے ہوئے حتمی رپورٹ کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ اجلاس کے دوران جن اہم تکنیکی و انتظامی امور پر غور و خوض کیا گیا، ان تمام قیمتی تجاویز کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے تاکہ منظوری کے لیے حتمی مسودہ فوری طور پر وزیراعظم پاکستان کو پیش کیا جا سکے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان مجوزہ اصلاحات کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت میں بھرتی کے عمل کو مکمل شفاف، میرٹ پر مبنی، تیز رفتار اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام تر اصلاحات کے باوجود بھرتیوں کا حتمی اختیار حکومت کے پاس ہی برقرار رہے گا، تاہم تمام تر نظام کو جدید ڈیجیٹل سہولیات سے لیس کر کے زیادہ باصلاحیت اور فعال بنایا جائے گا۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹری کابینہ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ وزراتوں و اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستان اور کویت کا دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کویتی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ایک انتہائی اہم اور تفصیلی ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں کثیر الجہتی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو میں پاکستان اور کویت کے تاریخی دوطرفہ تعلقات، تجارتی و معاشی شراکت داری، اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں میں جاری پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا۔

گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی، خطے کی تازہ ترین صورتحال اور عالمی سطح پر ہونے والی اہم سیاسی و سفارتی پیش رفتوں کے حوالے سے اپنے خیالات اور مواقف کا تبادلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے باہمی مشاورت کے عمل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار اور شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطوں اور تعمیری مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ رواں ماہ نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایک باقاعدہ دوطرفہ تفصیلی ملاقات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ حالیہ رابطہ پاکستان اور کویت کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی برادرانہ تعلقات، پائیدار اعتماد اور دوطرفہ تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا واضح مظہر ہے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے: بچوں اور طبی عملے کے اہلکار سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

محمود احمد, September 07,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے تاریخی اور گنجان آباد قصبے کفر رمان پر اسرائیلی جیٹ طیاروں کی شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے، چار خواتین اور امدادی کاموں میں مصروف ایک طبی اہلکار بھی شامل ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق نبطیہ کے قریب کفر رمان میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 8 شدید زخمی ہوئے، جن میں تین معصوم بچے اور ایک طبی امدادی کارکن شامل ہے۔ اس حملے کے فوراً بعد ایک اور کارروائی کے دوران سڑک پر جاتی ہوئی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں مزید ایک طبی اہلکار ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی عسکری حکام نے فضائی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد خفیہ اور متحرک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی عسکری ترجمان کے مطابق یہ شدید کارروائیاں اسرائیلی فوجیوں پر حزب اللہ کی جانب سے بارود سے لدے دو ڈرون بھیجے جانے کے فوری جواب میں کی گئیں تاکہ درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ خونریز فضائی حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنوبی لبنان میں رواں سال جون میں طے پانے والے نازک جنگ بندی معاہدے کے باوجود سرحدی کشیدگی روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی بمباری کو خطرناک ترین عسکری پیش رفت قرار دیتے ہوئے امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت اور سفارتی اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

لبنانی حکومت نے اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدے کی متواتر خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ اسرائیل ان کارروائیوں کو اپنا دفاعی حق قرار دے رہا ہے۔ سرحد پر بڑھتی ہوئی مسلسل پرتشدد کارروائیوں نے خطے میں ایک نئی، مکمل اور وسیع تر جنگ کے خدشات کو انتہائی شدید کر دیا ہے۔