بنگلہ دیش کے شہر کاکس بازار میں شدید مون سون بارشیں؛ روہنگیا مہاجر کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

محمود احمد, JULY 06,2026

ڈھاکہ/کاکس بازار (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

بنگلہ دیش کے ساحلی شہر کاکس بازار میں شدید ترین مون سون بارشوں کی تباہ کاریوں کے باعث مختلف مقامات پر قائم روہنگیا مہاجر کیمپوں میں مقتدر لینڈ سلائیڈنگ کے دلدوز واقعات پیش آئے ہیں، جن کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت 8 روہنگیا مسلمان جاں بحق اور متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، مقتدر سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ کاکس بازار کے چار مختلف کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ اس وقت ہوئی جب لوگ رات کے وقت گہری نیند سو رہے تھے اور پہاڑی مٹی کا بھاری ملبہ اچانک ان کی عارضی رہائشی جھونپڑیوں پر آ گرا۔ کاکس بازار پولیس کی مقتدر اہلکار تمپا داس نے میڈیا کو بتایا کہ ان افسوسناک واقعات میں اب تک 8 روہنگیا مہاجرین کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اسی دوران ایک الگ واقعے میں کاکس بازار ہی کے ایک مقامی علاقے میں پہاڑی کا ایک بڑا حصہ رہائشی مکان پر گرنے سے ایک بنگلہ دیشی شہری بھی جاں بحق جبکہ اس کے خاندان کے 2 افراد شدید زخمی ہوئے۔

روہنگیا مہاجرین کی امداد اور وطن واپسی کے امور کے مقتدر بنگلہ دیشی کمشنر محمد میزان الرحمٰن نے ہنگامی صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ مسلسل اور طوفانی بارشوں کے باعث خطے میں مزید لینڈ سلائیڈنگ کا سنگین تزویراتی خطرہ برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے ہزاروں روہنگیا مہاجرین کو انتہائی خطرناک اور ڈھلوان علاقوں سے ہٹا کر فوری طور پر محفوظ مقامات اور عارضی کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں بالخصوص ساحلی پٹی پر مزید موسلا دھار بارشوں کی پیشنگوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے نئی لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے مقتدر خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ ریلیف اداروں اور مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی سخت تزویراتی ہدایت جاری کر دی ہے۔

میگا ایونٹ کی تاریخ میں ناروے پہلی بار کوارٹر فائنل میں داخل؛ میچ میں ایرلنگ ہالینڈ کے دو شاندار گول، ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ٹوٹنے پر نیمار جونیئر آبدیدہ

محمود احمد, JULY 06,2026

نیو جرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور حیران کن پری کوارٹر فائنل میچ میں ناروے کے ہاتھوں شکست کے بعد پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے، جس کے فوراً بعد برازیل کے مقتدر اور عالمی شہرت یافتہ اسٹار فٹبالر نیمار جونیئر نے بین الاقوامی فٹبال سے ہمیشہ کے لیے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیو جرسی کے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس تاریخی معرکے میں ناروے نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے برازیل کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر میگا ایونٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوارٹر فائنل میں جگہ پکی کر لی۔

میچ میں ناروے کی فتح کے ہیرو مقتدر اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ رہے، جنہوں نے کھیل کے آخری لمحات میں برازیلی دفاع کو تہس نہس کرتے ہوئے دو شاندار گول داغے۔ ایرلنگ ہالینڈ نے پہلا گول 79 ویں منٹ میں اسکور کیا، جبکہ دوسرا اور فیصلہ کن گول کھیل کے بالکل اختتام یعنی 90 ویں منٹ میں کر کے اپنی ٹیم کی جیت یقینی بنائی۔ دوسری جانب، برازیل کی طرف سے واحد اور تسلی بخش گول میچ کے آخری لمحات میں نیمار جونیئر نے پنالٹی کک پر اسکور کیا، تاہم وہ اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر ہونے سے نہ بچا سکے۔

اس غیر متوقع شکست کے بعد ورلڈ کپ جیتنے کا تزویراتی خواب چکنا چور ہونے پر نیمار جونیئر میدان میں ہی رو پڑے اور بعد ازاں بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 34 سالہ نیمار نے برازیلین صحافی سے انتہائی جذباتی گفتگو میں کہا کہ “میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، میرا بین الاقوامی کیریئر سال 2010ء میں اسی اسٹیڈیم میں شروع ہوا تھا اور آج میں نے یہیں اس کا اختتام کیا ہے؛ اب یہ سب ختم ہو چکا ہے”۔ واضح رہے کہ نیمار نے برازیل کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ 10 اگست 2010ء کو نیو جرسی میں ہی امریکہ کے خلاف کھیلا تھا۔ نیمار اپنے شاندار بین الاقوامی کیریئر کا اختتام برازیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ 80 بین الاقوامی گول کرنے والے مقتدر کھلاڑی کے طور پر کر رہے ہیں، جو فٹبال کے عظیم لیجنڈ پیلے سے 3 گول زیادہ ہیں۔

افغان رجیم کا اندرونی خلفشار اور بگڑتی سکیورٹی صورتحال بے نقاب؛ ننگرہار میں طالبان کے مقامی کمانڈر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

محمود احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

افغان رجیم کے اندرونی شدید خلفشار اور روز بروز بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال نے طالبان کے نام نہاد امن و استحکام کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ مقتدر ذرائع اور موصولہ تفصیلات کے مطابق، افغان طالبان رجیم جہاں ایک طرف عام افغان عوام کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف وہ اپنے ہی اہم افغان کمانڈرز کی حفاظت کو یقینی بنانے سے بھی قاصر نظر آتی ہے۔ معروف بین الاقوامی افغان جریدے ’دی افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق، ننگرہار کے ضلع چپرحار میں جمعہ کے روز افغان طالبان کے ایک مقتدر مقامی کمانڈر کو نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر، افغان طالبان نے اس کمانڈر کے قتل کے مبینہ شبہ میں اس کے سگے بھائی کو ہی گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، مقتول افغان کمانڈر کی شناخت ‘مسافر’ کے نام سے ہوئی ہے۔ جریدے کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مقتول کمانڈر چند روز کی چھٹی گزارنے کے لیے اپنے آبائی گھر گیا ہوا تھا، جہاں اسے نشانہ بنایا گیا۔ دفاعی و سیاسی ماہرین کے مطابق، حالیہ چند مہینوں میں افغان طالبان کمانڈرز پر ہونے والے ان قاتلانہ حملوں کے بڑھتے ہوئے مقتدر واقعات دراصل افغانستان کے داخلی شدید اختلافات، مقامی مسلح مزاحمت اور مجموعی طور پر سکیورٹی کی بدترین و ناگفتہ بہ صورتحال کے کھلے عکاس ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت افغان طالبان رجیم کو بیک وقت اندرونی بغاوت، بڑھتے ہوئے گوریلا حملوں اور سنگین ترین داخلی سکیورٹی بحران جیسے تزویراتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ننگرہار میں طالبان کمانڈر مسافر کی یہ ہلاکت اس بات کا واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ موجودہ طالبان رجیم کے خلاف دبی دبی نفرت اب افغان عوامی سطح پر شدید ترین اختیار کر چکی ہے، جس سے خطے کے امن کو نئے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

کرسٹیانو رونالڈو کی انسان دوستی؛ وینزویلا کے زلزلے سے متاثرہ یتیم اور معذور بچے کے لیے خصوصی ویڈیو پیغام اور میچ دیکھنے کی دعوت

محمود احمد, JULY 05,2026

میامی/کاراکاس (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ مقتدر فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے انسان دوستی اور ہمدردی کی ایک اور لازوال مثال قائم کرتے ہوئے وینزویلا میں آنے والے حالیہ تباہ کن زلزلے سے متاثرہ ایک معصوم بچے کے لیے خصوصی جذباتی پیغام جاری کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، وینزویلا میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اندریس میلس نامی بچہ ملبے تلے دب کر اپنے والدین کو ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھا تھا، جبکہ وہ خود بھی اس حادثے میں شدید زخمی ہوا اور اس کی جان بچانے کے لیے اطباء کو اس کی ایک ٹانگ بھی کاٹنا پڑی۔

اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج اور کٹھن حالات سے گزرنے والے معصوم اندریس میلس نے سوشل میڈیا کے ذریعے کرسٹیانو رونالڈو سے ان کا دستخط شدہ ٹریڈنگ کارڈ دینے کی معصومانہ درخواست کی تھی تاکہ وہ اس مشکل گھڑی میں اپنا حوصلہ برقرار رکھ سکے۔ جب یہ دل دہلا دینے والی خواہش عالمی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو تک پہنچی تو انہوں نے فوری مقتدر ردِعمل دیتے ہوئے اندریس کے لیے ایک خصوصی ویڈیو پیغام ریکارڈ کرایا، جس میں انہوں نے نہ صرف لڑکے کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا بلکہ اسے ذاتی طور پر اپنے ایک میچ میں شرکت کی مقتدر دعوت بھی دے دی ہے۔

کرسٹیانو رونالڈو نے اپنے پیغام کے ذریعے دنیا بھر میں انسانیت اور باہمی ہمدردی کا ایک خوبصورت تزویراتی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “ہیلو اندریس! امید ہے تم خیریت سے ہو۔ میں یہ ویڈیو تمہیں ایک بھرپور محبت بھرا سلام بھیجنے کے لیے بنا رہا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تم میرے بہت بڑے مداح ہو اور میری دعا ہے کہ تم جلد مکمل صحت یاب ہو جاؤ۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ تم میرے کسی لائیو میچ میں آؤ تاکہ ہم دونوں مل کر اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔ میں تم سے ذاتی طور پر ملنے کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں، ہمت مت ہارنا میرے دوست۔” پرتگالی کپتان کے اس مقتدر اور ہمدردانہ اقدام کو عالمی و سماجی میڈیا پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور دنیا بھر میں ان کے مداح اسے کھیل کی دنیا سے بڑھ کر حقیقی انسانیت کی ایک بہترین اور روشن مثال قرار دے رہے ہیں۔

وزارت مذہبی امور کا گزشتہ سال کے پرائیویٹ حجاج کرام سے فیڈ بیک طلب؛ شکایات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے بیس جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر

روزینہ اسماعیل, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے گزشتہ سال نجی اسکیم کے تحت فریضۂ حج ادا کرنے والے پرائیویٹ حجاج کرام سے ان کے حج آرگنائزرز (منظم) اور شیئر ہولڈر کمپنیوں کے حوالے سے باقاعدہ فیڈ بیک طلب کر لیا ہے۔ اتوار کے روز وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفیکیشن کے مطابق، تمام پرائیویٹ حجاج کرام اپنی متعلقہ حج کمپنیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایات، تحفظات، اعتراضات یا تعمیری تجاویز آئندہ بیس جولائی تک وزارت کو جمع کروا سکتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا ہے کہ حجاج کرام اپنی دستخط شدہ شکایات کو لازمی طور پر پختہ ثبوتوں اور دستاویزی شواہد کے ساتھ وزارت کے متعلقہ حکام کو ارسال کریں۔

وزارتِ مذہبی امور کے مطابق، موصول ہونے والی تمام شکایات اور فیڈ بیک کی مکمل جانچ پڑتال طے شدہ سرکاری طریقہ کار اور میرٹ کے مطابق کی جائے گی، جبکہ نجی منظم اور شیئر ہولڈر کمپنیوں کے مستقبل کے حج لائسنسوں کا حتمی فیصلہ ان کی اسی سالانہ کارکردگی اور حجاج کے اطمینان کی بنیاد پر ہوگا۔ ترجمان نے پُرعزم الفاظ میں بتایا کہ ان موصولہ شکایات کو حج کمپنیوں کے لائسنسوں کی ری ویلیڈیشن، سالانہ تجدید اور خلاف ورزی کی صورت میں منسوخی کے مقتدر عمل کے دوران بنیادی معیار کے طور پر مدنظر رکھا جائے گا۔

ترجمان نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ مذہبی امور نے حجاج کے حقوق کے تحفظ کے لیے پہلے ہی تمام منظم اور شیئر ہولڈر کمپنیوں سے پانچ فیصد پرفارمنس گارنٹی حاصل کر رکھی ہے۔ پرائیویٹ حجاج کرام اپنی تمام تحریری شکایات بذریعہ ڈاک یا وزارت کے باقاعدہ ای میل ایڈریس پر بیس جولائی دو ہزار چھبیس تک ہر صورت ارسال کر دیں۔ وزارتِ مذہبی امور نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ بیس جولائی کی مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد موصول ہونے والی کوئی بھی شکایت یا اعتراض قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں ہوگا اور نہ ہی اس پر کوئی انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈز کا اعلان، بابر اعظم کپتان مقرر

محمود احمد, JULY 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے اہم دوروں کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈز کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے کمیٹی کے دیگر اراکین اسد شفیق اور سابق مقتدر کپتان مصباح الحق کے ہمراہ اسکواڈز کا اعلان کیا۔ پی سی بی حکام کے مطابق، مقتدر بیٹر بابر اعظم دونوں اہم ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی ٹیم کے کپتان ہوں گے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے سولہ رکنی جبکہ انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے سترہ رکنی اسکواڈ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل کو فٹنس سے مشروط طور پر انگلینڈ کے دورے کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، تاہم وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کا حصہ نہیں ہوں گے۔

سلیکشن کمیٹی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے چار نئے کھلاڑیوں کو پہلی بار ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کر کے موقع دیا ہے، جن میں بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان، دائیں ہاتھ کے بیٹر محمد اویس ظفر، دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر عبید شاہ اور وکٹ کیپر بیٹر محمد غازی غوری شامل ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف سولہ رکنی اسکواڈ میں بابر اعظم (کپتان)، عامر جمال، عبداللہ فضل، علی عثمان، اذان اویس، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد علی، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد اویس ظفر، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)، ساجد خان، سلمان علی آغا، شان مسعود اور عبید شاہ شامل ہیں، جبکہ انگلینڈ کے خلاف سترہ رکنی اسکواڈ میں ان تمام کھلاڑیوں کے ساتھ سعود شکیل فٹنس کلیئرنس سے مشروط طور پر ٹیم کا حصہ بنیں گے۔

شیڈول کے مطابق، پاکستان ٹیم اپنے بین الاقوامی دورے کا آغاز ویسٹ انڈیز سے کرے گی، جہاں پہلا ٹیسٹ پچیس سے انتیس جولائی تک برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹرابا میں جبکہ دوسرا ٹیسٹ دو سے چھ اگست تک کوئنز پارک اوول، پورٹ آف اسپین میں کھیلا جائے گا۔ اس کے بعد قومی ٹیم انگلینڈ کا رخ کرے گی، جہاں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ انیس سے تئیس اگست تک لیڈز، دوسرا ستائیس سے اکتیس اگست تک لارڈز اور تیسرا نو سے تیرہ ستمبر تک برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران عاقب جاوید نے واضح کیا کہ وہ اور اسد شفیق گزشتہ اٹھارہ ماہ سے سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہیں، جبکہ مصباح الحق اور سرفراز احمد کو کمیٹی میں شامل ہوئے چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے تینوں فارمیٹس کے تقاضے بالکل مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو الگ انداز سے جانچ کر میرٹ پر ٹیموں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان طویل ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ کے خاتمے پر تفصیلی تبادلۂ خیال

منصور احمد, JULY 05,2026

واشنگٹن/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ایک گھنٹہ پچیس منٹ طویل ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں یوکرین جنگ کی تازہ صورتحال اور اس سے متعلق اہم پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، کریملن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ اہم رابطہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو کے آئندہ سربراہی اجلاس سے ٹھیک پہلے ہوا ہے۔ روسی صدر کے معاون برائے خارجہ امور یوری اوشاکوف نے تصدیق کی ہے کہ گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے یوکرین محاذ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اس دیرینہ تنازعے کے پرامن اور حتمی خاتمے میں مدد فراہم کرنے کی باقاعدہ پیشکش کی ہے۔

روسی حکام کے مطابق، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی ماسکو کے دورے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے اور وہ اس سلسلے میں اگست کے اختتام سے پہلے روس کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم اس سفارتی دورے کی حتمی تاریخوں کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب، یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکی یومِ آزادی کی تعطیل کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے، جسے انہوں نے انتہائی تعمیری اور اچھی قرار دیا۔ یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کا حقیقی امکان موجود ہے اور اس عظیم مقصد کے لیے امریکی عزم فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس ہفتے ترکیہ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے موقع پر بات چیت کا یہ تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

واضح رہے کہ نیٹو کا چھتیسواں سربراہی اجلاس سات اور آٹھ جولائی دو ہزار چھبیس کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور یورپی دفاعی منصوبوں جیسے اہم جغرافیائی و سیاسی معاملات میز پر ہوں گے۔ نیٹو حکام کے مطابق، یوکرینی صدر زیلنسکی اتحاد کے رہنماؤں کے خصوصی عشائیے میں تو شرکت کریں گے لیکن وہ مرکزی اجلاس کا حصہ نہیں ہوں گے، تاکہ یوکرین کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سفارتی اختلاف یا کشیدگی سے بچا جا سکے۔

روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف کا اہم بیان؛ آبنائے ہرمز ایران کے لیے جوہری ہتھیار جیسا اسٹریٹجک اثاثہ ہے

محمود احمد, JULY 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے بین الاقوامی جہاز رانی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کے پاس باب المندب کی صورت میں ایک اہم ’بیک اپ ہتھیار‘ موجود ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، روس کے سابق صدر اور وزیرِ اعظم دیمتری میدویدیف، جو ان دنوں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران کے دورے پر ہیں، نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک ایسا اسٹریٹجک اثاثہ ہے جس کا موازنہ جوہری ہتھیار سے کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ باب المندب کی آبنائے یمن، جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے جو خلیجِ عدن کو بحیرہ احمر اور نہرِ سویز سے ملاتی ہے۔ دیمتری میدویدیف نے دنیا کو متنبہ کیا کہ اگر خطے میں کوئی وسیع تر علاقائی تنازعہ جنم لیتا ہے تو اس صورت میں باب المندب کے ذریعے ہونے والی عالمی جہاز رانی میں شدید خلل پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ صورتحال اس نہج تک نہیں پہنچے گی، تاہم خطے میں جنگ اور تنازعات کے خواہشمند تمام ممالک کو ایران کی اس تزویراتی صلاحیت کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔ واضح رہے کہ یمن میں ایران کے ہمدرد حوثی جنگجوؤں نے پہلے بھی باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی اور گزشتہ ماہ آٹھ جون کو بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کا کاشغر میں این ایل سی کے لاجسٹکس مرکز کا دورہ؛ پاک چین تجارت اور رابطوں کے فروغ میں این ایل سی کا کردار قابلِ تحسین قرار

محمود احمد, JULY 05,2026

کاشغر/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کاشغر میں نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کے لاجسٹکس مرکز کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہیں این ایل سی کی سرحد پار لاجسٹکس سرگرمیوں، جدید ترین آپریشنز اور فراہم کردہ سہولیات پر ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، کاشغر اور تاشکرگن میں این ایل سی کی جانب سے قائم کردہ یہ جدید سہولیات پاک چین دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ مراکز چین، وسطی ایشیائی ممالک بشمول قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور دیگر عالمی منڈیوں تک تجارتی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل میں بہترین معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

سفارت خانہ پاکستان کے مطابق، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے عظیم منصوبے کی کامیابی میں این ایل سی کا مؤثر اور کلیدی کردار مسلسل جاری ہے۔ این ایل سی نے اس تجارتی نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کے لیے چین میں سو فیصد ملکیتی لاجسٹکس کمپنی بھی قائم کر رکھی ہے، جبکہ این ایل سی کے بیڑے میں شامل جدید ترین گاڑیاں پاک چین تجارتی روابط کو روز بروز مزید مضبوط بنانے میں مصروفِ عمل ہیں۔ کارپوریشن کی یہ بین الاقوامی خدمات پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تجارتی روابط کو ایک بالکل نئی اور مضبوط جہت دے رہی ہیں۔ اس موقع پر چین میں متعین پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے این ایل سی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ پاک چین تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں این ایل سی کا یہ مقتدر کردار بلاشبہ انتہائی قابلِ تحسین اور ملکی معیشت کے لیے اہم ہے۔

کارگل جنگ کے ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یومِ شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، ملک بھر میں خصوصی دعائیں

کاشف عباسی , JULY 05,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

کارگل جنگ کے عظیم ہیرو اور نشانِ حیدر پانے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یومِ شہادت آج ملک بھر میں انتہائی عقیدت، مقتدر احترام اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اس اہم موقع پر ملک بھر کی مساجد میں شہدائے وطن کے بلندیِ درجات، مغفرت اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، بقا اور تزویراتی استحکام کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ مساجد اور مقتدر فورمز پر علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور دیگر شہداء کی دفاعِ وطن کے لیے پیش کی جانے والی لازوال قربانیوں پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

علماء کرام نے اپنے خطبات اور بیانات میں اس بات پر خصوصی زور دیا کہ وطنِ عزیز کی حفاظت اور جغرافیائی حدود کے دفاع کے لیے اپنی معزز جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء پوری قوم کا حقیقی سرمایۂ افتخار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہداء کی یہ عظیم قربانیاں قوم کی اجتماعی ذمہ داری اور ایک مقدس امانت ہیں، جنہیں کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی دانشوروں کا کہنا تھا کہ شہدائے پاکستان کی ان بے مثال قربانیوں نے ہی وطن کے امن، بقا، آزادی اور ملکی استحکام کو ہمیشہ کے لیے مضبوط اور مقتدر بنیادیں فراہم کی ہیں، کیونکہ زندہ اور باوقار قومیں اپنے مقتدر شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھتی ہیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ جو قومیں اپنے شہداء کے لہو اور ان کی تزویراتی قربانیوں کی قدر کرتی ہیں، وہ دنیا میں ہمیشہ عزت، اتحاد اور پائیدار استحکام کی راہ پر گامزن رہتی ہیں۔ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی پاک فوج میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جرات، بے پناہ بہادری اور حب الوطنی کی ایک ایسی روشن مثال قائم کی ہے جو ہماری آنے والی تمام نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ علماء نے عزم ظاہر کیا کہ شہداء کی یہ لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور بلند قومی وقار کی سب سے مضبوط اور پُرعزم علامت ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات؛ باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ

محمود احمد, JULY 04,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، روابط، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی سطح پر تعلقات سمیت پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام اہم پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیان میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بتایا کہ تاریخی شہر استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ان کے لیے باعثِ مسرت اور بڑا اعزاز تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ملاقات کے دوران اس مشترکہ یقین کا اعادہ کیا گیا کہ مختلف علاقائی و عالمی اختلافات کے پائیدار حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد مؤثر اور دیرپا راستہ ہیں۔ انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کی پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک نے اپنی شراکت داری کی بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارت کے حجم کو پانچ ارب امریکی ڈالر کے متفقہ ہدف تک پہنچانے کے پُرعزم عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔

اپنے دورے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے استنبول میں منعقدہ پاکستان–ترکیہ بزنس کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں انہیں ترکیہ کی متحرک کاروباری برادری کے ممتاز نمائندوں سے تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے ترک تاجروں کے پُرعزم جذبے، جدت اور کاروباری صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے ان کے اس یقین کو مزید تقویت ملی ہے کہ صدر رجب طیب اردوان کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی و تجارتی شراکت داری اب ایک نئے، مضبوط اور روشن دور میں داخل ہو رہی ہے۔

تہران: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گئے

منصور احمد, JULY 03,2026

تہران/راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔ تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آمد کے موقع پر ایران کے وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ اور پاسدارانِ انقلاب سمیت اعلیٰ سول و ملٹری حکام نے پاکستانی وفد کا پرتپاک اور مقتدر استقبال کیا۔

اس مقتدر دورے کے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ایرانی قیادت، مقتدرہ کے ارکان اور سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ حکومتِ پاکستان، افواجِ پاکستان اور ملک کے غیور عوام کی جانب سے برادر ملک ایران کو اس گہرے صدمے پر تعزیت کا مقتدر پیغام پہنچائیں گے اور اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی جانب سے مکمل تزویراتی یکجہتی اور مقتدر حمایت کا اعادہ کریں گے۔ یہ دورہ پاک ایران تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستانی فیکلٹی کے لیے جنوبی کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی پریذیڈنٹ فیلوشپ اسکالرشپ 2027 کے لیے درخواستیں طلب کر لیں

روزینہ اسماعیل, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستانی جامعات کے تدریسی و فیکلٹی اراکین کے لیے جنوبی کوریا کی ممتاز سیول نیشنل یونیورسٹی کے مقتدر “پریذیڈنٹ فیلوشپ اسکالرشپ پروگرام” برائے اسپرنگ دو ہزار ستائیس کے تحت باقاعدہ درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے مطابق، یہ تزویراتی اسکالرشپ جمہوریہ کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے، جس کے لیے صرف پاکستانی جامعات کے فیکلٹی ممبران ہی درخواست دینے کے مقتدر اہل ہوں گے۔ خواہشمند اور اہل فیکلٹی اراکین کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی مدت چھ جولائی سے نو جولائی دو ہزار چھبیس تک مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد پورٹل بند کر دیا جائے گا۔

ایچ ای سی نے اپنے مقتدر اعلامیے میں واضح کیا ہے کہ وہ اس اسکالرشپ کی معلومات صرف سرکاری سفارتی ذرائع سے موصول ہونے کے بعد عام کر رہا ہے، جبکہ امیدواروں کے حتمی انتخاب، داخلے اور اسکالرشپ کی منظوری کا مکمل تزویراتی اختیار صرف سیول نیشنل یونیورسٹی کے پاس محفوظ ہوگا۔ اعلان کے مطابق، اس اسکالرشپ کے تحت ترقی پذیر ممالک کی جامعات میں خدمات انجام دینے والے ایسے تدریسی و تحقیقی فیکلٹی اراکین درخواست دے سکتے ہیں جو ابھی پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں رکھتے اور سیول نیشنل یونیورسٹی میں اسپرنگ دو ہزار ستائیس سیشن کے لیے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ حاصل کرنے کی تمام مطلوبہ مقتدر شرائط پوری کرتے ہوں۔

اس مقتدر فیلوشپ کے تحت منتخب ہونے والے خوش نصیب امیدواروں کو یونیورسٹی کی جانب سے مکمل ٹیوشن فیس، معقول ماہانہ وظیفہ، بین الاقوامی فضائی سفر کا ٹکٹ اور دیگر تمام مقتدر سفری و تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے دلچسپی رکھنے والے تمام ملکی امیدواروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ آن لائن درخواست دینے سے قبل اسکالرشپ کی اہلیت، شرائط اور درخواست کے پیچیدہ طریقہ کار کا بغور مطالعہ کر لیں اور کسی بھی تزویراتی غلطی سے بچنے کے لیے مقررہ مدت کے اندر اندر اپنی درخواستیں کامیابی سے جمع کرائیں۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت کی ملاقات، صحت کے شعبے میں تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال

روزینہ اسماعیل, JULY 03,2026

جنیوا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے ایک اہم تزویراتی ملاقات کی ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ صحت کی طرف سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس ملاقات کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان گہرے برادرانہ اور تاریخی تعلقات موجود ہیں، جنہیں اب صحت کے شعبے میں مقتدر تعاون کے ذریعے مزید وسعت دی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملاقات کے دوران پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کو ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ویکسین سازی کی قومی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے عملی اور تزویراتی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین مقصد کے حصول کے لیے انڈونیشیا پاکستان کا ایک کلیدی اور قابلِ اعتماد ترقیاتی شراکت دار ہے، اور پاکستان انڈونیشیا کی جدید طبی ٹیکنالوجی اور وسیع تجربات سے بھرپور استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ملاقات میں پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی کی اب تک کی پیش رفت اور اس ضمن میں جاری حکومتی اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال کے مقتدر عزم کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی، جدید طبی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی استعدادِ کار میں اضافے کے حوالے سے ہر ممکن تزویراتی تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں وزرائے صحت نے اس پُرعزم عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کو جدید، معیاری اور مؤثر طبی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے یہ مشترکہ مہم اور تزویراتی شراکت داری مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائے گی۔

آن لائن حج رجسٹریشن نظام کی ریکارڈ پذیرائی، پہلے گیارہ دنوں میں دو لاکھ سے زائد عازمین نے گھر بیٹھے رجسٹریشن مکمل کر لی

محمود احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے نئے متعارف کردہ آن لائن حج رجسٹریشن نظام کو ملک بھر میں ریکارڈ پذیرائی حاصل ہوئی ہے، جس کے تحت پہلے گیارہ دنوں کے مختصر ترین عرصے میں دو لاکھ تین ہزار سات سو بائیس (2,03,722) عازمینِ حج نے گھر بیٹھے کامیابی سے اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان عمر بٹ نے جمعہ کے روز اپنے ایک مقتدر بیان میں اس ڈیجیٹل کامیابی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید نظام کے ذریعے اب تک ایک لاکھ اسی ہزار عازمین نے باقاعدہ ویب پورٹل کا استعمال کیا، جبکہ چوبیس ہزار سے زائد عازمین نے مخصوص موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔

ترجمان کے مطابق، اس سال عازمین کی بڑی تعداد نے سرکاری اسکیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت ایک لاکھ چوون ہزار سے زائد عازمین نے سرکاری جبکہ انچاس ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج اسکیم کا انتخاب کیا ہے۔ صوبائی بریک ڈاؤن کے تزویراتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنجاب پچانوے ہزار عازمین کے ساتھ رجسٹریشن میں سب سے آگے ہے، جبکہ سندھ سے تریسٹھ ہزار، خیبرپختونخوا سے اٹھائیس ہزار، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے نو ہزار، بلوچستان سے پچپن سو، آزاد جموں و کشمیر سے بارہ سو اور گلگت بلتستان سے چھ سو عازمین نے اس جدید ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنے پُرعزم سفری ارادے کو پایا۔

وزارتِ مذہبی امور نے اس نئے نظام میں مستقبل کی منصوبہ بندی کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت سال دو ہزار اٹھائیس کے حج کے لیے چودہ سو، سال دو ہزار انتیس کے لیے ڈھائی سو، اور سال دو ہزار تیس کے طویل مدتی ارادے کے لیے ساڑھے تین سو عازمین نے ابھی سے اپنی دلچسپی کا مقتدر اظہار کر دیا ہے۔ ترجمان عمر بٹ نے مزید بتایا کہ اب تک رجسٹرڈ ہونے والے کل عازمینِ حج میں مردوں کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار جبکہ خواتین کی تعداد چوراسی ہزار پانچ سو ہے، اور یہ ڈیجیٹل عمل بغیر کسی تعطل کے انتہائی شفاف انداز میں جاری ہے۔

مالی وفاقیت کی مضبوطی سے پاکستان کا معاشی استحکام اور عوامی خدمات میں بہتری ممکن ہے، عالمی بینک کی نئی رپورٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام برقرار رکھنے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں حکومت کی تینوں سطحوں یعنی وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ اور مؤثر تقسیم کو مضبوط بنانا معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سن دو ہزار دس کی تاریخی اصلاحات، یعنی آئین کی اٹھارہویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ مالی وفاقیت کے فروغ کی جانب ایک اہم تزویراتی پیش رفت تھیں، جن کے تحت عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق متعدد اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور ان کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی نظام کی بعض ساختی کمزوریاں اب بھی مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوام تک معیاری خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، سن دو ہزار دس سے دو ہزار چوبیس کے دوران صوبائی آمدنی مجموعی قومی پیداوار کے چار فیصد سے بڑھ کر اوسطاً ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی، تاہم پانچ مختلف دائرہ اختیار میں ٹیکس نظام کی تقسیم سے ٹیکس دہندگان پر عمل درآمد کی لاگت بڑھی اور محصولات میں اضافے کی گنجائش محدود ہوئی۔ دوسری جانب، زرعی شعبہ جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا بیس فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے بتایا کہ پاکستان نے اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کر کے تاریخی قدم اٹھایا، مگر اس کے مکمل فوائد ابھی حاصل ہونا باقی ہیں۔ مالی وسائل کو ذمہ داریوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وسائل اسکولوں، صحت کے مراکز اور مقامی برادریوں تک موثر انداز میں پہنچیں، انتہائی ضروری ہے۔

رپورٹ میں اس تشویشناک امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے باوجود اب تک سرکاری اخراجات کو حقیقی ضروریات سے موثر طور پر ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ فارمولا نہ تو مالی ضروریات کی مکمل عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی صوبوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے موثر ترغیبات فراہم کرتا ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے بجائے انتظامی اخراجات پر صرف ہوا، اور مالی سال دو ہزار تئیس میں مجموعی صوبائی اخراجات کا اسی فیصد سے زائد حصہ جاری اخراجات کی مد میں استعمال ہوا۔ اسی طرح اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم غربت کی سطح یا عوامی خدمات کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے اب بھی تاریخی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔

عالمی بینک کے لیڈ کنٹری اکانومسٹ اور رپورٹ کے مرکزی مصنف ٹوبیاس حق نے بتایا کہ مالی وفاقیت کا موجودہ ڈھانچہ اس بات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے کہ آیا بچے فعال اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آیا صحت کے مراکز میں ضروری ادویات دستیاب ہیں یا نہیں۔ آئندہ متوقع این ایف سی ایوارڈ اس نظام میں بہتری کا ایک اہم مقتدر موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے ایسے صوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے جو اپنی آمدنی بڑھانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں، جبکہ زیادہ وسائل ان علاقوں کو دیے جائیں جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مخصوص اصلاحاتی پروگرام کی سفارش کرنے کے بجائے مختلف قابلِ عمل تزویراتی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنہیں نئے این ایف سی ایوارڈ اور موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز میں وفاقی مالی وسائل کو ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنا، ملکی محصولات میں اضافہ، مقامی حکومتوں کو زیادہ مستحکم مالی وسائل کی فراہمی، اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا عالمی ترقیاتی اقدام کے تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب؛ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تجربات کی پیشکش

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی ترقیاتی اقدام کی بھرپور تزویراتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری، مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافے اور عملی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ دو ہزار تیس کے ترقیاتی ایجنڈے کے آخری پانچ برسوں میں اہداف کے حصول کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے گروپ آف فرینڈز آف دی جی ڈی آئی اور اقوامِ متحدہ کی ٹاسک فورس برائے دو ہزار تیس ایجنڈا کے نفاذ کے لیے شراکت داری کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون اور عملی ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے مکالمے سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے چائنا انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کی اجلاس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا ایک قابلِ اعتماد اور تزویراتی ترقیاتی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے یکجہتی، جنوب۔جنوب تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی نتائج کے حصول کے پلیٹ فارم کے طور پر عالمی ترقیاتی اقدام سے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ مستقل مندوب نے پاکستان کی مقتدر ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے ذریعے صنعتی تعاون کے فروغ، آفات سے بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہری لچک کو مضبوط بنانے، نیز غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں سماجی تحفظ کے پروگراموں میں پاکستان کے تجربات سے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچانے کی تزویراتی پیشکش بھی کی۔

اپنے مقتدر خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے پاکستان گروپ آف فرینڈز کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے قومی سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں اور ہم دلچسپی رکھنے والے شراکت داروں کے ساتھ اس بات پر بھی کام کرنے کے خواہاں ہیں کہ ایسے ماڈلز کو کس طرح مزید وسعت دی جا سکتی ہے یا مختلف ممالک کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے طریقۂ کار کو مزید واضح بنانے پر بھی زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ٹاسک فورس کے تحت ایسا مؤثر فالو اپ نظام قائم کیا جائے جو رکن ممالک کی ترجیحات کو عملی منصوبوں اور ترقیاتی شراکت داری سے جوڑ سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، گروپ آف فرینڈز اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرتا رہے گا، پاکستان اس مقتدر سفر میں ایک ثابت قدم شراکت دار ہے۔

خلیج میں کشیدگی کا حل صرف سفارت کاری میں ہے؛ ایران اور امریکہ کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ مقتدر سفارت کاری کی بڑی کامیابی، پاکستان کا اہم ترین بیان

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے خلیجی خطے کی موجودہ مخدوش صورتحال کا جامع اور حتمی حل صرف سفارت کاری، تعمیری مکالمے اور پرامن مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پاکستان کی مضبوط اور پُرعزم سفارت کاری کی ایک مقتدر کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ اجلاس میں بحرین کے معزز وزیرِ خارجہ، اور ایران و کویت کے مقتدر نمائندوں کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی حدود سے باہر کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی واضح طور پر مذمت کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ مکمل تزویراتی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق، پاکستان نے خطے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ اور قیمتی انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ کے ایک گہرے احساسِ ذمہ داری کے تحت اس ثالثی کا آغاز کیا۔ پاکستان کو یہ پختہ یقین ہے کہ کسی بھی مزید کشیدگی اور لڑائی کے تسلسل سے انسانی مصائب میں ہولناک اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ ہماری یہ تزویراتی کوششیں جانیں بچانے، صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور منظم مکالمے کے لیے سازگار جگہ پیدا کرنے کے لیے ہیں، تاکہ فریقین دیرپا باہمی تفہیم اور حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر اپنے کلیدی شراکت داروں خصوصاً قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھرپور اعتماد اور تزویراتی حمایت کا اظہار کیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے اور بین الاقوامی اہم فریقین کے ساتھ اپنی سفارتی مصروفیات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مؤثر فالو اپ اور اس پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے، جیسا کہ اکیس جون دو ہزار چھبیس کو جاری ہونے والے پاکستان–قطر مشترکہ اعلامیے میں بھی باقاعدہ طے کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر گزشتہ روز پاکستان اور قطر نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مقتدر ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جو لیک لوسرن سمٹ کے نتائج کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ فریقین نے آئندہ عرصے میں بات چیت کا یہ تزویراتی تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اگلا اجلاس جلد از جلد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی قیادت اس وقت تمام فریقین، اپنے تزویراتی شراکت داروں اور علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل اور براہِ راست رابطے میں ہے۔ پاکستان مکالمے کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے میں اپنا تعمیری کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خلیج میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بروقت روکا جا سکے اور سفارتی عمل کو پٹری سے اترنے سے بچایا جائے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود بات چیت جاری ہے اور فریقین مذاکراتی میز پر موجود ہیں۔ رابطے کے تمام سفارتی ذرائع کھلے رکھے گئے ہیں اور پاکستان اپنی مقتدر کوششیں اس عظیم مقصد کے لیے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے کہ خطے میں ایسا پائیدار امن، سلامتی اور استحکام قائم ہو جو تمام ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہو۔

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر، ریپبلک ٹی وی کی لائیو نشریات میں بھی بڑی سائبر دراندازی

منصور احمد, JULY 03,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر ہیں اور اب پاکستان مخالفت میں ہر صحافتی حد پار کر جانے والے معروف اینکر ارنب گوسوامی کے چینل “ریپبلک ٹی وی” کی لائیو نشریات میں بھی ایک بڑی اور حیران کن سائبر دراندازی سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، دو جولائی کو لائیو اسٹریم کے دوران نامعلوم ہیکرز نے ارنب گوسوامی کے لائیو پروگرام کی اسکرین پر اپنے بینرز اور ویڈیوز چلا دیں۔ سائبر ماہرین کے مطابق، یہ حملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے کیونکہ سائبر حملہ آور براہِ راست چینل کے براڈکاسٹ مینجمنٹ سسٹم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے باعث نشریات پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔

مسلسل کامیاب ہونے والے ان سائبر حملوں نے بھارت کی مجموعی ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر دفاع پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی بھارت کے متعدد بڑے میڈیا نیٹ ورکس ہیکرز کے حملوں کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سن ٹی وی نیٹ ورک، ٹی وی نو تیلگو، فریڈم ٹی وی لائیو اور فریڈم ٹی وی کنڑا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اے بی پی لائیو کو بھی حالیہ دنوں میں شدید سائبر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کروڑوں کی ویورشپ رکھنے والے ان مقتدر بھارتی چینلز کا سائبر حملوں سے محفوظ نہ رہ سکنا انتہائی تشویشناک ہے اور ان پے در پے واقعات نے بھارتی ڈیجیٹل دفاع کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

بیجنگ: چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کا دوسرا اجلاس رواں سال خزاں میں ہوگا؛ امریکی زرعی مصنوعات پر محصولات میں کمی کے فریم ورک پر اتفاق

محمود احمد, JULY 02,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

چینی وزارتِ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ چین اور یورپی یونین اپنے نو تشکیل شدہ “تجارت و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم” کا دوسرا وزارتی اجلاس رواں سال خزاں میں بیجنگ میں منعقد کریں گے۔ سی جی ٹی این کے مطابق، چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان حہ یادونگ نے جمعرات کو بیجنگ میں ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ میکانزم دونوں اہم ترین معاشی شراکت داروں کے درمیان مستقل رابطہ برقرار رکھنے اور تجارتی برآمدات و درآمدات کو متوازن بنانے کے لیے ایک کلیدی مستقل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ اس نئے فریم ورک کے تحت دونوں فریقین نے سال میں ایک سے دو بار وزارتی سطح پر ملاقاتیں کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ چینی ترجمان نے مزید بتایا کہ بیجنگ نے یورپی یونین کے تجارتی سربراہ (ماروش شیفکووچ) کو اس دوسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے لیے باضابطہ طور پر چین کے دورے کی دعوت دی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ترجمان حہ یادونگ نے واضح کیا کہ حال ہی میں برسلز میں منعقد ہونے والے افتتاحی اجلاس میں دونوں اقتصادی قوتوں نے باہمی تجارتی حجم کو کم کرنے کے بجائے، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھا کر تجارتی توازن قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس ضمن میں مصنوعی ذہانت ، گرین ٹرانزیشن (سبز توانائی کی منتقلی)، اور خدمات کی تجارت جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے گی، جبکہ دونوں جانب سے مارکیٹ تک رسائی کے تحفظات کو بھی مرحلہ وار مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس نئے معاشی پوزیشننگ سے نہ صرف چینی اور یورپی کمپنیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک مثبت اور مستحکم محرک ملے گا۔

دوسری جانب، امریکا کی زرعی مصنوعات پر ٹیرف (محصولات) کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں چینی ترجمان نے اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ پاکٹ معاشی و تجارتی مذاکرات کے بعد چین اور امریکہ نے زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے مخصوص رہنما اہداف مقرر کیے ہیں۔ اس بات پر بھی اصولی اتفاق ہوا ہے کہ متعلقہ زرعی مصنوعات کو مساوی بنیادوں پر محصولات میں کمی کے طے شدہ فریم ورک کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے کسان اور کاروباری برادری اس تجارتی سہولت کاری سے یکساں فائدہ اٹھا سکیں۔