

محمود احمد, August 24,2026
بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء
چین نے امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت و کاروبار کرنے والے ممالک پر ثانوی پابندیاںعائد کرنے کی نئی دھمکی پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ یکطرفہ پابندیاں اور زبردستی کا دباؤ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتے، بلکہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں کشیدگی اور تناؤ مزید بڑھے گا جو کسی بھی عالمی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔
چینی خبر رساں ادارے ’سی جی ٹی این‘ کے مطابق، بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے امریکی وزیرِ خزانہ کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ یکطرفہ پابندیوں کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین تمام متعلقہ فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو عالمی اقتصادی ترقی اور مالیاتی استحکام کو نقصان پہنچائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ تمام فریقین کو فوری طور پر سفارتی مذاکرات اور سیاسی تصفیے کی راہ پر واپس آنا چاہیے۔
چینی ترجمان نے امریکہ کو تنبیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ چین اس تمام صورتحال اور بین الاقوامی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ چین اپنے قومی مفادات اور چینی کمپنیوں کے جائز اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق چین کا یہ واضح پیغام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیجنگ ایران کے ساتھ اپنی تجارتی اور معاشی شراکت داری پر امریکی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔