ایران اور امریکا تحمل کا مظاہرہ کریں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد بحال کیا جائے: چین کا بیجنگ میں اہم اعلان

Spread the love

محمود احمد, September 17,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء

چین نے ایران اور امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کی موجودہ انتہائی خطرناک کشیدگی میں اعلیٰ سطح کے تحمل کا مظاہرہ کریں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کی شقوں کی طرف فوری واپس آئیں اور پہلے سے طے شدہ اتفاقِ رائے کی بنیاد پر معطل شدہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کریں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ اہم بات بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے ایک اعلیٰ سطحی تفصیلی ملاقات کے دوران کہی۔

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی دونوں ممالک، خطے اور عالمی برادری کے مجموعی مفادات کے منافی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران دونوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے بنیادی خدشات کے حل کے لیے سنجیدہ اور بامعنی مشاورت کا راستہ اپنائیں۔ چینی وزیر خارجہ نے بیجنگ کی جانب سے ایران اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے کی بحری نقل و حمل کی بگڑتی صورتحال کا خصوصی جائزہ لیا گیا۔ وانگ یی نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اس اہم آبی گزرگاہ کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل، پیداوار اور سپلائی چین کا استحکام قائم رہے۔ چین نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ خطے میں لڑائی کے دائرہ کار کو یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلتے ہوئے ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے چینی قیادت کو خطے کی تازہ صورتحال اور ایران کے آئندہ سفارتی و دفاعی لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران اس تنازع کو غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھنا چاہتا اور اگر ان کی قومی خودمختاری کا احترام کیا جائے تو وہ سفارتی حل کے لیے مکمل تیار ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت رواں برس جون میں پاکستان اور قطر کی میزبانی و مصالحت سے طے پائی تھی جو فریقین میں کشیدگی کی کمی کا اہم فریم ورک ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر چین کی وزارتِ خارجہ، ایرانی سفارتی ڈیسک اور اسلام آباد فارن آفس کی میڈیا بریفنگ کے عین مطابق ایڈٹ کی گئی ہے۔

ماخذ: چین وائر ڈیسک، وزارتِ خارجہ بیجنگ، نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔