نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے حاشیے پر اہم ملاقات: ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی گفتگو

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے، جس میں دونوں اہم ایشیائی ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کے فروغ اور اسٹریٹجک معاہدوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا دہرایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور سفارتی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز منعقد ہونے والی اس معتبر ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران اور بھارت کے تاریخی اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدوں، بالخصوص چابہار بندرگاہ اور مواصلاتی راہداریوں کی ترقی کے منصوبوں پر پیش رفت اور پیشرفت کو مسلسل برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

یہ اہم ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نئی دہلی میں برکس کا سالانہ سربراہی اجلاس مکمل شدومد اور عالمی برادری کی توجہ کے ساتھ جاری ہے۔ اس عالمی سربراہی اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کے دیگر تمام اہم برکس رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومتی نمائندے بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔

اس دوطرفہ ملاقات سے قبل برکس کے مرکزی اقتصادی سربراہی اجلاس سے اپنے جامع خطاب کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے رکن ممالک کے درمیان بینکنگ، مالیاتی اور تجارتی شعبوں میں تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط، باہمی اور موثر بنانے پر خاص زور دیا تھا۔

ایرانی صدر نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور مالیاتی دباؤ کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کا واضح حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی و مالیاتی ناکہ بندی اور تجارتی ہتھکنڈوں کے سیاسی استعمال سے آزاد اور خودمختار ممالک کے درمیان جائز بین الاقوامی تجارت کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہو رہے ہیں، جن کا مقابلہ صرف اور صرف برکس کے موثر معاشی اشتراک سے ہی ممکن ہے۔

یمنی حکومتی فورسز کے اچانک انخلا کے بعد اہم بحری گزرگاہ کا کنٹرول حوثیوں کے ہاتھ میں چلے جانے کی اطلاعات؛ المخا ایئرپورٹ پر سعودی بمباری

محمود احمد, September 11,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

یمن میں جاری خونی عسکری پیش قدمی کے دوران ایران کے حمایت یافتہ حوثی عسکریت پسندوں نے عالمی تجارت اور سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کے حامل باب المندب کے دہانے پر واقع اہم جزیرے “میون” پر باقاعدہ قبضہ کر لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرکاری فورسز کے اعلیٰ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یمنی حکومتی اور اتحادی فورسز شدید عسکری دباؤ کے بعد جزیرہ میون سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئی ہیں، جس کے فوراً بعد حوثی جنگجوؤں نے جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

جغرافیائی و عسکری لحاظ سے انتہائی حساس جزیرہ میون، جسے بین الاقوامی سطح پر اکثر “باب المندب جزیرہ” بھی کہا جاتا ہے، اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے بالکل وسط میں واقع ہے۔ یہ جزیرہ باب المندب کی چوڑائی کو دو اہم بین الاقوامی بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے، جس کے باعث یہاں سے گزرنے والے ہر تجارتی و تلی ٹینکر پر براہِ راست نظر رکھی جا سکتی ہے۔

اس اہم پیش رفت سے قبل موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق یمن کے ساحلی شہر “ذباب” پر بھی حوثی عسکریت پسند پہلے ہی کامل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ ان دونوں اہم علاقوں پر قبضے کے بعد اب باب المندب کی اس نایاب اور اہم آبی گزرگاہ کے بیشتر اور اہم حصوں پر حوثیوں کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جو نہ صرف عالمی بحری تجارت بلکہ بالخصوص برادر ملک سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کے لیے سب سے اہم تجارتی راستہ شمار کیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومتی فورسز اور سعودی اتحادی افواج کے خلاف متعدد محاذوں پر ایک ہی وقت میں بڑے پیمانے پر حتمی عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

دوسری جانب حوثی گروپ سے وابستہ سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی پیش قدمی کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی فضائیہ نے یمن کے مختلف اضلاع میں درجنوں شدید بمبار حملے کیے ہیں، جن کے دوران المخا شہر میں واقع ہوائی اڈے (المخا ایئرپورٹ) کو دو مرتبہ شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ المخا کی اہم اور تاریخی بندرگاہ بھی حالیہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں حوثیوں کے کنٹرول میں جا چکی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے: امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا عزم

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں باضابطہ شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔

ایرانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان اپنے دورے کے دوران برکس کے مرکزی سربراہی اجلاس، بین الاقوامی اقتصادی سربراہی اجلاس اور برکس رہنماؤں کے اہم بند کمرہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ایرانی صدارتی دفتر نے بتایا کہ مسعود پزشکیان کے ان تمام خطابات کا بنیادی موضوع جامع عالمی طرزِ حکمرانی کی تشکیل، منصفانہ اقتصادی نظام کا فروغ اور کثیرالجہتی (ملٹی لیٹرل) بین الاقوامی نظام کو مزید مضبوط و فعال بنانا ہوگا۔

بھارت کی میزبان حکومت کی جانب سے نئی دہلی میں منعقد کیے جانے والے اس اہم برکس اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممتاز عالمی رہنماؤں میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی شامل ہیں، جس کے باعث اس عالمی فورم کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

نئی دہلی روانگی سے قبل تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے کا بنیادی مقصد واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ برکس بلاک میں ایران کی فعال شمولیت اور شرکت کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں امریکہ کی یکطرفہ اور جارحانہ معاشی و سیاسی پالیسیوں کا موثر انداز میں مقابلہ کرنا اور ایک متوازن عالمی نظام قائم کرنا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق، نئے برکس بینک (نیو ڈویلپمنٹ بینک) کے دائرہ کار کے تحت آئندہ تمام تر مشترکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارتی مالیات کو امریکی ڈالر پر کسی بھی قسم کا انحصار کیے بغیر فروغ دیا جائے گا، تاکہ رکن ممالک کے اقتصادی و تجارتی مفادات کو عالمی معاشی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔

چینی صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی جائیں گے: بیجنگ کا باضابطہ اعلان

محمود احمد, September 10,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

چین کی وزارت خارجہ نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ صدر شی جن پنگ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خاص دعوت پر 12 اور 13 ستمبر کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کا اہم دورہ کریں گے، جہاں وہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں چین کی نمائندگی کرتے ہوئے شرکت کریں گے۔

بیجنگ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے اس اہم دورۂ بھارت کو چین اور بھارت کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کی بحالی اور برکس بلاک کے تمام رکن ممالک کے باہمی معاشی و سیاسی تعاون کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں عالمی معاشی صورتحال، کثیر قطبی نظام اور علاقائی تحفظ سے متعلق چینی پالیسی کا حتمی خاکہ پیش کریں گے۔

سینیئر چینی قیادت کی آمد اور عالمی رہنماؤں کے تحفظ کے پیش نظر بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیکیورٹی کے بے مثال اور انتہائی سخت انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق دہلی پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ حساس علاقوں بالخصوص تغلق روڈ کے پورے زون میں تقریباً 500 جدید ترین سی سی ٹی وی کیمرے اور خودکار سینسرز نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ تمام تر رفت و آمد، سیکیورٹی اور سمارٹ نگرانی کے انتظامات کو فول پروف اور انتہائی موثر بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ برکس دنیا کی تیز ترین اور ابھرتی ہوئی بڑی ملکی معیشتوں کے درمیان قائم اقتصادی و تجارتی تعاون کا ایک معتبر عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اس اہم اتحاد کا نام ابتدائی طور پر اس کے بانی ممالک یعنی برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ کے انگریزی ناموں کے پہلے حروف کے ملاپ سے تشکیل پایا تھا، جس میں بعد ازاں دیگر اہم معیشتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

برکس فورم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، تکنیکی، سیاسی اور مالیاتی شعبوں میں مضبوط تعاون کو فروغ دینا اور دنیا کے سامنے مغرب کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی کردار اور خودمختاری کو موثر انداز میں مضبوط کرنا ہے۔

امریکہ کی جنگ پسندی عالمی طاقت اور اقتصادی جغرافیے کی مشرق کی جانب منتقلی کا بہترین محرک بنی ہے: میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی

محمود احمد, September 10,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

ایران کے رہبرِ اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر عسکری مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے بین الاقوامی و علاقائی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی دائمی جنگ پسندی، بین الاقوامی طاقت کے توازن اور عالمی اقتصادی جغرافیے کی مغربی خطے سے مشرق کی جانب تیزی سے منتقلی کے لیے سب سے بہترین اور طاقتور محرک ثابت ہوئی ہے۔

ایرانی افواج کے سابق کمانڈر انچیف اور رہبرِ اعلیٰ کے دفاعی امور کے خصوصی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے عالمی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ایک پیغام میں مغرب اور امریکہ کی جیو پولیٹیکل پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ دشمن کی جانب سے محض فتح کا مصنوعی تاثر دینے کی تمام تر کوششیں، درحقیقت اس کی عملی شکست کی واضح علامت ہیں اور یہ بین الاقوامی طاقت، توازن اور عالمی سلامتی کے ایک جدید کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے ناگزیر وجود کو تسلیم کرنے کے بالکل مترادف ہے۔

ایرانی حکام اور عسکری کمانڈروں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایران کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف حالیہ مسلط کردہ جنگ و عسکری مہم جوئی میں امریکہ اور اسرائیل کو تاریخی اور واضح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایرانی انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ مغرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کا بنیادی اور حتمی مقصد اسلامک ریپبلک آف ایران کا کامل خاتمہ تھا، تاہم ایرانی قوم کی مزاحمت اور عسکری حکمتِ عملی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تمام تر اہداف کو خاک میں ملا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منظر نامے پر مشرق کا اثر و رسوخ اور کثیر قطبی دنیا کا قیام پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔

چین نے کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ نہیں کھینچی، بلکہ ہمیشہ سیڑھی بنا کر دی ہے: ترجمان چینی وزارت خارجہ ماؤ ننگ

محمود احمد, September 10,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

چین کی حکومت نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے یا انہیں پیچھے دھکیلنے کے بجائے معاشی، صنعتی، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شفاف تعاون اور معاونت فراہم کرنے کی مستقل پالیسی پر گامزن ہے۔ چین کی جانب سے زور دے کر کہا گیا ہے کہ بیجنگ نے تاریخ میں کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ نہیں کھینچی، بلکہ ہمیشہ دنیا کے ترقی پذیر اور ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے معاشی ترقی کی نئی راہ ہموار کی ہے اور ان کی صنعتی صلاحیتیں بہتر بنانے میں عملی مدد فراہم کی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ تمام تر تفصیلات گزشتہ روز دارالحکومت بیجنگ میں معمول کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک بین الاقوامی صحافی کے سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے بیان کیں۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ کی عالمی معاشی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چین نے نہ تو کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ کھینچی ہے اور نہ کبھی ایسا کرے گا، بلکہ اس کے برعکس چین دنیا کے تمام شراکت دار اور کمزور ممالک کے لیے معاشی و صنعتی ترقی کی نئی ’’سیڑھی بنانے‘‘ کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اعلیٰ معیار اور عالمی معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) تعاون کے مضبوط فریم ورک کے ذریعے اپنے تمام شراکت دار ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی کو دور کرنے کے لیے مسلسل اور فعال مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اعلیٰ ترین معیار اور مناسب ترین قیمت کے صنعتی آلات، جدید سائنسی و تکنیکی مصنوعات کی فراہمی کے ساتھ اپنے کئی دہائیوں پر محیط معاشی تجربات اور ڈجیٹل ٹیکنالوجی کو بھی شراکت دار ممالک کے ساتھ بلا جھجھک شیئر کر رہا ہے۔

ترجمان نے چین کی اس عالمی پالیسی کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کے ان مخلصانہ اور شفاف اقدامات سے گلوبل ساؤتھ کے تمام ممالک کو اپنی صنعتی و پیداواری لاگت نمایاں حد تک کم کرنے، قومی پیداواری صلاحیت کو تیزی سے بڑھانے اور اپنی آزادی کے ساتھ صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے میں زبردست اور پائیدار مدد مل رہی ہے۔

ریپبلکن پارٹی کا ڈلاس میں پہلا وسط مدتی انتخابی کنونشن: ڈونلڈ ٹرمپ کا ہر بالغ امریکی کو 5,000 ڈالر دینے کا بڑا اور غیر متوقع اعلان

محمود احمد, September 10,2026

ڈلاس (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کا پہلا وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابی کنونشن منعقد ہوا جس میں روایتی صدارتی انتخابی سال کے بڑے اجتماعات جیسا شاندار اور جوشیلا ماحول دیکھنے میں آیا۔ چمکدار اور رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس جذباتی حامی، اہم امیدواروں کی تقاریر کا مسلسل سلسلہ، اور انتخابی مہم سے متعلق یادگاری اشیا فروخت کرنے والے دکاندار اس بڑے اجتماع کا نمایاں حصہ تھے۔

تاہم کسی بھی روایتی حزبی کنونشن کے برعکس ڈلاس میں منعقد ہونے والی اس دو روزہ تقریب میں پارٹی کا کوئی باضابطہ یا قانونی کاروبار انجام نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے یہ تمام تر اجتماع ریپبلکن رہنماؤں کے لیے ایک زبردست پاور شو اور انتخابی جلسے کی حیثیت رکھتا تھا، جو رواں سال نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے دوران امریکی کانگریس کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار رکھنے اور اپنے ووٹ بینک و ووٹرز کی شرکت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور ووٹرز پر اثر و رسوخ آج بھی بدستور مکمل طور پر قائم و دائم ہے، نے دو روزہ تقریب کی افتتاحی شام ایک انتہائی طویل اور جذباتی کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے اس خطاب میں ان تمام اہم موضوعات اور پالیسیوں پر کھل کر بات کی جن پر وہ رواں سال انتخابی جلسوں میں بار بار اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں، تاہم اس تقریب کے دوران ان کی جانب سے چند انتہائی غیر متوقع اور سنسنی خیز اعلانات بھی کیے گئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے سیاسی جلسوں اور تقریروں میں غیر روایتی اور چونکا دینے والی تجاویز پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ اپنے اسی انداز کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ریپبلکن پارٹی نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر (تقریباً 3,700 برطانوی پاؤنڈ) کا بڑا کیش ریلیف دینے کی باقاعدہ قانون سازی کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس معاشی منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم کی فراہمی کی صرف اور صرف ایک بنیادی شرط ہوگی، اور وہ یہ کہ ہر شہری کو یہ رقم لازمی طور پر امریکہ کی حدود ہی کے اندر مختلف اشیاء اور خدمات پر خرچ کرنا ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو تقویت مل سکے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پورے خطاب میں یہ بالکل نہیں بتایا کہ اس دیوہیکل منصوبے پر عملی طور پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا، اس کھربوں ڈالر کی خطیر رقم کا انتظام کہاں سے ہوگا، یا امریکی حکومت اور اس کے محکمے یہ کیسے چیک اور جانچ سکیں گے کہ یہ رقم واقعی امریکہ کے اندر ہی خرچ کی گئی ہے۔

ریاستی مخالف جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر متوقع اعلان پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور انہوں نے اسے فوری طور پر ایک سیاسی اور “کھوکھلا وعدہ” قرار دے کر مسترد کر دیا، جبکہ متعدد معاشی اور قانونی ناقدین نے یہ سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ آیا امریکی آئین اور قانونی فریم ورک کے تحت ایسا معاشی وعدہ عملی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔

حساب کتاب کے مطابق اس وقت امریکہ میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد موجود ہیں، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر فی کس 5,000 ڈالر کی رقم تقسیم کی جائے تو امریکی حکومت کے خزانے پر اس کا مجموعی بوجھ تقریباً 1.3 کھرب (1.3 ٹریلین) ڈالر پڑے گا۔

امریکی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز عملی طور پر قابلِ عمل ہے یا نہیں، بظاہر اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اس بڑے اعلان کا کنونشن میں موجود ٹرمپ کے حامیوں اور حاضرین پر کیا تاثر قائم ہوا۔ پورے ہال میں اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی پرجوش شرکاء نے کھڑے ہو کر منٹوں تک زوردار تالیاں بجائیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے حامیوں کے اس والہانہ ردِعمل سے بے حد محظوظ اور خوش دکھائی دیے۔

اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانوی پابندی کا تاریخی اقدام: پاکستان کا خیرمقدم اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کا عزم

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی تمام مصنوعات اور اشیائے صرف پر مکمل پابندی عائد کرنے کے جرات مندانہ فیصلے کا پرجوش اور غیر مشروط خیرمقدم کیا ہے۔

ترجمان وزارتِ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کا مسلسل اور متنازع پھیلاؤ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی سراسر کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ اس قسم کے غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کو بھی شدید ترین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد باوقار ممالک کے ان اعلانات کا بھی پرتپاک خیرمقدم کیا ہے جن میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف بالکل اسی نوعیت کے سخت تجارتی و معاشی اقدامات پر غور کرنے اور بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ عالمی برادری کے یہ اجتماعی اور مربوط اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام غاصبانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کو سرسری طور پر مسترد کرنے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت ترین پیغام ثابت ہوں گے۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی حکومت نے 8 ستمبر کو باضابطہ اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار یا پیدا ہونے والی تمام اشیا کی برطانیہ درآمد پر پابندی عائد کرے گی۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر کی گئی ایک مشترکہ سفارتی و اقتصادی کوشش کا حصہ ہے، جبکہ بستیوں کی توسیع، مالی معاونت اور انفراسٹرکچر میں براہِ راست مدد فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔ برطانوی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اقدامات براہِ راست اسرائیل کے ساتھ مجموعی دوطرفہ تجارت کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ ان کا ہدف صرف غیر قانونی بستیوں اور ان کی توسیع سے جڑی مالی و تجارتی سرگرمیاں ہیں۔

بیان کے اختتام پر پاکستان نے ایک بار پھر مظلوم فلسطینی عوام کے ناقابلِ تسخیر حقِ خودارادیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا بابرکت دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانوی پابندیوں کا اقدام: پاکستان کا برطانیہ اور دیگر ممالک کے فیصلے کا پرجوش خیرمقدم

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی یا وہاں سے صادر کی جانے والی تمام مصنوعات کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے تاریخی اور جرات مندانہ اعلان کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم پریس ریلیز اور باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل اور متنازع توسیع بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ایسے تمام تر غیر قانونی اور غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے حصول کے لیے جاری عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، بلکہ پوری مشرقِ وسطیٰ کے دائم امن، توازن اور استحکام کو بھی سخت خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ پاکستان برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد اہم ممالک کے اس اہم اعلان کی بھی مکمل تائید اور خیرمقدم کرتا ہے، جس میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ اور اسی نوعیت کے سخت تجارتی و سفارتی قدغنوں پر غور کرنے اور عملی اقدامات کی حمایت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ان بین الاقوامی اقدامات، تجارتی پابندیوں اور مشترکہ فیصلوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام تر غاصبانہ و غیر قانونی سرگرمیوں کو عالمی برادری کی جانب سے یکسر مسترد کیے جانے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت پیغام پہنچے گا۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی ‘نسل کشی’ اور تشدد پر مجرمانہ چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

گزشتہ روز برطانوی پارلیمان کے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا تھا کہ یہ اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے ‘ایک نئے اور عملی طرزِ عمل کی شروعات’ ہے، جو صرف زبانی زبانی ناانصافی کی نشاندہی ہی نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی سطح پر عملی پیش رفت بھی کرتا ہے۔ برطانوی پابندیوں کے تحت بستیوں کی مصنوعات پر کامل پابندی عائد رہے گی جبکہ بستیوں کی توسیع میں مددگار کمپنیوں اور افراد پر بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔

یہ جدید پابندیاں فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر نافذ کی گئی ہیں، جنہوں نے ایک مشترکہ بین الاقوامی اعلامیے میں کہا ہے کہ یہ قدم دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے طرزِ عمل میں اہم موڑ ثابت ہوگا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ تمام تر بستیاں مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران ان علاقوں میں فلسطینیوں پر تشدد کے بزدلانہ واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایران کا بڑا عسکری و بحری اقدام: ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی حدود خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب تک بڑھانے کا اعلان

محمود احمد, September 09,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں جاری شدید عسکری کشیدگی کے دوران بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے طے کردہ ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی جغرافیائی حدود کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جس میں اب خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے انتہائی اہم اور حساس حصے بھی شامل ہوں گے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے باضابطہ ترجمان حسین محبی نے تہران میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس نئے اور جدید توسیع شدہ ممنوعہ علاقے سے ایرانی حکومت یا بحریہ کی پیشگی اجازت کے بغیر گزرنے والے تمام ملکی و غیر ملکی تجارتی اور آئل ٹینکرز کے خلاف سخت ترین تعزیری ‘پابندیاں’ نافذ کی جائیں گی۔

ایرانی عسکری ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس توسیع شدہ ممنوعہ علاقے کی دقیق جغرافیائی حدود اور اس سے متعلقہ بین الاقوامی کوآرڈینیٹس کا باقاعدہ نقشہ اور تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، تاہم ابتدائی طور پر یہ سمندری حد بندرگاہ چابہار کے علاقے سے شروع ہوتی ہے۔

حسین محبی نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بحری جہاز ایران کی جانب سے مقررہ اور واضح کی گئی ممنوعہ حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوں گے، انہیں بعد میں عالمی توانائی کی شاہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو بین الاقوامی قانونی، لاجسٹک، تکنیکی اور انشورنس کی خدمات کی فراہمی بھی روک دی جائے گی تاکہ ان کی آزادانہ آمدورفت ناممکن بنائی جا سکے۔

ایران کی جانب سے یہ غیر معمولی اور خطرناک اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد عسکری و بحری محاذ آرائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہازرانی اور خام تیل و ایل این جی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے محدود سمندری زونز کی توسیع کا یہ اقدام حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب کئی آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کے باہر بحری حدود میں ایک نیا ‘محدود سمندری زون’ قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کر چکا ہے، جس کا حتمی مقصد ان بین الاقوامی جہازوں کو روکنا اور تحویل میں لینا تھا جو ایرانی نگرانی، جانچ اور تجارتی پابندیوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تہران کے اس تازہ ترین اعلان کے بعد خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری تجارت اور خصوصاً خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں کو ہونے والی توانائی کی فراہمی پر بلاواسطہ منفی اثرات اور معاشی خطرات کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

برطانیہ کی پابندیوں پر اسرائیل کا شدید جوابی ایکشن: مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا باضابطہ اعلان

محمود احمد, September 09,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں اور بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر مکمل درآمدی قدغن کے اعلان کے جواب میں اسرائیل نے انتہائی سخت اور غیر معمولی سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے مشرقی یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں حکومت کا تاریخی فیصلہ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم تمام غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیائے صرف اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان پابندیوں کے تحت بستیوں کی تعمیری سرگرمیوں، انفراسٹرکچر، مالیاتی معاونت اور رئیل اسٹیٹ میں سہولت کاری فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی سخت مالی و قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے واضح کیا تھا کہ یہ جامع فیصلہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور اس سے جڑے معاشی تعلقات کے حوالے سے برطانوی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کے تحت نئی بستیوں کی تعمیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ سمیت 12 اتحادی ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بستیوں کی مسلسل توسیع بند کرے اور دو ریاستی حل کے تمام سفارتی راستے مسدود کرنے سے گریز کرے۔

برطانیہ کے ان اقتصادی و سفارتی اقدامات پر اسرائیل نے نپٹا ہوا اور سخت ترین جوابی حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے برطانوی فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ پر عالمی برادری میں “سنگین اور من گھڑت جھوٹ” پھیلانے کا براہِ راست الزام عائد کیا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے ردِعمل کے طور پر مشرقی یروشلم میں سالہا سال سے قائم برطانوی قونصل خانے کے دفتری آپریشنز کو مکمل طور پر بند کرنے اور سفارتی عملے کی سہولیات محدود کرنے سمیت متعدد جوابی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

دوطرفہ سفارتی کشیدگی کا یہ نیا اور خوفناک دور ایک ایسے نازک لمحے پر شروع ہوا ہے جب اسرائیل نے مغربی کنارے کے انتہائی حساس علاقے ای 1 میں نئی بستیوں کی تعمیر کے لیے باضابطہ ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک اس منصوبے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ای 1 منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو مشرقی یروشلم سے جغرافیائی طور پر الگ تھلگ کر کے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی تمام امیدوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ اسرائیل کے اس تازہ ترین جوابی قدم کے بعد برطانیہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی و تجارتی تعلقات بدترین تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اروناچل پردیش میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان دو روزہ مذاکرات

محمود احمد, September 09,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر طویل عرصے سے جاری شدید عسکری کشیدگی کو کم کرنے کے تناظر میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اروناچل پردیش کے حساس سرحدی علاقے میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دو دور کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دہلی میں پریس بریفنگ کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اعلیٰ عسکری سطح کی پہلی فلیگ میٹنگ 6 ستمبر کو اروناچل پردیش میں بھارت کی جانب واقع واچا کے مقام پر ہوئی، جبکہ مذاکرات کی دوسری اہم ملاقات 7 ستمبر کو چین کی حدود میں واقع دامائی میں منعقد کی گئی۔ یہ مشرقی سیکٹر کی سرحد پر دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے درمیان پہلی باضابطہ کور کمانڈر سطح کی عسکری و سفارتی ملاقات تھی۔

وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں ممالک کے کمانڈروں کے درمیان یہ اہم مذاکرات اپر سبانسری کے متنازع ٹاکسنگ علاقے میں حال ہی میں پیدا ہونے والی عسکری کشیدگی کے پس منظر میں منعقد کیے گئے۔ بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام ملاقاتیں اگست 2025 اور اگست 2026 میں دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں کے درمیان طے پانے والی اعلیٰ سطحی مفاہمت، نیز مئی اور اگست 2026 میں بیجنگ اور نئی دہلی میں منعقدہ ورکنک میکنزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے فیصلوں کے تسلسل کے طور پر عمل میں لائی گئی ہیں۔

رندھیر جیسوال نے پریس کانفرنس کے دوران دو روزہ مذاکرات کے حتمی نتائج یا تفصیلی معاہدے کی فوری معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مغربی سیکٹر میں بھی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اسی نوعیت کا فعال اور مربوط رابطہ موجود ہے، جو سال 2020 میں وادیٔ گلوان میں ہونے والی خونریز عسکری جھڑپوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

بھارت اور چین کے درمیان طویل مشترکہ سرحد پر سرحدی تنازع کے باعث ایل اے سی کے متعدد حساس حصوں پر فوج کی بھاری نفری تعینات رہی ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں کے دوران دونوں ممالک نے باہمی عسکری و سفارتی رابطوں کو تیز کر کے کشیدگی میں کمی لانے اور سفارتی تعلقات کو استوار کرنے کی کاوشیں شروع کر رکھی ہیں۔ بھارتی ترجمان کے مطابق دوطرفہ تعلقات بتدریج مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مذاکرات کا یہ تازہ اور اہم دور چینی صدر شی جن پنگ کے بھارت میں متوقع برکس سربراہی اجلاس کے اہم دورے سے محض چند روز قبل سامنے آیا ہے، جسے خطے میں طاقت کے توازن اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی کوششوں میں انتہائی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی کا تاریخی اعلان

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات اور اشیائے صرف کی درامد پر باضابطہ طور پر مکمل پابندی عائد کرنے سمیت بستیوں کی غیر قانونی توسیع اور پھیلاؤ کے خلاف متعدد سخت اقدامات کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کے روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں خطاط کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ایک انتہائی جامع اور سخت پابندیوں کا بین الاقوامی نظام متعارف کرانے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پابندی کا بنیادی ہدف صرف غیر قانونی طور پر قائم کی گئی اسرائیلی بستیاں اور ان کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، جبکہ اس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ مجموعی یا عمومی دوطرفہ تجارت کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے اپنے سخت ترین موقف کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ برطانوی عوام یہ پسند کریں گے کہ ملک کی مارکیٹوں اور دکانوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع غیر قانونی بستیوں کی مصنوعات بیچ کر فلسطینی سرزمین پر قبضے اور تسلط کی مالی حمایت کی جائے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے بھی مشترکہ اور قومی سطح پر مغربی کنارے کی ان بستیوں کی اشیا پر پابندیاں نافذ کرنے کا باقاعدہ اعادہ کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق ان نئے قانونی اقدامات میں مناسب اور مخصوص مذہبی استثنا بھی شامل رکھا جائے گا، تاہم جو افراد، کمپنیاں یا ادارے ان غیر قانونی بستیوں کی تعمیر یا توسیع میں سہولت کاری فراہم کریں گے، انہیں برطانیہ کی جانب سے انتہائی شدید اقتصادی و سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے اندر مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور ان سے منسلک کاروباری اشتہارات کی نمائش پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمان میں دہرایا گیا کہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے سمیت بستیوں کی یہ مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے تمام سفارتی امکانات کو تباہ کر رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے پارلیمان میں برطانوی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ لندن حکومت مغربی کنارے میں فلسطینی باشندوں کی مسلسل جبری بے دخلی اور خطے کے بگڑتے حالات کو ‘نسلی صفائی’ کے مترادف سمجھتی ہے۔

برطانیہ کے اس فیصلے پر تل ابیب کے حکام کی جانب سے شدید اور تلخ ردِعمل سامنے آیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے بھی برطانوی اقدامات پر تنقید کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حتمی فیصلے کے بعد برطانیہ اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات میں مزید بگاڑ اور شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں


Brent oil prices rise

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی انتہائی حساس توانائی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے تباہ کن ڈرون و میزائل حملوں اور خلیج فارس میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ‘اقتصادی اور عسکری جنگ’ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں متعدد ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس شدید جیو پولیٹیکل بحران کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خطرات گہرے ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق منگل کو تجارتی سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کے بین الاقوامی سودے 1.39 ڈالر یعنی 1.43 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد 98.39 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتے رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی 2.25 ڈالر یعنی 2.46 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا اور یہ 93.73 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

اس سے قبل منڈی میں خرید و فروخت کے دوران برینٹ خام تیل کی اعلیٰ ترین قیمت 99.46 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی، جو کہ 24 جولائی کے بعد سے اب تک کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت دورانِ تجارت بڑھ کر 94.73 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو 8 جون کے بعد کی بلند ترین قیمت شمار کی جا رہی ہے۔

عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اچانک اس بڑے اور غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ سعودی عرب میں حوثیوں کی طرف سے حال ہی میں کیے گئے مربوط عسکری حملے ہیں۔ سعودی حکومت کے باضابطہ بیانات کے مطابق ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں بنیادی انفراسٹرکچر اور اہم توانائی کی تنصیبات ان حملوں کی زد میں آئی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے باعث خطے کے کئی پیدواری یونٹس اور توانائی کی تنصیبات کی سرگرمیاں وقتی طور پر معطل یا متاثر ہو چکی ہیں۔

دوسری طرف ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی باہمی عسکری و معاشی محاذ آرائی نے عالمی تیل کی مارکیٹ کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تہران کی طرف سے امریکی بحری ناکہ بندی اور کارروائیوں کے جواب میں شدید ردِعمل دینے اور خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کی دھمکی سے عالمی سرمایہ کاروں میں تیل اور گیس کی عالمی ترسیل بند ہونے کا شدید خوف پیدا ہو چکا ہے۔

عالمی ایندھن کے اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری راستے سے اِس وقت آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت معمول کے حجم سے کافی کم ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کل فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے ہرمز کے بحری راستے سے ہو کر دنیا بھر کے ممالک تک پہنچتا ہے۔ پینٹاگون کی سینٹرل کمانڈ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان ایک دوسرے کے تیل بردار جہازوں اور عسکری ہدف پر حملوں نے حالات کو بے حد سنجیدہ بنا دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں یہ عسکری ٹکراؤ اور کشیدگی طویل ہوئی تو خام تیل کی فی بیرل قیمت بہت جلد 100 ڈالر کا ہدف عبور کر جائے گی، جس سے عالمی معیشت اور افراطِ زر پر شدید دباؤ آئے گا۔

پاکستان کی سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت: وزیراعظم شہباز شریف کا کامل یکجہتی کا اظہار

کاشف عباسی , September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان نے سعودی عرب کی حدود میں شہری علاقوں اور اہم توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے حالیہ ڈرون و بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں پر ایسے بزدلانہ حملے نہ صرف معصوم انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے نازک امن اور سلامتی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سماجی رابطے کی بین الاقوامی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری کردہ اپنے خاص اور باضابطہ بیان میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں میں شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شریر حملوں کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین، سعودی قیادت اور برادر سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے کامل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پرتشدد عسکری کارروائیاں عام انسانی آبادی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ علاقائی توازن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

شہباز شریف نے پرزور انداز میں اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری، ملک گیر سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے مضبوط، تاریخی اور اصولی موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے ان حملوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار اور خصوصی دعا بھی کی ہے۔

پاکستان کی جانب سے یہ اہم سفارتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکام کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں کیے گئے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان حملوں سے کچھ توانائی کی تنصیبات کا آپریشن بھی متاثر ہوا ہے۔

دوسری طرف حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یمن پر ہونے والے حالیہ سعودی فضائی حملوں کے جواب میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے اقتصادی و عسکری مراکز پر جوابی حملہ کیا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف سے بڑھتی ہوئی اس شدید عسکری کشیدگی نے بین الاقوامی تجارتی راستوں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کی سلامتی پر شدید تشویش کے بادل پھیلا دیے ہیں۔

یمن پر 120 سے زائد سعودی فضائی حملوں کے بعد حوثیوں کا شدید جوابی ردِعمل: سعودی عرب پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین روز کے دوران یمنی سرزمین پر 120 سے زائد سعودی فضائی و بحری حملوں کے ردِعمل میں سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بیلسٹک میزائل اور بارود سے لیس ڈرونز داغے ہیں۔

حوثی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یمنی عسکری دستوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک انتہائی بڑے پیمانے کی ملٹری آپریشنل کارروائی مکمل کی ہے۔ ان کے بقول اس جامع حملے میں درجنوں جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا مربوط استعمال کیا گیا، جن کا بنیادی ہدف سعودی عرب کے اندر قائم مختلف عسکری اڈوں اور حساس معاشی تنصیبات کو بنانا تھا تاکہ حالیہ سعودی بمباری کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

یہ سنسنی خیز پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح باضابطہ آگاہ کیا گیا تھا کہ ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں حوثی حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ریاض حکومت نے خبردار کیا تھا کہ بے گناہ شہریوں اور عام انفراسٹرکچر پر متواتر بمباری کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس عسکری ٹکراؤ سے قبل یمن کے حوثی ابلاغی ادارے ‘المسیرہ’ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ شب صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ‘سینٹرل کریکشنل فیسلٹی’ یعنی مرکزی جیل کو شدید فضائی بمباری کا نشانہ بنایا۔ حوثی حکام کے مطابق تباہ شدہ جیل کے ملبے سے ایک خاتون سمیت 11 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید 20 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حوثیوں کا یہ بھی الزام ہے کہ الجوف کے علاوہ البیضا، مارب، تعز اور الحدیدہ پر بھی کروز میزائلوں سے شدید حملے کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں حوثی عسکری ترجمان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فورسز کے چار جدید ترین جاسوس ڈرونز، جن میں ایک طاقتور سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے، کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا نیا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سعودی عسکری حکام یا سرکاری ذرائع کی جانب سے حوثیوں کے تازہ ترین فضائی و میزائل حملوں، ڈرونز کی تباہی اور جیل پر بمباری کے ان دعوؤں پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ٹیلیفونک رابطہ؛ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اسلامی دنیا کے متحد ہونے پر زور

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو ایران کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر فوری اور انتہائی ذمہ دارانہ ردِعمل دینا چاہیے۔

ایرانی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے حسین ابراہیم طٰہٰ کو اسلامی تعاون تنظیم کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے اور سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کی مستقبل کی سفارتی کاوشوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران اس امید کا اظہار کیا کہ نئے سیکریٹری جنرل موجودہ دباؤ اور درپیش عالمی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے تنظیم کے پلیٹ فارم اور اسلامی دنیا کی اجتماعی صلاحیتوں کو مکمل اور مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں گے اور تمام رکن ممالک کے مابین باہمی اتحاد، سفارتی رابطے اور کثیر الجہتی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

اس اہم رابطے میں عباس عراقچی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو خطے میں امریکی اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایران کے خلاف ہونے والی مبینہ عسکری جارحیت اور اس کے بعد کی انتہائی حساس علاقائی صورتحال سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کی پامالی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے اسلامی دنیا کی جانب سے ایک مربوط، متفقہ اور جرات مندانہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے موجودہ سنگین بحران کے تناظر میں اسلامی ممالک پر باہمی مشاورت کو تیز کرنے اور یکجہتی کے پیغام کو عالمی سطح پر عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

ایران کا خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کا بڑا اعلان: امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف عسکری حکمتِ عملی تبدیل

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر میجر جنرل محسن رضائی نے خلیج فارس میں ایک بڑا عسکری و معاشی قدم اٹھاتے ہوئے سمندری ‘ممنوعہ زون’ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو حالیہ دنوں میں ایران کے جدید اور موثر میزائل تجربات کے ذریعے واضح اور دوٹوک پیغام پہنچایا جا چکا ہے، جس کے بعد تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں اور خطے میں قائم امریکی عسکری اڈوں کے خلاف اپنی تمام تر آپریشنل حکمتِ عملی اور پوزیشن کو بنیادی طور پر یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک خاص اور اہم بیان میں میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مسلط کردہ معاشی جنگ اور بحری ناکہ بندی کا موثر جواب دینے کے لیے ایران خلیج فارس کے حساس پانیوں میں ایک خصوصی ‘سمندری ممنوعہ زون’ قائم کر رہا ہے جو امریکی بحری ناکہ بندی کی آخری حدود تک پھیلا ہوا ہوگا۔

ایرانی حکام کے باضابطہ موقف کے مطابق تہران آنے والے چند دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کے باہر اس نئے ممنوعہ اور محدود بحری زون کے حتمی جغرافیائی حدود کا باقاعدہ اعلان کرے گا۔ یہ زون امریکی بحری ناکہ بندی کی قائم کردہ لائن سے شروع ہو کر خلیج فارس کے انتہائی اہم حصوں تک محیط ہوگا، جبکہ تہران نے متنبہ کیا ہے کہ اس زون میں پیشگی اجازت کے بغیر داخل ہونے والے تمام تر تجارتی و عسکری بحری جہازوں کو ایرانی بلیک لسٹ اور سخت ترین پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

یہ سنگین اور پیش رفت سے بھرپور بیان ایک ایسے موڑ پر سامنے آیا ہے جب خطے کے سمندری محاذ پر امریکہ اور ایران کی افواج کے مابین براہِ راست اور خونریز تصادم کے خطرات ڈرامائی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ دنوں میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل داغے تھے، تاہم پینٹاگون کے مطابق دونوں امریکی عسکری جہاز ان حملوں سے محفوظ رہے اور ان کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جب کہ اس کے برعکس تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلی بار کامیابی کے ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ میزائلوں سے امریکی بحری ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایرانی اقدامات کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور امریکی فوج ایران کو ہر امریکی جہاز پر حملے کے بدلے تین گنا معاشی قیمت چکانے پر مجبور کرے گی۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستے پر بننے والی اس شدید جنگی صورتحال، املاک کی تباہی اور ممکنہ ناکہ بندی نے عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی اور بحری آمدورفت کی سلامتی پر شدید خطرات کے بادل منڈلا دیے ہیں۔

حوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی: سعودی عرب کا سخت ردِعمل، شدید مذمت

محمود احمد, September 08,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جنوبی مملکت کے اہم شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری آبادی اور حساس اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سنگین واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان پرتشدد اور بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور اہم اعلامیے کے مطابق، حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آ کر جنوبی سعودی عرب کے مختلف اور اہم حصوں میں واقع توانائی اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی حکام نے ان کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک عسکری کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور قومی مفادات کی ہمہ وقت حفاظت کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ حوثی ملیشیا نہ صرف زمینی اہداف بلکہ بحیرۂ احمر جیسے اہم ترین تجارتی راستے پر بھی تجارتی بحری جہازوں کو مسلسل اور منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے، جس سے بین الاقوامی بحری آمدورفت اور آزادانہ سمندری تجارت کی سلامتی کو کھلے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے حوثیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان مخالفانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں اور تجارت کو مفلوج کرنے سے باز رہیں۔

اعلامیے کے مطابق، ریاض حکومت یمن کے ساتھ ساتھ اپنے تمام عرب اور اسلامی ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور پائیدار استحکام کو داؤ پر لگانے والے حوثی گروپ کے کسی بھی جارحانہ قدم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ بیان میں حوثیوں کی طرف سے خطے میں امن کی مسلسل کوششوں کو ناکام بنانے اور بات چیت کو معطل کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

سعودی حکومت نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مملکت کو اپنی جغرافیائی خودمختاری کے تحفظ، قومی وسائل کی سلامتی اور ملک میں موجود تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا آئینی و بین الاقوامی حق حاصل ہے۔ ریاض نے باور کرایا کہ اپنی سرزمین پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کی کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے: بچوں اور طبی عملے کے اہلکار سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

محمود احمد, September 07,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے تاریخی اور گنجان آباد قصبے کفر رمان پر اسرائیلی جیٹ طیاروں کی شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے، چار خواتین اور امدادی کاموں میں مصروف ایک طبی اہلکار بھی شامل ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق نبطیہ کے قریب کفر رمان میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 8 شدید زخمی ہوئے، جن میں تین معصوم بچے اور ایک طبی امدادی کارکن شامل ہے۔ اس حملے کے فوراً بعد ایک اور کارروائی کے دوران سڑک پر جاتی ہوئی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں مزید ایک طبی اہلکار ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی عسکری حکام نے فضائی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد خفیہ اور متحرک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی عسکری ترجمان کے مطابق یہ شدید کارروائیاں اسرائیلی فوجیوں پر حزب اللہ کی جانب سے بارود سے لدے دو ڈرون بھیجے جانے کے فوری جواب میں کی گئیں تاکہ درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ خونریز فضائی حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنوبی لبنان میں رواں سال جون میں طے پانے والے نازک جنگ بندی معاہدے کے باوجود سرحدی کشیدگی روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی بمباری کو خطرناک ترین عسکری پیش رفت قرار دیتے ہوئے امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت اور سفارتی اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

لبنانی حکومت نے اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدے کی متواتر خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ اسرائیل ان کارروائیوں کو اپنا دفاعی حق قرار دے رہا ہے۔ سرحد پر بڑھتی ہوئی مسلسل پرتشدد کارروائیوں نے خطے میں ایک نئی، مکمل اور وسیع تر جنگ کے خدشات کو انتہائی شدید کر دیا ہے۔