اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے تمام اشیاء کی درآمدات پر پابندی کا اعلان؛ نیدرلینڈز کا 22 ستمبر سے فیصلہ نافذ کرنے کا فیصلہ

Spread the love

محمود احمد, JULY 22,2026

ایمسٹرڈیم (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نیدرلینڈز کی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال 22 ستمبر سے اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے ہر قسم کی سامان اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یورپی یونین میں شامل آئرلینڈ، بیلجیئم اور سپین کے بعد نیدرلینڈز بھی ان اہم یورپی ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے تجارتی روابط ختم کرنے کے لیے باقاعدہ اقدامات کیے ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں مسلسل اضافے کے بعد 27 رکنی یورپی یونین پر اس قسم کی سخت پابندیوں کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ڈچ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “ان اقدامات کے ذریعے نیدرلینڈز اس غیر قانونی صورتِ حال اور قبضہ داری کا حصہ نہ بننے کی اپنی بین الاقوامی اور قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے عزم کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔” وزارت نے واضح کیا کہ اس نئی پابندی کا اطلاق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں میں تیار ہونے والی تمام اشیاء کی خرید و فروخت اور درآمد پر ہو گا۔

فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘گلوبل ایکو’ کے مطابق، غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے کی جانے والی مجموعی زرعی برآمدات کا ایک تہائی حصہ اکیلے نیدرلینڈز کو بھیجا جاتا تھا، جبکہ کل تجارتی برآمدات کا تقریباً آدھا حصہ یورپی یونین کی مارکیٹوں میں جاتا تھا، جس پر اب شدید اثرات مرتب ہوں گے۔