حفظِ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں ترامیم کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل؛ وفاقی وزیرِ قانون کمیٹی کے چیئرمین مقرر

Spread the love

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان نے ملک میں سرکاری و آئینی عہدوں کے حفظِ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی مقتدر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو اس اہم تزویراتی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کو بنیادی طور پر یہ مقتدر مینڈیٹ تفویض کیا گیا ہے کہ وہ وارنٹ آف پریسیڈنس کی موجودہ قانونی حیثیت کا گہرائی سے جائزہ لے اور سپریم کورٹ کے تاریخی ’مصطفیٰ امپیکس کیس‘ کے فیصلے کی روشنی میں ترامیم کے لیے مجاز اتھارٹی کا تعین کرے۔

اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے ڈھانچے میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور، وفاقی وزیر برائے قومی صحت و خدمات اور مشیرِ وزیرِ اعظم برائے پی ایم او کو بطور ارکان شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ انتظامی امور کو منظم کرنے کے لیے سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن کمیٹی کے رکن اور سیکریٹری ہوں گے جبکہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کمیٹی کو یہ خصوصی اور تادیبی اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی قانونی، آئینی اور انتظامی معاونت کے لیے کسی بھی وفاقی وزارت، ڈویژن یا ریاستی ادارے کے اعلیٰ افسر یا متعلقہ قانونی ماہر کو کمیٹی میں شامل کر سکتی ہے۔

کمیٹی کے تزویراتی دائرہ کار میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ اور اس کے چیئرمین کی جانب سے دی گئی سابقہ سفارشات پر تفصیلی نظرثانی کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کمیٹی ایسے ٹھوس اور شفاف قواعد و ضوابط تیار کرے گی جن کے تحت مستقبل میں کسی بھی سرکاری یا آئینی عہدے کو اس مقتدر لسٹ میں شامل، تبدیل یا حذف کیا جا سکے اور وارنٹ آف پریسیڈنس کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ایک مستقل اور خودکار طریقہ کار بھی تجویز کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے تحت کیبنٹ ڈویژن اس کمیٹی کو تمام سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی، جبکہ کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملکی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے ہر صورت 14 روز کے اندر اپنی حتمی سفارشات اور ترمیمی مسودہ وزیرِ اعظم کو پیش کرے۔