
محمود احمد, September 02,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست عسکری تصادم میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک موڑ سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ریڈار تنصیبات پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی افواج کے شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، مسلح افواج کے درجنوں خودکش اور جنگی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں ’الظفرہ اور ’المنہاد‘کو نشانہ بنایا ہے۔ دعوے میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی ہدف امریکی افواج کے جدید ترین ریڈار سسٹمز اور وہ حساس مقامات تھے جہاں یہ آلات نصب تھے۔
اس کے ساتھ ہی ایرانی فوج نے مزید بتایا کہ مملکتِ بحرین میں قائم ’شیخ عیسیٰ‘ امریکی ایئر بیس پر بھی کامیابی کے ساتھ دوبارہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے جدید ’آرش‘ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے امریکی افواج کی ریڈار تنصیبات اور ان کے اجتماع کے مراکز کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا ہے۔
ایرانی عسکری حکام نے صراحت کی ہے کہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر یہ شدید اور پے در پے حملے منگل کے روز امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی علاقوں پر کی جانے والی حالیہ بمباری کا براہِ راست اور فوری ردِعمل ہیں۔
واضح رہے کہ خلیج کے ان اہم اڈوں پر حملوں سے چند ہی گھنٹے قبل ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے کویت اور اردن میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر بھی بھاری راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کی باضابطہ اطلاع فراہم کی تھی۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں نے پورے خلیجی خطے کو ایک ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔