ایران نے جنگ شروع نہیں کی، امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر صرف دفاع کیا: برکس اجلاس میں صدر مسعود پزشکیان کا موقف

محمود احمد, September 13,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ جنگ اور عسکری کشیدگی کا آغاز ایران نے نہیں کیا، بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت اور حملوں کے بعد تہران نے صرف اپنے دفاع اور قومی سلامتی کی خاطر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔

نئی دہلی میں منعقدہ برکس (BRICS) سربراہ اجلاس کے موقع پر ایک خصوصی انٹرویو میں صدر مسعود پزشکیان نے تہران کے رسمی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی بھی خطے میں جنگ کا خواہاں رہا ہے اور نہ ہی اس نے جاری تنازع کو پھیلاؤ دینے کی کوئی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بیرونی جارحیت کا جواب دینا اور اپنی سرزمین کی حفاظت کرنا ایران کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے، سٹریٹیجک تنصیبات، عسکری کمانڈروں، ایٹمی سائنس دانوں اور عام شہریوں کو بیرونی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق تہران نے انہی مسلسل خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی اصولوں کی پامالی کے جواب میں دفاعی کارروائیاں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک طویل عرصے سے خطے میں پائیدار امن اور عدم تشدد کا حامی رہا ہے، تاہم اگر اس پر جارحیت اور عسکری دباؤ مسلط رکھا گیا تو وہ کسی صورت اپنے بنیادی دفاعی حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

مسعود پزشکیان کا یہ اہم بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی راستہ تلاش کرنے کے حوالے سے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر امریکہ اپنے سابقہ مفاہمتی وعدوں پر واپس آتا ہے اور جارحانہ انداز ترک کرتا ہے، تو تہران بھی اس کے مطابق جواب دہ اقدامات کے لیے فوری تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے تمام بحرانوں کا پائیدار حل بیرونی مداخلت کے بجائے علاقائی ممالک کے باہمی تعاون اور مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر نئی دہلی میں جاری برکس اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے انٹرویو اور ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے بیانات پر مبنی ہے۔ ایران کی جانب سے جنگ میں پیش قدمی نہ کرنے کا بیان ان کا اپنا سفارتی اور سیاسی موقّف ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل ان حملوں کے پس منظر میں اپنے الگ تزویراتی مقاصد پیش کرتے ہیں۔

ماخذ: ارنا (IRNA)، پریس ٹی وی، برکس سمٹ پریس پول۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ: ایران سے جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، ایندھن کی قیمتوں میں فوری کمی آئے گی

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری عسکری کشیدگی اور جنگ نومبر 2026ء میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، اور جنگ بندی کے بعد امریکہ سمیت عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں انتہائی تیزی سے نیچے آئیں گی۔

آئرلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ انہیں کامل توقع ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع رواں سال کے اختتام سے قبل حل ہو جائے گا، تاہم انہوں نے اس پیش رفت کو خاص طور پر 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کے وقت سے مشروط کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “جیسے ہی یہ جنگ ختم ہوگی، پٹرول اور ایندھن کی قیمتیں غیر معمولی رفتار سے نیچے آئیں گی۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تہران اندرونی و بیرونی دباؤ کے باعث امریکہ کے ساتھ معاشی و سیکیورٹی معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں اور سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ تیل پائپ لائن پر حالیہ ڈرون سٹرائیکس نے عالمی انرجی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں شدید ہلچل مچا رکھی ہے۔

تاہم، عالمی توانائی کے ماہرین اور آزاد حقیقت اور تجزیاتی ادارے FactCheck.org کے مطابق جنگ ختم ہونے کے باجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اور یکدم کمی کا ہونا یقینی نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کا انحصار صرف جنگ بندی پر نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کے بحری راستوں کی مکمل بحالی، عالمی آئل سپلائی، ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت اور بین الاقوامی مارکیٹ کے ردِعمل جیسے متعدد پیچیدہ عوامل پر ہوتا ہے۔

اس سے قبل بھی ایرانی حکام کی جانب سے امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق بعض دعووں کی بارہا تردید کی جا چکی ہے، جس کے باعث سفارتی تجزیہ کار ان بیانات کو حتمی پیش رفت کے بجائے صدر ٹرمپ کا اپنا سیاسی مؤقف قرار دے رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر آئرلینڈ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا گفتگو اور امریکی و عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی تاریخ اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے دعوے کا انحصار صدر ٹرمپ کی ذاتی پیش گوئی پر ہے، جبکہ معاشی ماہرین اور تہران کے بیانات اس سے مختلف امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ماخذ: وائٹ ہاؤس پریس پول، فوکس نیوز، FactCheck.org، آن لائن نیوز ایجنسیز۔

ایران کا امریکی شہریوں سے جنگ کا پیادہ نہ بننے کا مطالبہ؛ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی زیرِ زمین مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

محمود احمد, September 05,2026

تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شہریوں سے زوردار اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو اپنے وجود کو ایران کے ساتھ جاری فوجی محاذ آرائی میں ‘جنگ کا پیادہ’ بنانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر امریکی عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنانے اور اس کے بھاری اخراجات ادا کرنے سے باز رہیں جس کا انہوں نے جمہوری طور پر کبھی انتخاب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو خطے میں بلاوجہ ‘کرائے کے سپاہی’ بننے سے روکیں۔

اسماعیل بقائی کے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے واضح عندیے نے خطے میں جاری شدید کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

تازہ امریکی بیانات اور دھمکیوں میں صدر ٹرمپ نے ایران کے نطنز ایٹمی مرکز کے قریب واقع انتہائی محفوظ اور گہرے زیرِ زمین مقام ‘کوہِ کلنگ گاز لا’ کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ مقام کئی سالوں سے تعمیر کیا جانے والا ایک انتہائی مضبوط اور بم پروف کمپلیکس ہے، جسے پہاڑوں کی گہرائی کے باعث روایتی فضائی حملوں سے تباہ کرنا ناممکن حد تک مشکل تصور کیا جاتا ہے۔

ایران اس مقام پر کسی بھی قسم کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اور اسرائیلی دعوؤں اور الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں بھی واضح کیا کہ کوہِ کلنگ میں کوئی جوہری یا ایٹمی سرگرمی انجام نہیں دی جا رہی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری اس سنگین فوجی تنازع کو کم اہمیت دیتے ہوئے اسے ایک ‘چھوٹا معاملہ’ قرار دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کے بجائے ایک محدود ‘فوجی تصادم’ کہنا زیادہ مناسب ہوگا جو امریکہ کے لیے ایک محدود نوعیت کا آپریشن ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔

آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھلے گا: ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا دبنگ اعلان

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید عسکری محاذ آرائی اور سمندری ناکہ بندی کے تناظر میں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو سخت خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ ایران کی منشا اور مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھولی جائے گی۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک اہم اور تند و تیز بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ حالیہ خوفناک جنگ کے برپا ہونے کے بعد امریکی افواج اور بحری بیڑے خوف کے باعث ایرانی سرحدوں سے تقریباً 500 میل دور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرانے میں ناکامی کے باعث اب بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جارحانہ اقدامات کر رہا ہے۔

ابراہیم عزیزی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی ہر قسم کی گیدڑ بھبکیوں اور عسکری دھمکیوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنی بے پناہ عسکری طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور سمندری سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی فضائیہ اور بحریہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں پر کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔ امریکی پینٹاگون اور سنٹرل کمانڈ نے ان کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور بین الاقوامی تجارتی و تیل بردار بحری جہازوں پر ڈرون و میزائل حملے کرنے کی ایرانی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

دوسری جانب، ایران نے امریکی فضائی حملوں کا سخت جوابی ردِعمل دیتے ہوئے اردن، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ایئر بیسز پر پے در پے بیلسٹک میزائلوں اور انتحاری ڈرونز سے تابڑ توڑ حملے کیے ہیں، جس کے باعث پورے خلیجی خطے میں عالمی توانائی اور بحری تجارت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

ایران کا اقوامِ متحدہ میں امریکی حملوں کے خلاف شدید احتجاج: ‘عام شہریوں اور سکولوں پر بزدلانہ حملے کھلم کھلا جنگی جرم ہیں’

محمود احمد, September 03,2026

نیویارک/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

اقوامِ متحدہ میں جمہوریہ اسلامی ایران کے دائمی مشن نے امریکہ پر ایران کے متعدد گنجان آباد شہروں میں عام شہریوں پر دانستہ حملے کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کو گولا باری کا نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی سنگین ورزی اور ایک صریح ‘جنگی جرم’ ہے۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن غلام حسین درزی نے عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو ارسال کردہ اپنے ہنگامی اور باضابطہ خط میں یکم ستمبر کو ہونے والے بھیانک امریکی فضائی حملوں کا تفصیل سے حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں مؤقف اختیار کیا کہ جنوبی ایران کے سرحدی و ساحلی شہروں میں رہائشی علاقوں اور شہری اہداف کو دانستہ اور حکمتِ عملی کے تحت تباہ کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مارچ 1404 (شمسی ہجری تقویم) میں حالیہ خونریز جنگ کے برپا ہونے کے بعد سے واشنگٹن انتظامیہ نے مسلسل سویلین آبادی، عوامی مقامات اور قومی بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا ہے۔ ان حملوں میں سکول، ہسپتال، ایئرپورٹس، رہائشی کالونیاں، پل، سڑکیں اور ریلوے کی حساس تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ایران کے ہرمزگان صوبے میں امدادی ٹیموں اور ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے حکام کے مطابق کوہستک کی بندرگاہ کے قریب ہونے والے تازہ حملے میں ایک معصوم بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون نے سویلینز کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی حملوں میں صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی عسکری تنصیبات اور کمانڈ سنٹرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم، کوہستک میں شادی ہال کے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر بی بی سی فارسی کے ‘فیکٹ فائنڈنگ ڈیپارٹمنٹ’ نے مشاہدہ کیا کہ تباہ شدہ شادی ہال قریبی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور سے کم از کم 110 میٹر کی دوری پر واقع تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکی حملے کا اصل ہدف وہ مواصلاتی ٹاور تھا جو غلط نشانہ دہی یا ضمنی تباہی کے باعث قریبی آبادی پر اثر انداز ہوا۔

ایران کا بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست عسکری تصادم میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک موڑ سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ریڈار تنصیبات پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی افواج کے شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، مسلح افواج کے درجنوں خودکش اور جنگی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں ’الظفرہ اور ’المنہاد‘کو نشانہ بنایا ہے۔ دعوے میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی ہدف امریکی افواج کے جدید ترین ریڈار سسٹمز اور وہ حساس مقامات تھے جہاں یہ آلات نصب تھے۔

اس کے ساتھ ہی ایرانی فوج نے مزید بتایا کہ مملکتِ بحرین میں قائم ’شیخ عیسیٰ‘ امریکی ایئر بیس پر بھی کامیابی کے ساتھ دوبارہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے جدید ’آرش‘ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے امریکی افواج کی ریڈار تنصیبات اور ان کے اجتماع کے مراکز کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام نے صراحت کی ہے کہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر یہ شدید اور پے در پے حملے منگل کے روز امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی علاقوں پر کی جانے والی حالیہ بمباری کا براہِ راست اور فوری ردِعمل ہیں۔

واضح رہے کہ خلیج کے ان اہم اڈوں پر حملوں سے چند ہی گھنٹے قبل ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے کویت اور اردن میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر بھی بھاری راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کی باضابطہ اطلاع فراہم کی تھی۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں نے پورے خلیجی خطے کو ایک ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں میں 100 سے زائد امریکی فوجی زخمی؛ پینٹاگون نے تصدیق کر دی

منصور احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے متعدد فضائی اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پینٹاگون کے مرکزی ترجمان سین پارنیل نے ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 7 جولائی 2026ء کے بعد سے شروع ہونے والی ایرانی حملوں کی نئی لہر میں 100 کے قریب امریکی فوجیوں کو مختلف نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ ان میں سے 96 فیصد اہلکار معمولی زخمی تھے، جو ابتدائی طبی امداد کے بعد دوبارہ اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے لیے ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک رپورٹس کے مطابق اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ ایک لاپتہ فوجی اہلکار کے مقام سے نامعلوم باقیات ملی ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں ایرانی خودکش ڈرون کے باقی ماندہ دھماکا خیز مواد کو کنٹرولڈ طریقے سے تباہ کرنے کے دوران ایک اور امریکی فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پینٹاگون نے فی الحال تازہ ترین حملوں کے مکمل نقصانات اور زخمیوں کی حتمی فہرست کو بوجوہ عام نہیں کیا۔

امریکی فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا مکمل ریکارڈ رکھنے والے ادارے ‘ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم’ کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری تصادم کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 413 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں (جس میں جاری جولائی کے مہینے کے زخمی شامل نہیں ہیں)۔ اعداد و شمار کی الگ رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی یہ تعداد 427 تک جا پہنچتی ہے، جبکہ اردن اور عراق میں ہونے والی تازہ ہلاکتوں کو شامل کرنے کے بعد اس تصادم میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 17 ہو گئی ہے۔