جون کے بڑے احتجاج سے قبل آزاد کشمیر حکومت کا بڑا ایکشن، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا، پورے خطے میں موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل، سیاحوں کو فوری علاقہ چھوڑنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) حکومت نے نو جون کو ہونے والے مجوزہ بڑے اور ملک گیر احتجاج سے قبل ایک انتہائی بڑا اور تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت باقاعدہ طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے، مظفرآباد سے موصول ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ سخت ترین فیصلہ سیکیورٹی کے شدید خدشات اور خطے میں ممکنہ بدامنی و ہنگامہ آرائی کو روکنے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جس کے فوری بعد پورے آزاد کشمیر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے مزید سخت کر دیا گیا ہے، محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق جے اے اے سی کو “امن و امان کے لیے ایک بڑا خطرہ” قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس تنظیم کی حالیہ سرگرمیاں معاشرے میں شدید انتشار، جلاؤ گھیراؤ اور عدم تحفظ پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں، حکومت نے پبلک سیفٹی اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت سیاحوں کو اس پیک سیزن کے دوران بھی فوری طور پر آزاد کشمیر کا علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ نئے آنے والے تمام ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دورے بیس جون تک لازمی طور پر مؤخر کر دیں، مزید برآں انتظامیہ کو تمام ہوٹلوں کو فوری طور پر خالی کرانے کے سخت احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں، سیکیورٹی خدشات کی اسی سنگین صورتحال کے باعث پورے خطے میں ہونے والے تعلیمی امتحانات کو بھی تا حکمِ ثانی ملتوی کر دیا گیا ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حساس مقامات پر وفاقی اور مقامی اضافی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اطلاعات کے مطابق آدھی رات کے وقت پورے آزاد کشمیر کے خطے میں موبائل ڈیٹا اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کو بھی مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ عام فون کال سروسز کو جزوی طور پر بحال رکھا گیا ہے تاکہ شرپسند عناصر سوشل میڈیا کا استعمال نہ کر سکیں، واضح رہے کہ جے اے اے سی کی جانب سے نو جون کو دی جانے والی اس مجوزہ احتجاجی تحریک کا اصل تنازع مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے کے گرد گھومتا ہے، جس میں یہ تنظیم آزاد کشمیر اسمبلی کی بارہ مخصوص نشستوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا بنیادی مطالبہ کر رہی ہے، تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں خالصتاً سیاسی فائدے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور اس سے مقامی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم آزاد کشمیر حکومت اور دیگر بڑے سیاسی حلقے اس مؤقف سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، دوسری جانب اس حساس معاملے پر عدالتی پیش رفت کے تحت آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے ان کی قانونی رائے طلب کر لی ہے جس کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال یا قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے تمام محکمے الرٹ ہیں۔