آسٹریلیا کی تاریخی ‘ماؤنٹ لائل’ تانبے کی کان 15 سال بعد 2029 میں دوبارہ فعال کرنے کا اعلان، 350 ملین امریکی ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی منظوری

محمود احمد, September 02,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

آسٹریلیا کی خوبصورت جزیرہ ریاست تسمانیہ کے مغربی ساحل پر واقع تاریخی تانبے کی کان 15 سال طویل بندش کے بعد بالاخر سال 2029 میں دوبارہ اپنی پیداوار کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔ اس تاریخی کان کو سال 2014 میں پیش آنے والے دو الگ الگ المناک حادثات میں 3 کان کنوں کی ہلاکت کے بعد مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔

چین کے خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، حکومتِ تسمانیہ نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک رسمی بیان میں جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی مائننگ کمپنی ‘سبیانے سٹل واٹر’ کے اس فیصلہ کن اقدام کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ماؤنٹ لائل تانبے کی کان سے 2029 تک تانبے کی پیداوار کا عمل دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔

تسمانیہ کے وزیر برائے کاروبار، صنعت اور قدرتی وسائل فیلکس ایلس نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ اس تاریخی کان میں پیداوار کی بحالی سے خطے میں 300 سے زائد بلاواسطہ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس تاریخی منصوبے کا دوبارہ آغاز مغربی ساحلی خطے میں خطیر نئی سرمایہ کاری، بہترین اور پرکشش اجرت والی ملازمتیں اور ایک طویل مدتی معاشی اعتماد لے کر آئے گا۔

صنعتی منصوبے کے خدوخال کے مطابق، ماؤنٹ لائل کان کی بحالی اور جدید کاری پر عملی تعمیراتی کام 2027 کی پہلی ششماہی میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس کے لیے جنوبی افریقی مائننگ کمپنی کی جانب سے تقریباً 490 ملین آسٹریلوی ڈالر (جو تقریباً 350 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں) کی بھاری سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ تانبے کی یہ مشہور کان 1890ء کی دہائی میں قائم کی گئی تھی اور اس نے آسٹریلیا کی کان کنی کی صنعت میں دہائیوں تک اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، سال 2014 میں کان کے اندر دو الگ الگ خوفناک حادثات کے نتیجے میں 3 محنت کشوں کی ہلاکت کے بعد حفاظت کے پیشِ نظر اس میں کام مکمل طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔