ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس تہران میں اختتام پذیر

منصور احمد, JULY 06,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ آخری رسومات اور انتظامات کا جائزہ لینے والے مقتدر ادارے کے مطابق، یہ سوگواری جلوس شام پانچ بجے تہران کے مصلیٰ سے ایک خصوصی ٹرالر پر روانہ ہوا اور اس نے تقریباً دس گھنٹوں کا طویل سفر طے کرتے ہوئے آزادی اسکوائر تک کا راستہ مکمل کیا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مقتدر مانیٹرنگ سیل کے مطابق، اس جلوس میں لاکھوں کی تعداد میں سوگواروں اور شہریوں نے شرکت کی، جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں گہرے سرخ پرچم اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق، علی خامنہ ای کے تابوت کو کل قم سے عراق کے مقدس شہر نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کے روضہ مبارک پر منتقل کیا جائے گا۔ عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق، سابق سپریم لیڈر کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای، ایران کے موجودہ صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے مقتدر اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی خصوصی طور پر نجف جائیں گے اور عراق میں نمازِ جنازہ کے مقتدر اجتماعات میں شرکت کریں گے۔ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ بدھ کے روز عراق کے مقتدر شہروں کربلا اور نجف میں ادا کی جائے گی، جبکہ انہیں جمعرات کے روز ایران کے شہر مشہد میں حرمِ امام رضا علیہ السلام میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ادھر جنازے کے جلوس کے دوران تہران کی سڑکوں پر کچھ سوگواروں کو امریکہ اور اسرائیل مخالف پوسٹرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے بھی دیکھا گیا، جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خلاف سخت نعرے درج تھے۔ مقتدر خبر رساں ادارے ’’فارس نیوز‘‘ کے دفتری ٹیلی گرام چینل پر ایک ویڈیو بھی نشر کی گئی ہے، جس میں کچھ سوگواروں کو ایک فلائی اوور پر امریکی صدر کے پوسٹر پر علامتی طور پر پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا غلط اندازہ آرائی کا ہماری مسلح افواج سخت ترین جواب دیں گی، کمانڈر علی عبداللہی؛ قم میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے انتظامات مکمل

کاشف عباسی , JULY 02,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

ایران نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی سے قبل اپنے روایتی حریفوں امریکا اور اسرائیل کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے یا تزویراتی جارحیت سے مکمل گریز کریں۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے سینئر کمانڈر علی عبداللہی نے ایک تزویراتی بیان میں واضح کیا کہ ہم ایران کے دشمنوں، بالخصوص امریکا اور اسرائیل کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ وہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی غلط اندازہ آرائی سے باز رہیں اور یہ بات اپنے ذہن نشین رکھیں کہ ہمارے ملک کے خلاف اٹھنے والے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا ہماری مسلح افواج انتہائی سخت اور دندان شکن جواب دیں گی۔

ایرانی حکام کی جانب سے یہ مقتدر بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی سرکاری سطح پر نمازِ جنازہ کی بڑے پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں اور خطے میں تزویراتی کشیدگی عروج پر ہے۔ دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ کے انتظامات سے متعلق حتمی صورتحال غیر معمولی ہجوم کے باعث اب بھی واضح نہیں ہے۔ ایران کے مقتدر صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی منصوبہ بندی تو مکمل کر لی گئی ہے، تاہم لاکھوں کی تعداد میں متوقع ہجوم اور سیکیورٹی خدشات کے باعث حتمی طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تمام انتظامات سو فیصد منصوبے کے عین مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر کمانڈر فتح اللّٰہ جمیری نے روٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ نمازِ جنازہ کا مرکزی جلوس مسجدِ جمکران سے شروع ہو کر حضرت فاطمہ معصومہ کے روضہ مبارک تک جانے کا تزویراتی منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس سیکیورٹی فورسز کی مدد سے نمازِ جنازہ کے جلوس کا مکمل روٹ اور متبادل راستے موجود ہیں، لیکن عوام کی ریکارڈ توڑ تعداد، بیرونی شرکاء کی آمد اور ٹریفک کی غیر معمولی صورتحال کے باعث ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ عملی طور پر زمینی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔ تہران اور قم سمیت پورے ایران میں اس وقت سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔