

کاشف عباسی , JULY 02,026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء
ایران نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی سے قبل اپنے روایتی حریفوں امریکا اور اسرائیل کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے یا تزویراتی جارحیت سے مکمل گریز کریں۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے سینئر کمانڈر علی عبداللہی نے ایک تزویراتی بیان میں واضح کیا کہ ہم ایران کے دشمنوں، بالخصوص امریکا اور اسرائیل کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ وہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی غلط اندازہ آرائی سے باز رہیں اور یہ بات اپنے ذہن نشین رکھیں کہ ہمارے ملک کے خلاف اٹھنے والے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا ہماری مسلح افواج انتہائی سخت اور دندان شکن جواب دیں گی۔
ایرانی حکام کی جانب سے یہ مقتدر بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی سرکاری سطح پر نمازِ جنازہ کی بڑے پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں اور خطے میں تزویراتی کشیدگی عروج پر ہے۔ دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ کے انتظامات سے متعلق حتمی صورتحال غیر معمولی ہجوم کے باعث اب بھی واضح نہیں ہے۔ ایران کے مقتدر صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی منصوبہ بندی تو مکمل کر لی گئی ہے، تاہم لاکھوں کی تعداد میں متوقع ہجوم اور سیکیورٹی خدشات کے باعث حتمی طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تمام انتظامات سو فیصد منصوبے کے عین مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر کمانڈر فتح اللّٰہ جمیری نے روٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ نمازِ جنازہ کا مرکزی جلوس مسجدِ جمکران سے شروع ہو کر حضرت فاطمہ معصومہ کے روضہ مبارک تک جانے کا تزویراتی منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس سیکیورٹی فورسز کی مدد سے نمازِ جنازہ کے جلوس کا مکمل روٹ اور متبادل راستے موجود ہیں، لیکن عوام کی ریکارڈ توڑ تعداد، بیرونی شرکاء کی آمد اور ٹریفک کی غیر معمولی صورتحال کے باعث ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ عملی طور پر زمینی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔ تہران اور قم سمیت پورے ایران میں اس وقت سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔