مودی سرکار کی نفرت انگیز سیاست کے خلاف نوجوان باغی، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بھارتی نوجوانوں کی حقیقی آواز بن گئی، ہندو مسلم بیانیے کے بجائے تعلیم اور روزگار دینے کا مطالبہ، تحریک تیز کرنے کا اعلان

منصور احمد june 09,2026

نئی دہلی(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

بھارت میں مودی سرکار کی عوام دشمن تعلیمی و معاشی پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کی ایک منفرد اور بڑی احتجاجی تحریک کے طور پر ابھرنے والی ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں پر سخت اور تیکھی تنقید کرتے ہوئے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی سیاست کو مذہبی منافرت اور تقسیم کے بجائے خالصتاً تعلیم، روزگار کی فراہمی اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل پر مرکوز کیا جائے، نئی دہلی اور بھارتی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مودی سرکار کو کڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی سیاست کو جان بوجھ کر صرف ہندو مسلم کے زہریلے بیانیے تک محدود رکھا گیا ہے، تاکہ عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا سکے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس نفرت انگیز سیاست کے باعث نوجوانوں کو درپیش بڑھتی ہوئی بے روزگاری، تعلیمی نظام کے سنگین مسائل اور روزگار کے مواقع کی بدترین کمی جیسے سب سے بنیادی اور اہم مسائل پسِ منظر میں چلے گئے ہیں، ابھیجیت دیپکے کا کہنا تھا کہ بھارت کی نئی اور باشعور نوجوان نسل اب مودی سرکار کے کھوکھلے نعروں کے بجائے اپنے مستقبل، تعلیم کی بہتری اور معقول ملازمتوں کے حوالے سے عملی و فوری اقدامات چاہتی ہے، انہوں نے مودی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں اور نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں جاری احتجاجی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری کٹھ پتلی سرکار پر عائد ہوگی، کاکروچ جنتا پارٹی کے مرکزی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی وزیر تعلیم کے فوری استعفے کے اپنے اصولی مطالبے کے ساتھ ساتھ ملکی تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بہت جلد ایک جامع اور تاریخی قومی ایجنڈا بھی عوام کے سامنے پیش کرے گی، واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارت کے طول و عرض میں امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے، پیپرز لیک اسکینڈلز اور نتائج میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کرپشن و تنازعات کے بعد بھارت کے مختلف بڑے شہروں میں طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے مودی سرکار کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور غصے میں روزبروز ہولناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، نئی دہلی کے سیاسی مبصرین کے مطابق نوجوانوں کے ان سلگتے ہوئے مسائل اور روزگار سے متعلق سخت مطالبات نے اس وقت بھارتی سیاست کے ایوانوں میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے اور مودی سرکار دفاعی پوزیشن پر آ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں بھی اب انتخابی میدان میں نوجوان ووٹرز کے اس بڑھتے ہوئے انقلابی کردار کو انتہائی اہم قرار دینے پر مجبور ہو چکی ہیں، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے اپنے فولادی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوانوں کی یہ تحریک ناصرف مودی کے فاشسٹ نظریات کا مقابلہ کرے گی بلکہ تعلیم، نظام میں مکمل شفافیت، میرٹ کی بحالی اور روزگار کے بہترین مواقع کے حصول کو ہی اپنی اس بڑی جدوجہد کا بنیادی محور بنائے رکھے گی۔