

محمود احمد, September 02,2026
غزہ/یروشلم (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان تاریخی جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے باوجود غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی ہلاکت خیز کارروائیاں اور فضائی بمباری کا سلسلہ مکمل طور پر نہ تھم سکا، جس کے نتیجے میں رواں سال میں ہی 900 سے زائد فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کی خصوصی تحقیقاتی شاخ ‘بی بی سی ویریفائی’ نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1300 سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جن میں نا قابلِ یقین حد تک 301 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن فارمولے کو تسلیم کرتے ہوئے تمام تر جنگی کارروائیوں، بشمول فضائی حملوں اور توپ خانے کی شدید بمباری کو فوری طور پر روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم بی بی سی ویریفائی کی جانب سے کیے گئے درجنوں مستند ویڈیوز اور سیٹلائٹ مناظر کے باریک بینی سے تجزیے نے ثابت کیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدو ں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساحلِ سمندر پر قائم ایک معروف کیفے، بے گھر افراد کی عارضی خیمہ گاہوں اور وسطی غزہ میں ایک جنازے کے جلوس پر مہلک حملے کیے گئے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار، جن کا بی بی سی نے اپنے آزادانہ تجزیے میں جائزہ لیا ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ مہینے ہلاکتوں کے لحاظ سے خوفناک ترین رہے ہیں اور رواں سال اپریل سے اگست کے درمیان ہر ماہ 100 سے زائد افراد کی شہادت ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ وزارتِ صحت تمام ہلاکتوں کا ذمہ دار اسرائیلی فوجی آپریشنز کو قرار دیتی ہے اور ہلاک شدگان میں عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کی الگ سے درجہ بندی نہیں کرتی، تاہم اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ وزارتِ صحت کے یہ ارقام بالکل قابلِ اعتماد اور حقیقت پر مبنی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج نے بی بی سی ویریفائی کو دیے گئے اپنے باضابطہ موقف میں ان ارقام کو سرے سے مسترد کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ماننے کی کوئی منطقی بنیاد نہیں کہ تمام ہلاک شدہ افراد صرف آئی ڈی ایف کی کارروائیوں سے مارے گئے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے صرف ہنگامی خطرات کے خاتمے کی خاطر معاہدے کے دائرہ کار میں انتہائی درست کارروائیاں کرتی ہے۔
تاہم بی بی سی کی اس خبر میں اس اہم پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں خود اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک سینیئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی اس طویل اور بھیانک جنگ میں اب تک 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے صرف 20 ہزار سے زائد جنگجو شامل تھے۔