

محمود احمد june 21,2026
زیورخ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء
سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کے باقاعدہ آغاز پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ کے جیو پولیٹیکل مذاکراتی مرکز میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین سٹرٹیجک تعلقات اور خطے کے امن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، اور ملاقات میں اس وقت غیر معمولی سفارتی گرمجوشی دیکھی گئی جب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شاندار استقبال کیا اور ان سے گرمجوشی سے بغل گیر ہوئے۔
بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت وہاں کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کر رہے ہیں، جسے ایرانی میڈیا میں ’میناب 168‘ کا خصوصی نام دیا گیا ہے، اس وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس خود کر رہے ہیں۔ عالمی امن کے اس مقتدر عمل میں سہولت کار کے طور پر قطر اور سوئٹزرلینڈ کے خصوصی نمائندے بھی کلیدی حیثیت میں شریکِ گفتگو ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس اہم پیشرفت پر اپنا مقتدر مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ امن مفاہمت پر عملدرآمد کی بھرپور تائید و حمایت کرتا ہے اور اس عالمی عمل کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار مستقل جاری رکھے گا۔ اس تاریخی عالمی سربراہی موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود کے ساتھ سائیڈ لائن پر انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس سنگین عالمی بحران میں پاکستان کی سفارتی سہولت کاری اس کے اصولی، متوازن اور امن پسند مؤقف کی کھلی مظہر ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی کامیاب میزبانی اور پاکستان کے مسلسل مقتدر سفارتی رابطے ہی بالآخر دونوں فریقین کو ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کی میز پر لانے کا بنیادی باعث بنے ہیں۔