عالمی امن کا سنہری موقع: امریکہ اور ایران کے درمیان ایسے نتیجہ خیز مذاکرات کے منتظر ہیں جو مثبت نتائج لائیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری تاریخی بات چیت کو عالمی تاریخ کا ایک بڑا تزویراتی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن کے مستقل قیام کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اور سنہری موقع ہے، جہاں ہم سب مل کر دنیا بھر میں امن و استحکام کا ایک مضبوط اور پائیدار اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مقتدر اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے سیشن کے اختتام پر وزیرِ اعظم پاکستان نے بین الاقوامی میڈیا سے خصوصی گفتگو کی۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس انتہائی پیچیدہ اور نازک امن معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے پسِ پردہ ایک غیر معمولی، کلیدی اور مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت، جرات مندانہ سوچ اور براہِ راست مذاکرات کے فعال ویژن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی تزویراتی دور اندیشی کے باعث امریکہ اور ایران کا ایک میز پر بیٹھنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سرگرم سفارت کاری کو بھی سراہا اور قوی امید ظاہر کی کہ یہ نتیجہ خیز مذاکرات مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے مثبت معاشی و سیاسی نتائج لائیں گے۔

اس اہم مقتدر موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ جے ڈی وینس نے پاک فوج کے سربراہ کی اعلیٰ حکمتِ عملی کا اعتراف کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک بہترین سپہ سالار قرار دیا۔ امریکی نائب صدر نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شروع دن سے ہی اس امن مشن میں واشنگٹن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں، اور اس سنگین عالمی بحران کو ٹالنے کے لیے پاکستان نے جو غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اسے عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے سراہا گیا ہے۔ جے ڈی وینس نے پاک-امریکہ دیرینہ تعلقات کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میرے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد دوست ہیں، اور دونوں ممالک کا باہمی سیکیورٹی تعاون خطے کی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکہ اور ایران کا پاکستان کی اعلیٰ قیادت پر بھرپور اعتماد، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی مذاکراتی میز پر متحرک شرکت

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے مقتدر شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی میں کمی، پائیدار جنگ بندی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تاریخ ساز مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی پریس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود ایک خصوصی بند کمرہ اجلاس میں آمنے سامنے بیٹھے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، فوری جنگ بندی، سفارتی چینلز کی بحالی اور مستقبل کے پائیدار امن فریم ورک کے مختلف تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی اور گہرائی سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق، ان انتہائی حساس اور معلق مذاکرات کو ممکن بنانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک تاریخی، متوازن اور مؤثر ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی اور دونوں عالمی طاقتوں کے ساتھ یکساں مضبوط سفارتی رابطوں کو اس پورے مذاکراتی عمل میں مرکزی اور نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران دونوں ممالک نے پاکستان کے مصالحتی کردار کو دل کھول کر سراہتے ہوئے اس اہم ترین امن مشن میں پاکستان کی فعال شمولیت اور رہنمائی پر اپنے غیر مشروط اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس مقتدر امن مشن میں پاکستان کی تزویراتی نمائندگی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خود کر رہے ہیں۔

عالمی سفارتی گیلری کے مطابق، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے اہم ترین مقتدر مہرے شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جن کے ہمراہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کے دیگر اعلیٰ حکام بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں پاکستان کے علاوہ برادر ملک قطر کا اعلیٰ سطحی وفد بھی سہولت کار کے طور پر شریک ہے۔ اس وقت پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران پر مشتمل چار ملکی اسٹرٹیجک اجلاس میں مروجہ “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے اہم نکات، مستقل جنگ بندی کے امکانات اور علاقائی استحکام کے آئندہ کے سفارتی لائحہ عمل پر باریک بینی سے تکنیکی مشاورت جاری ہے۔ عالمی سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق، دو روایتی حریفوں کو ایک میز پر لانا پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، موجودہ سیاسی قیادت اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک شاندار اور تزویراتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب اس اجلاس کے باقاعدہ مشترکہ اعلامیے پر لگی ہوئی ہیں۔

برگن اسٹاک میں جے ڈی وینس اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، غیر رسمی گفتگو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت علاقے برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تاریخی امن مذاکرات کے موقع پر پاکستان، امریکہ، ایران اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود کی مقتدر ملاقاتیں مسلسل جاری رہیں۔ اس دوران وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ایک خصوصی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں خطے میں پائیدار امن، امریکہ ایران مذاکرات، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر پیش رفت اور سفارتی تعاون سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس پیچیدہ مذاکراتی عمل میں سہولت کاری اور رابطہ کاری کے لیے ایک کلیدی اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

سفارتی ملاقاتوں کے اس پسِ منظر میں سوشل میڈیا پر اس بیٹھک سے متعلق ایک غیر رسمی گفتگو بھی تیزی سے گردش کر رہی ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب ایک جملہ خاصا زیرِ بحث بنا ہوا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی پریس گیلری اور باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق اس مبینہ جملے کی کسی بھی سرکاری امریکی یا پاکستانی مقتدر بیان سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اسے محض سوشل میڈیا مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات انتہائی خوشگوار اور مقتدر ماحول میں ہوئی، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو دل کھول کر سراہا۔ پریس کانفرنس اور تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس عالمی فورم پر موجودگی کو مذاکراتی عمل میں پاکستان کے فعال، اسٹرٹیجک اور بااثر کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود کے درمیان ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر من و عن عملدرآمد، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور وسیع تر عالمی امن کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔

سربراہی اجلاس: سوئٹزرلینڈ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات، پاک-امریکہ وفود میں غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ

محمود احمد june 21,2026

زیورخ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کے باقاعدہ آغاز پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ کے جیو پولیٹیکل مذاکراتی مرکز میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین سٹرٹیجک تعلقات اور خطے کے امن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، اور ملاقات میں اس وقت غیر معمولی سفارتی گرمجوشی دیکھی گئی جب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شاندار استقبال کیا اور ان سے گرمجوشی سے بغل گیر ہوئے۔

بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت وہاں کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کر رہے ہیں، جسے ایرانی میڈیا میں ’میناب 168‘ کا خصوصی نام دیا گیا ہے، اس وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس خود کر رہے ہیں۔ عالمی امن کے اس مقتدر عمل میں سہولت کار کے طور پر قطر اور سوئٹزرلینڈ کے خصوصی نمائندے بھی کلیدی حیثیت میں شریکِ گفتگو ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس اہم پیشرفت پر اپنا مقتدر مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ امن مفاہمت پر عملدرآمد کی بھرپور تائید و حمایت کرتا ہے اور اس عالمی عمل کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار مستقل جاری رکھے گا۔ اس تاریخی عالمی سربراہی موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود کے ساتھ سائیڈ لائن پر انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس سنگین عالمی بحران میں پاکستان کی سفارتی سہولت کاری اس کے اصولی، متوازن اور امن پسند مؤقف کی کھلی مظہر ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی کامیاب میزبانی اور پاکستان کے مسلسل مقتدر سفارتی رابطے ہی بالآخر دونوں فریقین کو ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کی میز پر لانے کا بنیادی باعث بنے ہیں۔