اسلام آباد میں انسانی اعضاء کا غیر قانونی بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب: ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، 5 ملزمان گرفتار، پروسیسنگ مشینیں اور بھاری مواد برآمد

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے وفاقی دارالحکومت میں ایک انتہائی ہائی پروفائل کارروائی کرتے ہوئے انسانی اعضاء اور حیاتیاتی مواد کی غیر قانونی پروسیسنگ میں ملوث دو خفیہ تنصیبات کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کے مقتدر ترجمان کے مطابق، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں بیک وقت چھاپے مار کر اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث 5 خطرناک مشتبہ ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مقتدر اہلکار نے تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ چھاپے مصدقہ اور مقتدر خفیہ اطلاعات پر مارے گئے، جس کے نتیجے میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پروسیسنگ کرنے والے ان دو بڑے مراکز کو سیل کیا گیا۔ تفتیش کے دوران یہ سنسنی خیز حقیقت سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزمان ان انسانی اعضاء اور مواد کو بیرونِ ملک، خاص طور پر ویتنام اسمگل اور برآمد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے ملزمان اس پروسیس شدہ انسانی مواد پر “شیپ پلاسینٹا” کا جھوٹا اور مقتدر فرضی لیبل لگا رہے تھے تاکہ اسے بھیڑ کا بائیولوجیکل مواد ظاہر کر کے کلیئر کروایا جا سکے۔

ایف آئی اے کی مقتدر ٹیموں نے کارروائی کے دوران ان مراکز سے جدید پروسیسنگ مشینری، سرجیکل آلات اور تیار شدہ پراسیسڈ انسانی مواد کی ایک بہت بڑی مقدار بھی اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ گرفتار ہونے والے تمام مشتبہ افراد کو جائے وقوعہ سے مقتدر تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت مقتدر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس بین الاقوامی نیٹ ورک کی جڑیں تلاش کرنے اور اس جرم میں ملوث دیگر ملکی و غیر ملکی سہولت کاروں کی شناخت کے لیے مزید تفتیش انتہائی تندہی سے جاری ہے، اور انسانی اعضاء کی اسمگلنگ میں ملوث کسی بھی عنصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔