انسانی اعضاء کی غیر قانونی اسمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب: 3 غیر ملکیوں سمیت 5 ملزمان عدالت میں پیش، 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی نے ایک مشترکہ اور بڑی تزویراتی کارروائی کے دوران انسانی اعضاء کی مبینہ اسمگلنگ میں ملوث ایک بین الاقوامی منظم گروہ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ نیٹ ورک کے خلاف درج مقدمے کی ابتدائی کارروائی کے طور پر، تین غیر ملکی شہریوں اور دو پاکستانی ملزمان کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں معزز عدالت نے ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے مقتدر حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کیس کی مقتدر سماعت کے دوران ملزمان کو ڈیوٹی جج میاں اظہر ندیم کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان ملزمان کو ایف آئی اے اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی ٹیموں نے ایک خفیہ اطلاع پر اسلام آباد کے مقتدر سیکٹر ایف سیون میں مشترکہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا۔ تفتیش کاروں نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار افراد میں تین غیر ملکی اور دو مقامی سہولت کار شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، چھاپے کے دوران جائے وقوعہ سے مختلف شکلوں میں محفوظ کی گئی انسانی پلاسنٹا (آنول) کی ایک بہت بڑی مقدار برآمد ہوئی ہے، جس میں تازہ، کیمیکل زدہ، خشک اور باقاعدہ پروسیس شدہ مواد شامل تھا۔ حکام نے برآمد شدہ تمام اسٹاک کو مزید لیبارٹری معائنے اور قانونی شواہد کے لیے اپنی مقتدر تحویل میں لے لیا ہے۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ گروہ مبینہ طور پر پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز سے غیر قانونی طور پر انسانی پلاسنٹا حاصل کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث تھا۔ تفتیش کاروں کا پختہ یقین ہے کہ یہ قیمتی بائیولوجیکل مواد ایک باقاعدہ منظم نیٹ ورک کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا تھا اور بعد میں اسے خفیہ مقامات پر پروسیس کر کے بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمدگی کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ حکام نے عدالت کے سامنے سنگین الزام عائد کیا کہ ملزمان اس پروسیس شدہ انسانی پلاسنٹا کے کارگو کو کسٹم دستاویزات میں جعلی طور پر “بھیڑ کے اعضاء” قرار دے کر بیرونِ ملک اسمگل کر رہے تھے۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس گھناؤنے جرم کے پسِ پردہ موجود دیگر مقامی سہولت کاروں، اسپتال انتظامیہ کے ملوث عناصر کی نشاندہی اور بیرونِ ملک برآمدگی کے اصل مطلوبہ مقامات کا سراغ لگانے کے لیے ملزمان سے تفصیلی پوچھ گچھ ناگزیر ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست کا مقتدر جائزہ لینے کے بعد پانچوں ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ عدالت نے تفتیشی ٹیم کو سخت ہدایت جاری کی کہ ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے کے بعد تمام ملزمان کو ٹھوس پیش رفت رپورٹ کے ہمراہ دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ آئندہ کی مقتدر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

اسلام آباد میں انسانی اعضاء کا غیر قانونی بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب: ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، 5 ملزمان گرفتار، پروسیسنگ مشینیں اور بھاری مواد برآمد

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے وفاقی دارالحکومت میں ایک انتہائی ہائی پروفائل کارروائی کرتے ہوئے انسانی اعضاء اور حیاتیاتی مواد کی غیر قانونی پروسیسنگ میں ملوث دو خفیہ تنصیبات کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کے مقتدر ترجمان کے مطابق، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں بیک وقت چھاپے مار کر اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث 5 خطرناک مشتبہ ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مقتدر اہلکار نے تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ چھاپے مصدقہ اور مقتدر خفیہ اطلاعات پر مارے گئے، جس کے نتیجے میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پروسیسنگ کرنے والے ان دو بڑے مراکز کو سیل کیا گیا۔ تفتیش کے دوران یہ سنسنی خیز حقیقت سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزمان ان انسانی اعضاء اور مواد کو بیرونِ ملک، خاص طور پر ویتنام اسمگل اور برآمد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے ملزمان اس پروسیس شدہ انسانی مواد پر “شیپ پلاسینٹا” کا جھوٹا اور مقتدر فرضی لیبل لگا رہے تھے تاکہ اسے بھیڑ کا بائیولوجیکل مواد ظاہر کر کے کلیئر کروایا جا سکے۔

ایف آئی اے کی مقتدر ٹیموں نے کارروائی کے دوران ان مراکز سے جدید پروسیسنگ مشینری، سرجیکل آلات اور تیار شدہ پراسیسڈ انسانی مواد کی ایک بہت بڑی مقدار بھی اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ گرفتار ہونے والے تمام مشتبہ افراد کو جائے وقوعہ سے مقتدر تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت مقتدر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس بین الاقوامی نیٹ ورک کی جڑیں تلاش کرنے اور اس جرم میں ملوث دیگر ملکی و غیر ملکی سہولت کاروں کی شناخت کے لیے مزید تفتیش انتہائی تندہی سے جاری ہے، اور انسانی اعضاء کی اسمگلنگ میں ملوث کسی بھی عنصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔