

محمود احمد june 28,2026
لاہور (کھیل رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ایف آئی ایچ پرو لیگ کے آخری مرحلے میں قومی مینز ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آخری نمبر پر آنے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ملکی ہاکی کے پورے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مقتدر اور انقلابی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ ترجمان پی ایچ ایف کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم ترین تزویراتی اور پالیسی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ حالیہ نتائج ٹیم کی جسمانی فٹنس، جدید کھیل کی سمجھ بوجھ اور تزویراتی حکمتِ عملی کی شدید کمی کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے بعد اب کھلاڑیوں، انتظامیہ اور سلیکٹرز کے لیے ‘زیرو ٹالرینس’ اور کڑے احتساب کی سخت ترین پالیسی نافذ العمل کر دی گئی ہے۔
فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے اپنے مقتدر بیان میں حقیقتِ حال کو سامنے لاتے ہوئے کہا کہ موجودہ مینجمنٹ نے محض چند ماہ قبل ہی فیڈریشن کا چارج سنبھالا تھا، جب کہ پرو لیگ کے پہلے دو مراحل گزشتہ برس کھیلے جا چکے تھے۔ نئی انتظامیہ نے آتے ہی تمام تر انتظامی اور لاجسٹک مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کر کے ٹیم کی پرو لیگ کے آخری مرحلے میں شرکت کو یقینی بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیلنجز کے باوجود اسی اسکواڈ نے حال ہی میں ایف آئی ایچ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر کے اپنی بنیادی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے جونیئر سیٹ اپ کی کارکردگی بھی نمایاں رہی ہے، جہاں انڈر-18 قومی ہاکی ٹیم نے جاپان میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے برانز میڈل (تیسری پوزیشن) اپنے نام کر کے ملک کا نام روشن کیا۔
صدر پی ایچ ایف نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اب وقتی حل یا عارضی فیصلوں کا وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ ہاکی کی کھوئی ہوئی عالمی ساکھ بحال کرنے کے لیے 3 سے 4 سالہ جامع اسٹریٹجک پلان نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اب سے قومی ٹیم میں سلیکشن اور سینٹرل کانٹریکٹس کو خالصتاً کارکردگی، فٹنس اور ڈسپلن کے سخت ترین معیار سے جوڑ دیا گیا ہے اور غیر معیاری فٹنس یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا، ہالینڈ (ڈچ) اور جرمنی جیسے ہاکی کے مقتدر مضبوط گڑھ سے تعلق رکھنے والے عالمی معیار کے بین الاقوامی کوچز اور ہائی پرفارمنس فٹنس ٹرینرز پر مشتمل پینل کو طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان لایا جا رہا ہے تاکہ وہ ہمارے جونیئر اور سینئر سیٹ اپ کو جدید سائنسی اصولوں پر تیار کر سکیں۔
صدر محی الدین احمد وانی نے اپنے مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس چار سالہ تزویراتی پلان کے تحت مردوں کے ساتھ ساتھ گرلز ہاکی کی ترقی پر بھی برابر مالی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ملک بھر میں خواتین ایتھلیٹس کے لیے مخصوص جدید ٹریننگ کیمپس، لوکلائزڈ پاتھ ویز اور بین الاقوامی معیار کی کوچنگ کا انتظام کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح کے لیے خواتین کا مضبوط اور مقتدر ٹیلنٹ تیار کیا جا سکے۔ ملکی شائقینِ ہاکی کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے صدر پی ایچ ایف نے بتایا کہ رواں سال جولائی میں جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم ایک تاریخی دوطرفہ سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی، جس کے بعد ستمبر میں پاکستان ٹیم جنوبی کوریا کا جوابی دورہ کرے گی اور وہاں سے قومی ٹیم براہِ راست اپنی ایشین گیمز مہم کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے سچائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرنے کے لیے وقت اور صبر درکار ہے، اور پی ایچ ایف اس 4 سالہ سائیکل کا بھرپور فائدہ اٹھا کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار، شفاف اور ناقابلِ شکست نظام وضع کرے گی۔