

محمود احمد, JULY 27,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں ڈرامائی تیزی آ گئی ہے جس کے بعد صوبہ بدخشان کے اضلاع یفتل اور زیباک میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں اور طالبان کے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ افغان طالبان مخالف مسلح تنصیب ‘افغانستان فریڈم فرنٹ’ نے کابل سے بدخشان اضافی نفری لے جانے والے طالبان کے فوجی قافلے کو کابل سے شمالی سالنگ تک تعاقب کے بعد راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک اور 6 شدید زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل بدخشان کے ضلع زیباک میں جنگجوؤں نے طالبان کے 2 عسکری ڈرونز کو بھی تباہ کر دیا جبکہ ہیلی کاپٹروں کو لینڈنگ سے روک کر واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ معروف افغان صحافی بلال سروری کے مطابق یہ کارروائیاں فریڈم فرنٹ کی بڑھتی ہوئی انٹیلی جنس اور لاجسٹک صلاحیتوں کا ثبوت ہیں، جبکہ سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے مؤقف اپنایا ہے کہ طالبان کی غیر قانونی حکومت کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت مزید منظم ہو کر ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنے گی۔

