پالیسیوں کا تسلسل، مصنوعی ذہانت اور اقتصادی سفارت کاری پاکستان کے معاشی مستقبل کے بنیادی ستون ہیں، پروفیسر احسن اقبال

کاشف عباسی , JULY 09,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پالیسیوں کا تسلسل، پائیدار امن، مصنوعی ذہانت، جدت طرازی اور اقتصادی سفارت کاری پاکستان کے معاشی مستقبل کے بنیادی ستون ہیں جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جمعرات کو وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ تزویراتی بیان کے مطابق، اپنے دورۂ کیلیفورنیا کے دوران پاکستانی کمیونٹی اور کاروباری شخصیات سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے علم، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام تر اختلافات سے بالاتر ہو کر ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے جذبے کو فروغ دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ اوپن کے بورڈ اراکین کے ساتھ ایک مقتدر ملاقات میں پاکستان کی اختراعی معیشت، ٹیکنالوجی اور کاروباری ترقی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سفارت کاری کو مزید مؤثر بناتے ہوئے بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو تجارت، برآمدات اور ٹیکنالوجی تعاون کے مقتدر مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے خصوصی مشاورتی گروپس قائم کیے جائیں گے جبکہ تعلیمی نصاب کو بھی مستقبل کے تزویراتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلیکون ویلی اور پاکستان کے نیشنل انوویشن سینٹرز کے درمیان شراکت داری کے ذریعے پاکستانی اسٹارٹ اپس کو عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی فراہم کی جائے گی، کیونکہ پاکستانی انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین عالمی معیار کی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔

اپنے دورے کی اہم کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی شہرت یافتہ ادارے ‘پلگ اینڈ پلے’ کے پاکستان میں باقاعدہ آغاز کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک مقتدر ‘لیٹر آف انٹینٹ’ پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ اس تزویراتی شراکت داری کے تحت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی کو انوویشن ہبز کے طور پر فروغ دیا جائے گا، جبکہ ملک کی ممتاز جامعات کے ۳۰۰ منتخب اسٹارٹ اپس کو عالمی معیار کے ایکسیلیریشن پروگرامز سے منسلک کیا جائے گا۔ پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا کہ اس اہم شراکت داری کے ذریعے پاکستانی اسٹارٹ اپس کو دنیا بھر کی ۶۰۰ سے زائد عالمی کمپنیوں سے مقتدر رابطے اور اسٹریٹجک تعاون کے بہترین مواقع میسر آئیں گے، جس سے پاکستان کی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو پائیدار فروغ حاصل ہوگا۔