

محمود احمد june 11,2026
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اختلافات سے بالاتر ہو کر باہمی افہام و تفہیم، تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو مؤثر ترین ذرائع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پر جب عالمی امن اور ہم آہنگی کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں بین تہذیبی مکالمے کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں سمجھا جا سکتا، چین کے مستقل مشن کے زیرِ اہتمام اقوامِ متحدہ میں بین تہذیبی مکالمے کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ مکالمے کی روح ہی وہ قوت ہے جس نے انسانی تہذیب کو باہمی احترام، اعتماد کے فروغ اور مشترکہ ترقی و پیش رفت کی راہ متعین کرنے کے قابل بنایا ہے، انہوں نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے صدیوں سے مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے امتزاج اور باہمی تعامل کا مرکز رہا ہے اس لیے بین المذاہب ہم آہنگی، پُرامن بقائے باہمی، تنوع، تکثیریت اور مکالمے کی اقدار نہ صرف پاکستانی تہذیب کی نمایاں خصوصیات ہیں بلکہ یہی اقدار ہماری خارجہ پالیسی کی رہنمائی بھی کرتی ہیں، مستقل مندوب نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے ارکان کو یاد دلایا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے فلپائن کے ساتھ مل کر امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ سے متعلق ایک اہم قرارداد کا معاون پیش کنندہ بننے کا اعزاز حاصل کیا جسے حال ہی میں بیس مئی کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی اقوامِ متحدہ ہمیشہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ رہی ہے کہ بین الاقوامی امن اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ایک دوسرے سے گہرا اور اٹوٹ تعلق رکھتے ہیں، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک پُرعزم شراکت دار کے طور پر اقوامِ متحدہ اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مستقل جاری رکھے گا تاکہ عالمی امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا سکے، انہوں نے اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، جنرل اسمبلی کے صدر اور اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے اعلیٰ نمائندے جناب میگوئل اینخیل موراتینوس کے تعریفی پیغامات کو بھی سراہا جبکہ جمہوریہ کولمبیا کے صدر جناب گستاوو پیٹرو کے خطاب کا بھی والہانہ خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے خیالات کو دنیا کے لیے قابلِ قدر قرار دیا۔