ترکیہ سے واپسی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر متوقع فیصلہ، سکیورٹی خدشات کے باعث اپنا طیارہ تبدیل کر لیا

کاشف عباسی , JULY 09,026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ترکیہ سے وطن واپسی کے دوران اپنا طیارہ غیر متوقع طور پر تبدیل کر لیا ہے، جس کی بنیادی وجہ سنگین سکیورٹی خطرات بتائی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی حکومت کی طرف سے تحفتاً دیے گئے اپنے نئے طیارے میں انقرہ پہنچے تھے۔ تاہم، واپسی کے تزویراتی سفر کے لیے انہوں نے اچانک اس طیارے کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے پرانے اور آزمودہ ‘ایئر فورس ون’ طیارے کے ذریعے برطانیہ تک کا سفر مکمل کیا۔

برطانیہ پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے وہاں سے امریکا تک کا بقیہ سفر دوبارہ اسی قطری تحفے والے طیارے میں کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک مقتدر بیان میں اس غیر متوقع تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے انقرہ سے برطانیہ کے علاقے ملڈن ہال میں واقع رائل ایئر فورس کے فوجی بیس تک کا سفر اپنے پرانے ‘ایئر فورس ون’ طیارے میں کیا، جبکہ اس تزویراتی دورانئے میں ان کا نیا طیارہ اسی ایئر بیس پر محفوظ کھڑا رہا اور وہاں تعینات امریکی سکیورٹی فوجیوں نے اس کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔

واضح رہے کہ امریکا کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے قطر کی طرف سے امریکی صدر کو تحفتاً دیے گئے اس جدید طیارے کی پہلے بھی کئی مرتبہ تفصیلی جانچ پڑتال کی ہے۔ انقرہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا باقاعدہ اعتراف کیا کہ انہیں موجودہ صورتحال میں ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے شدید سکیورٹی خطرات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے یہ حفاظتی تزویراتی اقدامات اٹھائے گئے۔