برسوں سے رائج ’ڈیوریشن آف اسٹیٹس‘( ڈی/ ایس) نظام کا مقتدر خاتمہ؛ عام غیر ملکی صحافیوں کا قیام 240 دن جبکہ چینی صحافیوں کے لیے صرف 90 دن کی مدت مقرر

محمود احمد, JULY 19,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی میڈیا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے امریکی ‘آئی’ ویزا سے متعلق مروجہ قوانین میں ایک بہت بڑی اور تزویراتی تبدیلی کو حتمی شکل دے دی ہے. نئے منظور شدہ ضابطے کے تحت امریکہ میں برسوں سے رائج روایتی “ڈیوریشن آف اسٹیٹس” نظام کو باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ اب ایک مقررہ مدت پر مبنی داخلے اور قیام کا بالکل نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جس سے غیر ملکی میڈیا ہاؤسز کے کام کا طریقہ کار براہِ راست متاثر ہوگا.

امریکی محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے جاری کردہ تادیبی دستاویزات کے مطابق، نئے ضوابط کے تحت عام غیر ملکی صحافیوں کو اب امریکہ میں داخلے کے بعد ‘آئی’ ویزا پر زیادہ سے زیادہ صرف 240 دن تک قیام کرنے کی قانونی اجازت ہوگی. دوسری جانب، بیجنگ اور واشنگٹن کے مابین جاری تزویراتی کشیدگی کے تناظر میں چینی صحافیوں کے لیے اس ویزا پر قیام کی انتہائی حد کو مزید سخت کرتے ہوئے صرف 90 دن مقرر کر دیا گیا ہے.

واضح رہے کہ اس مقتدر تبدیلی سے قبل، امریکی امیگریشن قوانین کے مطابق ‘آئی’ ویزا ہولڈرز کو مروجہ سہولت حاصل تھی، جس کے تحت وہ اس وقت تک بغیر کسی رکاوٹ کے امریکہ میں قیام پذیر رہ سکتے تھے جب تک وہ اپنے متعلقہ بین الاقوامی میڈیا ادارے کے لیے تسلیم شدہ صحافتی ذمہ داریاں انجام دیتے رہتے تھے. تاہم، اب اس نئے تادیبی ضابطے کے بعد تمام غیر ملکی صحافیوں کو تفویض کردہ مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے یا تو لازمی طور پر امریکہ چھوڑنا ہوگا یا پھر اپنے قیام میں قانونی توسیع کے لیے بیوروکریسی کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق باقاعدہ درخواست دائر کرنا ہوگی.

امریکی امیگریشن حکام نے اس مقتدر فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ویزا قوانین میں اس تبدیلی کا بنیادی مقصد ملکی امیگریشن نظام میں یکسانیت لانا، غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا اور امریکی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پہلے سے زیادہ مضبوط کرنا ہے. بین الاقوامی میڈیا اور امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس نئی سخت پالیسی سے دنیا بھر کے غیر ملکی میڈیا اداروں، بالخصوص امریکہ میں طویل مدتی اسائنمنٹس اور بیوروز قائم کر کے کام کرنے والے مستقل صحافیوں کو اپنے ویزا اسٹیٹس، ٹیکسز اور ویزا کی بروقت توسیع کے معاملات کو پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط اور تندہی کے ساتھ ترتیب دینا ہوں گے. یہ نئی ویزا پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے جس کے امریکہ میں کام کرنے والے صحافیوں کی رپورٹنگ پر گہرے اثرات متوقع ہیں.