وفاقی وزیر احسن اقبال کا اورلینڈو میں ‘اپنا’ کنونشن سے خطاب؛ مہنگائی کی شرح ساڑھے تین فیصد تک گرنے اور ترسیلاتِ زر اکتیس ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا اعلان

منصور احمد, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح ساڑھے تین فیصد تک گرنے اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اکتیس ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کے ساتھ ہی ’اڑان پاکستان‘ کا معاشی نظم و ضبط اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کو ایک میز پر بٹھانے والی پیچیدہ سفارت کاری کا حوالہ دیتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں کہا کہ پاکستان نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کوئی کمزور ریاست نہیں، بلکہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا ہوا ایک مضبوط ملک ہے۔ اتوار کے روز وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، پروفیسر احسن اقبال نے اورلینڈو میں انچاسویں ‘اپنا’ سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر نے شرکاء کو بتایا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے ذریعے حکومت قومی سوچ کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے، اور ملکی تاریخ میں پہلی بار آبادی اور انسانی وسائل کو معاشی منصوبہ بندی میں کوئی معمولی حاشیہ بنانے کے بجائے معاشی ترقی کا پہلا باب بنایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ‘فائیو ایز’ کے مقتدر اصولوں کی بنیاد پر سال دو ہزار سڑتالیس تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت کا بڑا ہدف لے کر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وہ پیچیدہ ملکی سفارت کاری جس نے واشنگٹن اور تہران کو ایک میز پر بٹھایا اور دوسری طرف بدترین حالات میں بھی اپنی سرحدوں کا مضبوط دفاع، ان دونوں عوامل سے پاکستان نے دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے، مگر یاد رہے کہ حقیقی استحکام صرف سرحدوں پر نہیں جیتا جاتا، بلکہ یہ ہمارے کلینکس، ہمارے ڈیٹا سسٹمز اور ہماری معاشی منصوبہ بندی سے جیتا جاتا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے زور دیا کہ آگے کا راستہ آسان نہیں ہے اور اب تمام تر دارومدار صرف اس معاشی منصوبے پر سخت عمل درآمد پر ہے۔ انہوں نے اورلینڈو میں مقیم سمندر پار پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ’اپنا‘ کی کمیونٹی کو ایک سیدھا اور سادہ پیغام دیا کہ وہ اب پاکستان پر صرف یقین مت رکھیں بلکہ اسے بنانے میں حکومت کا عملی ساتھ دیں۔ انہوں نے تارکینِ وطن پر زور دیا کہ وہ اپنی مہارت، جدید سسٹمز اور اپنا وژن وطنِ عزیز واپس لے کر آئیں، کیونکہ اب مستقبل کی مقتدر تعمیر ہی ہمارا اگلا سب سے بڑا مشن ہے۔