ایتھوپیا کے ساتویں عام انتخابات: برسراقتدار ‘پراسپرٹی پارٹی’ کی تاریخی اور کلین سویپ کامیابی، قومی اسمبلی کی 438 نشستیں جیت لیں

منصور احمد june 23,2026

ادیس ابابا (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

ایتھوپیا کے قومی الیکشن بورڈ نے ملک کے ساتویں عام انتخابات کے حتمی اور سرکاری نتائج کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت وزیرِ اعظم ابی احمد کی برسراقتدار ‘پراسپرٹی پارٹی’ نے ملک بھر میں زمین بوس کر دینے والی تاریخی اور کلین سویپ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ دارالحکومت ادیس ابابا میں میڈیا کو آفیشل نتائج پر بریفنگ دینے کے لیے منعقدہ ایک مقتدر تقریب کے دوران انتخابی حکام نے بتایا کہ یہ انتخابات ایتھوپیا کے جمہوری سفر میں ایک عظیم اور یادگار سنگِ میل ثابت ہوئے ہیں جس میں 5 کروڑ 40 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

آفیشل الیکشن کمیشن کے مقتدر ریکارڈ کے مطابق، پراسپرٹی پارٹی نے ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف پیپلز ریپریزنٹیٹوز) کی کل 486 ہدف شدہ نشستوں میں سے 438 پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے، جس نے ایتھوپیا کے مروجہ آئین کے تحت پارٹی کو نئی وفاقی حکومت بنانے کا ایک زبردست اور واضح مینڈٹ فراہم کر دیا ہے۔ پراسپرٹی پارٹی کی علاقائی نشستوں کی تزویراتی تقسیم کے مطابق، پارٹی نے اورومیا سے 167، امہارا سے 117، جنوبی ایتھوپیا سے 35، وسطی ایتھوپیا سے 28، ادیس ابابا سے 20، صومالی ریجن سے 19، جنوب مغربی ایتھوپیا سے 17، سیداما سے 13، بینشانگول گوموز سے 8، افار سے 7، گمبیلا سے 3 جبکہ ڈائر داوا اور حراری سے 2، 2 نشستیں حاصل کیں۔ دوسری جانب، اپوزیشن اور آزاد امیدواروں بشمول ایتھوپین یونٹی پارٹی، افار پیپلز پارٹی، گوموز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، نیشنل موومنٹ آف امہارا اور نیو جنریشن پارٹی نے مجموعی طور پر بقیہ 48 پارلیمانی نشستیں سمیٹیں۔

پراسپرٹی پارٹی نے وفاق کے ساتھ ساتھ علاقائی کونسلوں (صوبائی اسمبلیوں) کے انتخابات میں بھی ملک گیر اور غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ تزویراتی ڈیٹا کے مطابق، پراسپرٹی پارٹی نے اورومیا کونسل کی 528 میں سے 523 نشستیں، امہارا کی 277 میں سے 257، صومالی ریجن کی 252 میں سے 214، جنوبی ایتھوپیا کی 182، گمبیلا کی 176، سیداما کی 175، ڈائر داوا کی 161، بینشانگول گوموز کی 145، جنوب مغربی ایتھوپیا کی 144، وسطی ایتھوپیا کی 143، ادیس ابابا کی 134، افار کی 124 اور حراری کی 32 نشستیں اپنے نام کیں۔ یہ تاریخی انتخابی معرکہ حال ہی میں ملک بھر کے 1,139 انتخابی حلقوں میں لڑا گیا، جن میں 501 حلقے قومی اسمبلی اور 638 حلقے علاقائی کونسلوں کے لیے مختص تھے۔ افریقی یونین ($AU$) اور آئی جی اے ڈی سمیت تمام مقتدر بین الاقوامی مبصرین کے مشنز نے انتخابی عمل کو مکمل پرامن، منصفانہ اور شفاف قرار دیتے ہوئے اس کی توثیق کی ہے۔