پاکستان اور ایران مشترکہ ترقی کے لیے پرعزم، مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا: وزیراعظم

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دورہِ پاکستان پر آئے ہوئے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والی ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ نکتہ کبھی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دنیا میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے؛ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ دنیا کے دیگر ممالک کے پاس تو بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کو اس حق سے محروم رکھا جائے، اس مقتدر نکتے پر عالمی سطح پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ شرپسند عناصر خطے میں جنگ کے شعلوں کو بجھنے نہیں دینا چاہتے اور وہ اس تاریخی امن عمل کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔

اس اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف) بھی شریک تھے۔ اپنے مقتدر ابتدائی کلمات میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین اس تاریخی ثالثی کے لیے پاکستان پر بھرپور اعتماد کرنے پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی اخوت کو کبھی جوابدہ نہیں ہونا پڑتا، ہم ایران کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی ویژنری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کے زیرِ اثر ایران نے انتہائی وقار اور عزت کے ساتھ جنگ بندی کے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ وزیراعظم نے حالیہ کشیدگی کے دوران معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ کی طرح اس مشکل صورتحال کا سامنا بھی انتہائی جرات، بہادری اور ہمت سے کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے انتھک اور تزویراتی کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری مشترکہ کوششوں کے باعث آج یہ کامیابی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی سطح کے طویل مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو بھی لاجواب قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے تعاون فراہم کرنے پر برادر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان اور ایران ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی ہیں جن کی خوشیاں اور غم سانجھے ہیں، اور دونوں ممالک صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے مشترکہ ترقی کے ایک نئے مقتدر دور کا آغاز کریں گے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط اور جنگ بندی پر صدر زرداری کی مبارکباد؛ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت، مکالمے اور مسلم امہ کے اتحاد کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز ایوانِ صدر میں ایک انتہائی اہم، مقتدر اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ حالیہ عالمی و علاقائی تنازعے کے خاتمے کے بعد صدر پزشکیان کا یہ پہلا سرکاری دورہِ پاکستان ہے، جس کا ایوانِ صدر میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین دیرینہ برادرانہ و تاریخی تعلقات، علاقائی امن و سلامتی کی بدلتی صورتحال، اقتصادی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے تمام تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ایران کی جانب سے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، صدر کے دفتر کے سربراہ محسن حاجی میرزائی، وزیر داخلہ سکندر مومنی، سیاسی امور کے سربراہ سعید عباس موسوی اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم شامل تھے۔ دوسری جانب پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین نے کی۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق، صدر آصف علی زرداری نے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی تاریخی پیش رفت اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط ہونے پر صدر پزشکیان کو مقتدر الفاظ میں مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ جاری تکنیکی مذاکرات خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

صدر آصف علی زرداری نے ایران کے امن، استحکام، قومی اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا رہا ہے اور عالمی چیلنجز کے پائیدار حل کے لیے صرف مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے مسلم امہ کے اتحاد اور خلیجی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کو دہرایا۔ صدر زرداری نے ایران کی مقتدر قیادت (آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای) کی شہادت پر ایک بار پھر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کی تدفین میں مقتدر سطح پر شرکت کرے گا۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امن، جنگ بندی اور عالمی سطح پر مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے انتہائی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور حالیہ معاشی و سفارتی چیلنجز میں پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی مضبوط حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے اختتام پر صدر زرداری نے ایرانی صدر کے ذریعے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے اپنی نیک تمنائیں اور گرمجوش سلام بھی پہنچایا۔