جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں سنسنی خیز موڑ، واردات کے بعد ملزمان کے سابق ایم پی اے کے ڈیرے پر پناہ لینے کا انکشاف، سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آنے اور عوامی دباؤ کے بعد ملزمان پولیس کے حوالے، سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ

منصور احمد june 10,2026

جھنگ(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پنجاب کے شہر جھنگ میں فرسٹ ایئر کی معصوم طالبہ ایشال فاطمہ کے اغواء اور اس کے ساتھ ہونے والی بدترین اجتماعی زیادتی کے ہولناک مقدمے میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں پولیس کی جاری تحقیقات کے دوران یہ افسوسناک پیش رفت ہوئی ہے کہ واردات انجام دینے کے بعد سفاک ملزمان نے قانون کی گرفت اور فوری گرفتاری سے بچنے کے لیے علاقے کے ایک بااثر سابق رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) کے پاس باقاعدہ پناہ حاصل کر رکھی تھی، جھنگ پولیس اور باوثوق تفتیشی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق پولیس کی جے آئی ٹی اور سائنسی بنیادوں پر ہونے والی تحقیقات سمیت ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے باریک بینی سے جائزے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ملزمان متاثرہ طالبہ ایشال فاطمہ کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی تشویشناک اور نیم مردہ حالت میں خاموشی سے ہسپتال لے کر آئے اور وہاں بدنامی اور پکڑے جانے کے خوف سے لڑکی کو تڑپتا ہوا چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے، بعد ازاں پولیس کی چھاپہ مار کارروائیوں سے بچنے کے لیے ان سنگدل ملزمان نے مبینہ طور پر جھنگ کی ایک بااثر اور نامور سیاسی شخصیت (سابق ایم پی اے) کی چھتری تلے پناہ لی، ذرائع کا کہنا ہے کہ جب یہ ہولناک معاملہ حد سے زیادہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا اور ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی ردِعمل اور غصے کی لہر دوڑی، تو چاروں طرف سے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ کے باعث مذکورہ سابق ایم پی اے نے بدنامی کے ڈر سے مبینہ طور پر ملزمان کو خود پولیس کے حوالے کر دیا، تاہم اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد جھنگ کے شہری، مختلف سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مقتدر حلقوں پر یہ سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ صریحاً جرم ثابت ہونے کے باوجود ان درندوں کو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے پاس پناہ کیوں دی گئی؟ دوسری جانب جھنگ پولیس کے اعلیٰ حکام کا اس حساس معاملے پر کہنا ہے کہ کیس کی سنگینی کے پیشِ نظر تمام زاویوں اور پہلوؤں سے میرٹ پر تفتیش جاری ہے اور اگر اس گھناؤنے جرم میں مذکورہ سابق ایم پی اے یا کسی بھی دوسری بااثر شخصیت کے براہِ راست یا بالواسطہ ملزمان کے سہولت کار ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے، تو قانون کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے ان کے خلاف بھی سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، پولیس حکام کے مطابق تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس بھیانک واردات کے پورے نیٹ ورک سمیت تمام ممکنہ پسِ پردہ سہولت کاروں کے مکروہ کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مظلوم طالبہ ایشال فاطمہ کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔