امیگریشن حکام کی بڑی کارروائی، ملائیشیا سے لاہور پہنچنے والا جعلساز مسافر گرفتار

منصور احمد, JULY 08,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام نے ایک کامیاب اور مقتدر کارروائی کرتے ہوئے سفری دستاویزات میں جعلسازی کرنے والے مسافر کو موقع پر گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سے پرواز کے ذریعے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پہنچنے والے پاکستانی شہری راشد اللہ کے پاسپورٹ کی جب امیگریشن کلیئرنس کے دوران مقتدر جانچ پڑتال کی گئی، تو اس پر پاکستان سے روانگی کی ایک جعلی مہر پائی گئی۔

امیگریشن حکام کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش اور سخت پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے پاسپورٹ پر یہ جعلی مہر لگوانے کے لیے ملائیشیا میں مقیم فضل نامی ایک ایجنٹ کو ۲۶۰۰ ملائیشین رنگٹ کی خطیر رقم ادا کی تھی۔ مقتدر امیگریشن حکام نے قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد ملزم کو مزید تادیبی کارروائی اور گہرائی سے تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی سمگلنگ سرکل لاہور کے مقتدر حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ ایف آئی اے انتظامیہ کا اس حوالے سے دوٹوک الفاظ میں کہنا ہے کہ جعلی سفری دستاویزات کی تیاری اور انسانی سمگلنگ کے گھناؤنے کاروبار کے خلاف ادارے کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد مستقل جاری ہے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: متعدد شناختوں پر روس جانے کی کوشش کرنے والے دو مسافر آف لوڈ، موبائل فونز سے پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان پاسپورٹ برآمد

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن اسلام آباد زون نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مہم جوئی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے امیگریشن کلیئرنس کے دوران متعدد جعلی شناختوں اور مشکوک سفری دستاویزات کا پتہ لگا کر روس جانے کی کوشش کرنے والے دو مسافروں کو آف لوڈ کر دیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ مسافر ازبکستان ایئرویز کی پرواز کے ذریعے روس جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تھے، جہاں کاؤنٹر پر موجود امیگریشن حکام نے سفری دستاویزات کو مشکوک قرار دیتے ہوئے انہیں سیکنڈری اسکریننگ کے لیے روک لیا۔

حکام نے بتایا کہ جب ان مشکوک مسافروں کی تفصیلی اور تکنیکی جانچ پڑتال کی گئی تو ان کی شناخت اور سفری دستاویزات میں واضح تضادات کا انکشاف ہوا۔ شک کی بنیاد پر جب ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کی گئی تو اس کے نتیجے میں متعدد افغان پاسپورٹ، ایک افغانی تذکرہ (شناختی کارڈ)، ایک پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور ایک روسی سفری دستاویز برآمد ہوئی۔ ایف آئی اے کے مطابق، برآمد ہونے والی ان متعدد دستاویزات میں مختلف نام اور شناختیں درج تھیں، لیکن حیران کن طور پر ان سب پر تصویر ایک ہی فرد کی لگی ہوئی تھی، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ملزمان غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک امیگریشن کے لیے متعدد شناختوں کا منظم استعمال کر رہے تھے۔

ابتدائی تفتيش کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملنے والا ایک افغان تذکرہ دوسرے مسافر کے نام پر جاری کیا گیا تھا، جبکہ بقیہ تمام دستاویزات کو مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور جعل سازی کے ذریعے بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام نے دونوں مسافروں کو فوری طور پر طیارے سے آف لوڈ کر دیا اور ایئرپورٹ پر ہی تحویل میں لے کر مزید گہری قانونی کارروائی اور پسِ پردہ نیٹ ورک کی تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے حوالے کر دیا ہے، جہاں ان سے انسانی اسمگلنگ کے پہلو پر گہرائی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔