نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا گندم کے ذخائر کا جائزہ اجلاس: 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کا اعادہ

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ملک میں گندم کی وافر دستیابی اور آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے فیصلے کا اعادہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم کے آفس کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اسحاق ڈار نے اجلاس میں صوبوں، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارتِ تجارت کے باہمی رابطہ اور گندم کی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے کی جانے والی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔

اجلاس کے دوران اقتصادی رابطہ کمیٹی اور اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو تمام صوبوں کو ان کے منظور شدہ کوٹے کے مطابق فوری گندم کی ترسیل شروع کرے۔ اس کے ساتھ ہی نائب وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایات جاری کیں کہ وہ پاسکو کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنائیں تاکہ گندم کا اپنا مقررہ حصہ بلا تاخیر اٹھایا جا سکے۔

ملک میں مستقبل کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اجلاس میں 1 ملین (10 لاکھ) میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کا حکم دیا گیا، جس کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو فوری طور پر تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

منصوبہ بندی کے مطابق پہلے مرحلے میں 2 لاکھ 50 ہزار (250,000) میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی جس کی پہلی کھیپ رواں سال نومبر کے مہینے میں پاکستان کی بندرگاہوں پر پہنچ جائے گی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی تاکہ ملک بھر میں گندم کا وافر ذخیرہ موجود رہے اور عوام کو سستے آٹے کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ، وزیر تجارت، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، اور چاروں صوبوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔