اقوامِ متحدہ میں نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا سلامتی کونسل میں خطاب؛ فوجی برتری کے بجائے یوکرین بحران کے منصفانہ اور پُرامن سفارتی تصفیے پر زور

محمود احمد june 23,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں طویل عرصے سے جاری خونریز تنازع کے مسلسل پھیلاؤ پر شدید اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور باہمی سفارت کاری کی بحالی پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس پیچیدہ عالمی بحران کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف اور صرف بامعنی بات چیت اور مخلصانہ سفارتی کوششیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین کی نازک صورتحال پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ تنازع کے حل کی جانب تاحال کوئی مثبت پیش رفت دیکھنے میں نہیں آ رہی، جبکہ مسلسل فوجی حملوں کے باعث نہ صرف جنگ میں ہولناک شدت آ رہی ہے بلکہ معصوم شہریوں کا انسانی بحران بھی روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ کے دائرۂ کار میں مسلسل توسیع سے سویلین آبادی کی مشکلات میں ناقابلِ تلافی اضافہ ہوا ہے اور شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے اس تزویراتی نقطے پر زور دیا کہ تمام متحارب فریق بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔ انہوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، نہ کہ فوجی برتری کے حصول کی یکطرفہ کوششوں سے۔ انہوں نے فریقین کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے پاکستان کے اس مقتدر مطالبے کا اعادہ کیا کہ فوری اور مکمل جنگ بندی کی جائے اور امریکہ کی سہولت کاری میں جاری تزویراتی مذاکراتی عمل کو فوری دوبارہ شروع کیا جائے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے مطابق، انہوں نے اعادہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کے مطابق پُرامن تصفیہ ہی اس تنازع کا واحد اور دیرپا حل ہے، اور پاکستان اس منصفانہ حل کے لیے تمام عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

عالمی فورم پر پاکستان کا شام کے لیے مضبوط موقف: شامی قیادت میں سیاسی منتقلی کے عمل اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ

محمود احمد june 22,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک شام میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت اور استحکام کی کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے، وہاں جاری سیاسی منتقلی کے عمل اور بین الاقوامی برادری میں شام کے دوبارہ انضمام کے لیے اپنی غیر متزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی و سیاسی صورتحال پر ہونے والے اہم بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ حالیہ رپورٹس ملک کے پُرامن مستقبل اور تزویراتی بحالی کے حوالے سے ایک امید افزا رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے دوران اسرائیل کی جانب سے شام کی جغرافیائی خود مختاری کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں، بشمول غیر قانونی فوجی دراندازیوں، من مانی گرفتاریوں اور شامی املاک و ذرائع معاش کی تباہی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے مقبوضہ شامی جولان میں اسرائیل کے نئے پانچ سالہ آباد کاری توسیعی منصوبے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے یکسر منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر ایسے تمام یکطرفہ اقدامات سے روکا جائے اور وہ 1974ء کے مروجہ معاہدۂ علیحدگی کی مکمل پاسداری کرے۔ سفیر عاصم افتخار نے ایک پیچیدہ علاقائی ماحول کے باوجود دانشمندی کے ساتھ قومی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر فوکس رکھنے پر موجودہ شامی قیادت کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام اور اقوامِ متحدہ کے درمیان بڑھتے ہوئے مقتدر تعاون کا خیرمقدم کیا اور شمال مشرقی شام میں مقامی انتظامی ڈھانچوں کے قومی اداروں میں تدریجی انضمام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پورے ملک میں ریاستی عملداری کی بحالی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ شامی عوام کی مرضی اور قیادت میں آگے بڑھنے والا سیاسی منتقلی کا عمل ہی خطے میں پائیدار امن کی بہترین ضمانت ہے۔ سلامتی کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ داعش اور غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کے خطرات تاحال موجود ہیں، جس کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے مطابق، پاکستانی مندوب نے شام کی ابتر انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کی معاشی بحالی کے لیے مالی وسائل کی کمی کو فوری پورا کرے، جبکہ انہوں نے شامی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا عزم دہرایا۔