عالمی فورم پر پاکستان کا شام کے لیے مضبوط موقف: شامی قیادت میں سیاسی منتقلی کے عمل اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ

محمود احمد june 22,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک شام میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت اور استحکام کی کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے، وہاں جاری سیاسی منتقلی کے عمل اور بین الاقوامی برادری میں شام کے دوبارہ انضمام کے لیے اپنی غیر متزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی و سیاسی صورتحال پر ہونے والے اہم بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ حالیہ رپورٹس ملک کے پُرامن مستقبل اور تزویراتی بحالی کے حوالے سے ایک امید افزا رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے دوران اسرائیل کی جانب سے شام کی جغرافیائی خود مختاری کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں، بشمول غیر قانونی فوجی دراندازیوں، من مانی گرفتاریوں اور شامی املاک و ذرائع معاش کی تباہی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے مقبوضہ شامی جولان میں اسرائیل کے نئے پانچ سالہ آباد کاری توسیعی منصوبے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے یکسر منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر ایسے تمام یکطرفہ اقدامات سے روکا جائے اور وہ 1974ء کے مروجہ معاہدۂ علیحدگی کی مکمل پاسداری کرے۔ سفیر عاصم افتخار نے ایک پیچیدہ علاقائی ماحول کے باوجود دانشمندی کے ساتھ قومی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر فوکس رکھنے پر موجودہ شامی قیادت کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام اور اقوامِ متحدہ کے درمیان بڑھتے ہوئے مقتدر تعاون کا خیرمقدم کیا اور شمال مشرقی شام میں مقامی انتظامی ڈھانچوں کے قومی اداروں میں تدریجی انضمام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پورے ملک میں ریاستی عملداری کی بحالی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ شامی عوام کی مرضی اور قیادت میں آگے بڑھنے والا سیاسی منتقلی کا عمل ہی خطے میں پائیدار امن کی بہترین ضمانت ہے۔ سلامتی کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ داعش اور غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کے خطرات تاحال موجود ہیں، جس کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے مطابق، پاکستانی مندوب نے شام کی ابتر انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کی معاشی بحالی کے لیے مالی وسائل کی کمی کو فوری پورا کرے، جبکہ انہوں نے شامی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا عزم دہرایا۔

انسانی ہمدردی کے اقدامات سخاوت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہیں، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دبنگ موقف

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی برادری کو آئینہ دکھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا اس وقت غیر معمولی وسعت اور پیچیدگی کے حامل سنگین ترین انسانی بحران سے دوچار ہے جہاں لاکھوں بے گناہ انسان مختلف جنگی تنازعات، غیر ملکی قبضے، موسمیاتی آفات، بدترین غربت اور غذائی عدم تحفظ کے باعث زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، نیویارک سے موصولہ اعلیٰ سطحی سفارتی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے انسانی امور سے متعلق اجلاس کے عمومی مباحثے میں پاکستان کا ٹھوس موقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی سطح پر انسانی امداد فراہم کرنا کوئی سخاوت، خیرات یا احسان کا عمل نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ضمیر کا اولین تقاضا اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت سب کی مشترکہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل امتحان انتہائی سادہ ہے کہ کیا عالمی امداد دنیا میں کسی بھی تعصب اور بلا امتیاز، سیاسی مقاصد سے پاک ہو کر اور بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے ہر سچے ضرورت مند تک پہنچ رہی ہے یا نہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل مالی قلت اور فنڈز کی کمی کے باعث مجبور امدادی اداروں کو مظلوموں کے لیے خوراک، رہائش، ادویات اور تحفظ جیسی بنیادی ترین انسانی ضروریات کے درمیان مشکل ترین فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی انسانی امداد کے پورے نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے سلامتی کونسل اور دنیا کے سامنے پانچ اہم ترین تجاویز پیش کیں، انہوں نے سب سے پہلے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلح تنازعات اور جابرانہ غیر ملکی قبضے کی صورتحال ہے وہاں بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے اور طاقتور ممالک کی جانب سے ان قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو معمول سمجھنے، جواز پیش کرنے یا نظرانداز کرنے کا منافقانہ رویہ اب مستقل طور پر ترک کرنا ہوگا، انہوں نے دوسری تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر جنگی صورتحال میں محصورین تک محفوظ، تیز رفتار، مستقل اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی کو یقینی بنایا جائے، تیسری تجویز میں انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کو بکھراؤ سے بچا کر براہِ راست ان مقامات پر پہنچایا جائے جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہو، چوتھی تجویز کے تحت انہوں نے زور دیا کہ ہنگامی امداد عارضی طور پر جانیں تو بچاتی ہے لیکن طویل المدتی استحکام کے لیے اس امداد کو ترقیاتی منصوبہ بندی، موسمیاتی موافقت اور آفات سے بچاؤ کی قومی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا لازمی ہے اور خصوصاً کمزور ممالک میں قبل از وقت انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کو مضبوط بنانا ہو گا، پانچویں تجویز میں انہوں نے واضح کیا کہ انسانی ضروریات میں مستقل کمی لانے کے لیے سیاسی عزم کے ذریعے طویل تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ہو گا اور یہ حل اقوامِ متحدہ کے منشور اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق صرف مکالمے، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے ہی نکالا جا سکتا ہے، اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار نے دنیا کو جرات مندانہ پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آج کے اس بدترین انسانی بحران میں ہماری کامیابی کا حقیقی معیار ہمارے کاغذوں پر کیے گئے بڑے بڑے وعدے نہیں بلکہ زمین پر ہماری عملی کارکردگی ہو گی۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بڑا بیان، امن فیصلوں کی میز پر خواتین کی موجودگی ناگزیر قرار

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان نے خواتین کو امن کے قیام کے لیے ایک بنیادی اور اہم فریق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی فعال شمولیت کے بغیر قائم ہونے والا کوئی بھی امن کمزور بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل (سیکیورٹی کونسل) کے کھلے مباحثے برائے ”خواتین، امن اور سلامتی“ میں قومی بیان دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پائیدار امن کے لیے خواتین کی دانش، قیادت اور عملی تجربات ناگزیر ہیں اور ان کی جگہ فیصلہ سازی کے عمل کے حاشیوں پر نہیں بلکہ اس مرکزی میز پر ہونی چاہیے جہاں دنیا کے اہم ترین فیصلے کیے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ صرف انصاف یا مساوات کا مسئلہ نہیں بلکہ مؤثریت کا سوال بھی ہے کیونکہ جن امن معاہدوں میں خواتین شامل ہوتی ہیں وہ عموماً کمیونٹیز کی ضروریات کا بہتر احاطہ کرتے ہیں اور زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں، انہوں نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ خواتین، امن اور سلامتی کا ایجنڈا سلامتی کونسل کے سب سے انقلابی وعدوں میں سے ایک ہونے کے باوجود تاحال سب سے نامکمل وعدوں میں شمار ہوتا ہے جس کے باعث خواتین آج بھی تنازعات، غیر ملکی قبضے، غربت اور جنسی تشدد کے سنگین نتائج بھگت رہی ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس اہم ایجنڈے کے فروغ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی خواتین نے سفارت کاری، سیاست، عوامی خدمت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور خاص طور پر اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا لوہا منوایا ہے، پاکستان کے مستقل مندوب نے اس عالمی ایجنڈے کی کامیابی کے لیے چند کلیدی ترجیحات بھی دنیا کے سامنے رکھیں جن میں اقوامِ متحدہ اور علاقائی تنظیموں کی ثالثی ٹیموں اور مذاکراتی وفود میں خواتین کی منظم شمولیت کو یقینی بنانا شامل ہے، انہوں نے سیکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ وہ خواتین امن سازوں، انسانی حقوق کی کارکنان اور خاتون صحافیوں کو آن لائن ہراسانی، دھمکیوں اور تشدد سے بچانے کے لیے قبل از وقت انتباہی نظام جیسے مؤثر اقدامات کرے، انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ خواتین کی سیاسی و سماجی شرکت کے لیے مستقل اور لچکدار فنڈز فراہم کریں اور تعمیرِ نو کے منصوبوں میں خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف تک رسائی کو اولیت دیں، اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر دنیا حقیقی معنوں میں پائیدار امن چاہتی ہے تو خواتین کو ابتدا ہی سے تمام فیصلہ سازی کے عمل کا مستقل حصہ بنانا ہو گا کیونکہ وہ خاندانوں اور آنے والی نسلوں کے خدشات کو ان کمروں تک لے کر آتی ہیں جہاں اکثر طاقت کی سیاست غالب ہوتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہائپر اجلاس میں پاکستان کا بڑا اور جرات مندانہ مؤقف، یمن کے دیرینہ بحران کے مستقل حل کے لیے جامع سیاسی عمل اور بامعنی مذاکرات کو ناگزیر قرار دے دیا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا حوثی باغیوں سے اقوامِ متحدہ کے زیرِ حراست تمام بین الاقوامی اہلکاروں کو فوری رہا کرنے کا کڑا مطالبہ، عالمی برادری سے یمن کے غریب عوام کے لیے ہنگامی امدادی فنڈز بڑھانے کی اپیل

محمود احمد june 17,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے انسانی المیے یعنی یمن بحران کے مستقل خاتمے اور وہاں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک بار پھر تمام تر جنگی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے جامع سیاسی عمل اور فریقین کے مابین براہِ راست مذاکرات کو ناگزیر قرار دے دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل (سیکیورٹی کونسل) کے اہم اور ہنگامی اجلاس سے باضابطہ خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ یمن کے اس پیچیدہ تنازع کا دیرپا اور پائیدار حل صرف اور صرف غیر جانبدار سفارت کاری اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام اور ان کی اپنی مقامی قیادت کے زیرِ اثر چلنے والے سیاسی عمل کی پاکستان بھرپور حمایت کرتا ہے کیونکہ تمام مقامی یمنی فریقوں کے درمیان ہونے والے بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات ہی اس تباہ حال ملک کو دوبارہ استحکام، خوشحالی اور مستقل امن کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران عسکری کشیدگی میں ہونے والی نمایاں کمی اور فریقین کے مابین اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات کو ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے دونوں جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے، پاکستان نے صدارتی قیادت کونسل کی اپنی اصولی حمایت کا عزم دہراتے ہوئے یمن کے معاملے پر مامور اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کی انتھک سفارتی کوششوں اور تگ و دو کو بھی زبردست الفاظ میں سراہا، تاہم اس موقع پر پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے حوثی جنگجوؤں سے ایک بڑا اور سخت عالمی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حوثی اپنی تحویل اور زیرِ حراست لیے گئے اقوامِ متحدہ کے تمام معصوم اہلکاروں، سفارتکاروں اور دیگر بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے امدادی عملے کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امدادی سرگرمیوں کو بغیر کسی خوف و خطر اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے کیونکہ اس عملے کی بندش سے لاکھوں معصوم بچوں اور خواتین کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

پاکستان نے سیکیورٹی کونسل کے ایوان میں یمن کی روز بروز بگڑتی ہوئی ہولناک انسانی اور اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ لاکھوں کی تعداد میں یمنی شہری اس وقت بھی زندگی کی بنیادی ترین ضروریات، ادویات اور بیرونی انسانی امداد کے سخت محتاج ہیں، اس نازک موقع پر پاکستانی مندوب نے عالمی برادری اور امیر ممالک پر زور دیا کہ وہ یمن کے لیے مخصوص امدادی فنڈز میں فوری اور خطیر اضافہ کریں اور وہاں کی معاشی بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون کے دائرے کو مزید فروغ دیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں حالیہ مثبت سفارتی لہر اور کشیدگی میں کمی یہ ثابت کرتی ہے کہ گولی کے بجائے سفارت کاری کی اہمیت کتنی زیادہ ہے اور یہی عمل یمن میں مستقل امن کے امکانات کو دنیا بھر میں مزید مضبوط بنا سکتا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے تمام مستقل ارکان سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ یمن میں امن و استحکام کی واپسی کے لیے اپنا متحد، غیر جانبدار اور مؤثر کردار ادا کریں، پاکستان نے ایک بار پھر پرامن، متحد، مستحکم اور خوشحال یمن کے قیام کے لیے اپنے اصولی عزم کو دہراتے ہوئے قوی امید ظاہر کی ہے کہ جاری عالمی سفارتی کوششیں یمنی عوام کو جنگ کی ہولناکیوں سے نجات دلا کر امن، ترقی اور خوشحالی کے حقیقی ثمرات فراہم کرنے میں ہر صورت مددگار ثابت ہوں گی۔