بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی نے 4 ہزار 232 ارب روپے کے 89 مطالباتِ زر کی منظوری دے دی

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے مراحل میں قومی اسمبلی نے ایک بڑی مقتدر پیشرفت کرتے ہوئے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے 4 ہزار 232 ارب روپے سے زائد مالیت کے 89 مطالباتِ زر کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اتوار کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مجموعی طور پر 4 ہزار 232 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد کے یہ ڈیمانڈز ایوان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیے، جن پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہ کیے جانے کے باعث ایوان نے انہیں کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

بجٹ دستاویزات اور مروجہ ایجنڈے کے مطابق منظور کیے گئے ان مطالباتِ زر میں ملک کے تزویراتی اور دفاعی شعبوں کے لیے سب سے خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جس کے تحت دفاعی خدمات کے لیے 3 ہزار ارب روپے کے ڈیمانڈ کی حتمی منظوری دی گئی ہے، جبکہ وزارتِ دفاع کے لیے 17 ارب 10 کروڑ، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے لیے 21 ارب 65 کروڑ، کنٹونمنٹس و گیریژن کے لیے 17 ارب 58 کروڑ اور دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 1 ارب 14 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایوان نے اٹامک انرجی کے شعبے کے لیے 22 ارب 57 کروڑ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 2 ارب 35 کروڑ 77 لاکھ اور انٹیلی جنس بیورو ڈویژن کے لیے 22 ارب 96 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔

تعلیمی و ترقیاتی شعبوں کے لیے بھی اربوں روپے کے فنڈز کو مقتدر تحفظ دیا گیا ہے، جس میں وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 42 ارب 74 کروڑ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے جاری اخراجات کے لیے 66 ارب 43 کروڑ اور ایچ ای سی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے الگ سے 46 ارب روپے کی منظوری شامل ہے۔ پائیدار انفراسٹرکچر کے لیے واٹر ریسورسز (آبی وسائل) کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کے لیے بالترتیب 55 ارب 25 کروڑ اور 47 ارب 83 کروڑ روپے منظور ہوئے، جبکہ ریلوے ڈویلپمنٹ کے لیے 40 ارب 65 کروڑ، مواصلات (کمیونیکیشن) کے لیے 59 ارب 25 کروڑ، اور آئی ٹی و ٹیلی کام ڈویلپمنٹ کے لیے 19 ارب 58 کروڑ روپے کے مطالباتِ زر منظور کیے گئے ہیں۔ دیگر اہم محکموں میں قومی احتساب بیورو کے لیے 7 ارب 73 کروڑ، قانون و انصاف کے لیے 11 ارب 12 کروڑ، اطلاعات و نشریات کے لیے 11 ارب 1 کروڑ اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے انتظامی اخراجات کے لیے بالترتیب 9 ارب 3 کروڑ اور 3 ارب 21 کروڑ روپے کی آئینی منظوری دے دی گئی ہے۔

بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی آج سے 135 مطالباتِ زر پر بحث کا آغاز کرے گی، 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع، دفاع، پنشن اور سماجی تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے قومی اسمبلی کا اہم ترین اور مقتدر اجلاس آج (اتوار) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی محکموں کے جاری و ترقیاتی اخراجات کی منظوری کے لیے مجموعی طور پر 135 مطالباتِ زر ایوان کے سامنے پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی سے 30 جون 2027ء کو ختم ہونے والے آئندہ مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان مطالباتِ زر کی مقتدر منظوری حاصل کی جائے گی جس کے تحت 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بجٹ اجلاس کے اسٹرٹیجک ایجنڈے کے مطابق رواں سال وفاقی حکومت کی بنیادی تزویراتی ترجیحات میں ملکی دفاع، سماجی تحفظ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کو سرِ فہرست رکھا گیا ہے، اسی لیے ایوان میں پیش کیے جانے والے مطالباتِ زر میں سب سے اہم فوکس دفاعی خدمات, الاؤنسز کہن سالی، وفاقی پنشن اور مختلف مقتدر گرانٹس پر رکھا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق اس اہم ترین بحث کے دوران ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے شعبہ بجلی (پاور سیکٹر) اور پٹرولیم کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے تاکہ صنعتی و معاشی پہیہ بلا تعطل چلایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ غریب پرور منصوبوں کے تسلسل کو پائیدار بنانے اور غریب عوام کو مروجہ ریلیف دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال کے اربوں روپے کے اخراجات کو بھی ایوانِ زیریں سے باقاعدہ منظور کروایا جائے گا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت اس مقتدر بحث کے دوران اپوزیشن بینچوں کی طرف سے قائدِ حزبِ اختلاف کی نگرانی میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی پر سخت تنقید کی جائے گی اور متعدد تحریکاتِ تخفیف بھی پیش کی جائیں گی، جس کے بعد وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے مابین رائے دہی کے ذریعے تمام 135 ڈیمانڈز کی حتمی اور آئینی منظوری دی جائے گی جو ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔