بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی آج سے 135 مطالباتِ زر پر بحث کا آغاز کرے گی، 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع، دفاع، پنشن اور سماجی تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

مالی سال 27۔2026ء کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے قومی اسمبلی کا اہم ترین اور مقتدر اجلاس آج (اتوار) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی محکموں کے جاری و ترقیاتی اخراجات کی منظوری کے لیے مجموعی طور پر 135 مطالباتِ زر ایوان کے سامنے پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی سے 30 جون 2027ء کو ختم ہونے والے آئندہ مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان مطالباتِ زر کی مقتدر منظوری حاصل کی جائے گی جس کے تحت 9,126 ارب روپے سے زائد کے ملکی اخراجات کی حتمی منظوری متوقع ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بجٹ اجلاس کے اسٹرٹیجک ایجنڈے کے مطابق رواں سال وفاقی حکومت کی بنیادی تزویراتی ترجیحات میں ملکی دفاع، سماجی تحفظ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کو سرِ فہرست رکھا گیا ہے، اسی لیے ایوان میں پیش کیے جانے والے مطالباتِ زر میں سب سے اہم فوکس دفاعی خدمات, الاؤنسز کہن سالی، وفاقی پنشن اور مختلف مقتدر گرانٹس پر رکھا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق اس اہم ترین بحث کے دوران ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے شعبہ بجلی (پاور سیکٹر) اور پٹرولیم کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے تاکہ صنعتی و معاشی پہیہ بلا تعطل چلایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ غریب پرور منصوبوں کے تسلسل کو پائیدار بنانے اور غریب عوام کو مروجہ ریلیف دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال کے اربوں روپے کے اخراجات کو بھی ایوانِ زیریں سے باقاعدہ منظور کروایا جائے گا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت اس مقتدر بحث کے دوران اپوزیشن بینچوں کی طرف سے قائدِ حزبِ اختلاف کی نگرانی میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی پر سخت تنقید کی جائے گی اور متعدد تحریکاتِ تخفیف بھی پیش کی جائیں گی، جس کے بعد وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے مابین رائے دہی کے ذریعے تمام 135 ڈیمانڈز کی حتمی اور آئینی منظوری دی جائے گی جو ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔