پاکستان میں آٹو فنانسنگ میں بڑا اضافہ: اگست کے دوران بینکوں سے گاڑیوں کے قرضے 33.8 فیصد بڑھ گئے

منصور احمد,September 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 ستمبر 2026ء

پاکستان میں بینکنگ شعبے کی جانب سے گاڑیوں کی خریداری کے لیے فراہم کیے جانے والے آٹو فنانس کے حجم میں جاری مالی سال کے دوران نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (State Bank of Pakistan) کے جاری کردہ تازہ ترین باضابطہ اعدادوشمار کے مطابق اگست 2026ء کے دوران گاڑیوں کی خریداری کے لیے فراہم کردہ مجموعی قرضوں کا حجم سالانہ بنیادوں پر 33.8 فیصد کے زبردست اضافے سے 393 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق گزشتہ سال اگست 2025ء کے دوران آٹو فنانسنگ کا مجموعی حجم 294 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا، جس میں ایک سال کے عرصے کے دوران 99 ارب روپے کی نمایاں وسعت دیکھی گئی ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو جولائی 2026ء کے مقابلے میں اگست میں آٹو فنانسنگ کا حجم 386 ارب روپے سے بڑھ کر 393 ارب روپے ہوا ہے، جو کہ ایک ماہ میں 7 ارب روپے یعنی 1.8 فیصد کے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

بینکنگ اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹو فنانس کے حجم میں یہ مسلسل اضافہ گاڑیوں کی فنانسنگ کی طلب میں بحالی کا واضح اشارہ ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق قرضوں کے مجموعی حجم میں اس اضافے پر گاڑیوں کی قیمتوں میں تغیر، شرحِ سود میں تبدیلی اور بینکوں کی سخت یا نرم پالیسیاں بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود، ماہانہ بنیادوں پر 1.8 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 33.8 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ملک میں گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینکنگ سہولیات پر بڑھتے ہوئے انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ماہانہ مالیاتی ڈیٹا اور مانیٹری پالیسی کی رپورٹس کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: بزنس اینڈ فنانس ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔

سعودی عرب کے شہر طائف میں ڈرون تباہ: ملبہ گرنے سے ایک شخص ہلاک اور پاکستانی شہری سمیت دو زخمی

محمود احمد, September 17,2026

طائف (نیوز اینڈ نیوز) — 17 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کے معروف شہر طائف میں فضا میں ایک ڈرون کو کامیابی سے روک کر تباہ کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ رہائشی علاقے پر گرنے سے افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک پاکستانی شہری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی محکمہ شہری دفاع (Civil Defense) کے مطابق ملبہ گرنے سے متعدد قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی شدید مالی نقصان پہنچا ہے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ (SPA) کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی دستوں نے طائف گورنریٹ کے متاثرہ رہائشی علاقے میں پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والے فرد کا تعلق یمن سے تھا، جبکہ زخمیوں میں ایک مقامی سعودی شہری اور ایک پاکستانی شہری شامل ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے پاکستانی شہری کو شدید چوٹیں آئی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

سعودی حکام نے فضا میں تباہ کیے جانے والے ڈرون کو حوثی ملیشیا کی جانب سے داغا گیا قرار دیا ہے، تاہم اس مخصوص حملے کی حوثی گروپ کی جانب سے فوری طور پر کوئی آزادانہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ ڈرون کا ملبہ گرنے سے رہائشی بلاکس اور پارک کی گئی متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جس کے بعد متعلقہ سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیراؤ میں لے کر ہنگامی اور حفاظتی تدابیر نافذ کر دی ہیں۔

طائف میں یہ سیکیورٹی واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں اس سے ایک روز قبل 16 ستمبر کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں بھی ایک ڈرون کو ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی دفاعی فورسز نے اعلیٰ سکیورٹی الرٹ برقرار رکھا ہوا ہے اور متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر سعودی پریس ایجنسی (SPA)، محکمہ شہری دفاع اور عالمی خبر رساں اداروں کی باضابطہ رپورٹس کے عین مطابق مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ:
سعودی پریس ایجنسی (SPA)، سعودی محکمہ شہری دفاع، عرب نیوز، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس