

منصور احمد june 24,2026
اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور مسلم لیگ (ن) کے مقتدر وزراء کے رویے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے گلیاروں میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اجلاس میں تندوتیز اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے مقتدر الفاظ میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے چند وزراء ایسے ہیں جو حکومت چلانے میں آسانی پیدا کرنے کے بجائے الٹا سیاسی اور انتظامی مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزراء کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو اور مشورے اتحادی حکومت کے لیے شدید سیاسی مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال اور وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے متنازع بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں مقتدر سوال اٹھایا کہ ‘ایسا وزیر جو سرِعام یہ کہے کہ راولاکوٹ کے کشمیری، کشمیری نہیں ہیں اور پھر اتنی بڑی بات کہہ کر بھی اپنے الفاظ واپس نہ لے، تو وہ اب تک وفاقی کابینہ کا حصہ کیوں ہے؟’ انہوں نے ن لیگ کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جو وزیر ابھی تک اپنے اس توہین آمیز بیان پر کشمیریوں سے معافی مانگنے کو تیار نہیں، اس کی وجہ سے پی پی پی کو بطور اتحادی شدید سبکی کا سامنا ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں عوام اور کشمیری بھائیوں کو کیا وضاحت دوں کہ ہم کس مجبوری کے تحت اس وزیر کے ساتھ وفاق میں بیٹھے ہوئے ہیں؟
بلدیاتی نظام اور جمہوریت پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ن لیگ کو لاہور اور اسلام آباد کی ضلعی حکومتوں کے انتخابات کروانے کا کھلا چیلنج دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت (سندھ) ہے، وہاں بلدیاتی نظام مکمل طور پر فعال ہے لیکن ن لیگ عوامی عدالت میں جانے سے بری طرح خوفزدہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم لانے سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ کراچی کی سیاست اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سندھ میں ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی باتیں ن لیگ کی طرف سے کراچی کے لوگوں کو دیا جانے والا محض ایک ‘لالی پاپ’ ہے، اگر ایم کیو ایم واقعی کراچی کے حقوق کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو وہ زبانی جمع خرچ کے بجائے فوری طور پر وفاقی حکومت سے الگ ہو کر اپنا مقتدر سیاسی وزن ثابت کرے۔