سیاسی تہذیب کا جنازہ: عمران خان نے ہماری سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا 78 سال میں کسی نے نہیں پہنچایا، وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

https://images.openai.com/static-rsc-4/kBaE8tfPIruAhvxerlL3nxnKUugXBJKztmiDdPjrdH0UWmLh4EVkzIcASfKHYiVcmCs9g5j4kjRF2Hybp0ne-MVBabgsfaGiK28hHHQynHLzxTLUVYb7uEQ04WB6aRBgJNYSl3KndapbUWyucvHNFMBHke5GruZGMzy_U97vU2gapfMeVNrCmlcdNm1R9g_G?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اور تندوتیز اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مقتدر الفاظ میں دعویٰ کیا کہ عمران خان نے ملکی سیاست، پارلیمانی نظام اور اخلاقی روایات کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، پچھلے 78 سالہ ملکی تاریخ میں کسی اور شخصیت نے نہیں پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی بدترین مثالیں قائم کیں اور سیاست سے رواداری کا مکمل خاتمہ کر دیا۔

وزیرِ دفاع نے ماضی کے حکومتی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ جب ہم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے، تو پی ٹی آئی کے وزراء اور ارکانِ اسمبلی ہم سے ہاتھ ملانے اور بات کرنے تک سے کتراتے تھے، انہیں صرف یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں ان کی ہم سے بات چیت دیکھ کر عمران خان ناراض نہ ہو جائیں۔ اپوزیشن بینچوں پر موجود پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن الائنس کے رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھے ہوئے بہت عجیب لگتے ہیں، کیونکہ محمود اچکزئی کی اپنی ایک طویل، محترم اور مقتدر جمہوری تاریخ ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی ایسی کوئی سیاسی یا آئینی روایت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان شدید ترین سیاسی دشمنی کے دور میں بھی یہ خوبصورت روایت قائم تھی کہ ہم دن بھر کے سیاسی اختلافات کے باوجود رات کو کھانا ایک ساتھ کھاتے تھے۔

ماضی کی تلخیاں بھلا کر ملکی بقا کے لیے آگے بڑھنے کا فارمولا پیش کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے اعتراف کیا کہ ماضی میں اسپیکر کی مقتدر کرسی پر بیٹھ کر بھی پارٹی مفادات کے تحت یکطرفہ فیصلے دیے گئے، لیکن بعد میں ن لیگ اور پی پی پی نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا اور ملک کو ‘میثاقِ جمہوریت’ جیسا مقتدر تحفہ دیا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کو ایک بار پھر دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ماضی کی غلطیوں کو درست کریں اور ملک کے استحکام کے لیے ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کریں، تاہم اس مقتدر اور سنجیدہ عمل کے لیے پی ٹی آئی کے ارکان کو بھی اپنے ماضی کے طرزِ عمل اور رویوں پر گہرائی سے نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔

وفاقی کابینہ میں دراڑیں: شہباز شریف کے چند وزراء ان کے کام میں آسانی کے بجائے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی میں دھواں دھار خطاب

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور مسلم لیگ (ن) کے مقتدر وزراء کے رویے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے گلیاروں میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اجلاس میں تندوتیز اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے مقتدر الفاظ میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے چند وزراء ایسے ہیں جو حکومت چلانے میں آسانی پیدا کرنے کے بجائے الٹا سیاسی اور انتظامی مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزراء کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو اور مشورے اتحادی حکومت کے لیے شدید سیاسی مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔

آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال اور وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے متنازع بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں مقتدر سوال اٹھایا کہ ‘ایسا وزیر جو سرِعام یہ کہے کہ راولاکوٹ کے کشمیری، کشمیری نہیں ہیں اور پھر اتنی بڑی بات کہہ کر بھی اپنے الفاظ واپس نہ لے، تو وہ اب تک وفاقی کابینہ کا حصہ کیوں ہے؟’ انہوں نے ن لیگ کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جو وزیر ابھی تک اپنے اس توہین آمیز بیان پر کشمیریوں سے معافی مانگنے کو تیار نہیں، اس کی وجہ سے پی پی پی کو بطور اتحادی شدید سبکی کا سامنا ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں عوام اور کشمیری بھائیوں کو کیا وضاحت دوں کہ ہم کس مجبوری کے تحت اس وزیر کے ساتھ وفاق میں بیٹھے ہوئے ہیں؟

بلدیاتی نظام اور جمہوریت پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ن لیگ کو لاہور اور اسلام آباد کی ضلعی حکومتوں کے انتخابات کروانے کا کھلا چیلنج دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت (سندھ) ہے، وہاں بلدیاتی نظام مکمل طور پر فعال ہے لیکن ن لیگ عوامی عدالت میں جانے سے بری طرح خوفزدہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم لانے سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ کراچی کی سیاست اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سندھ میں ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی باتیں ن لیگ کی طرف سے کراچی کے لوگوں کو دیا جانے والا محض ایک ‘لالی پاپ’ ہے، اگر ایم کیو ایم واقعی کراچی کے حقوق کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو وہ زبانی جمع خرچ کے بجائے فوری طور پر وفاقی حکومت سے الگ ہو کر اپنا مقتدر سیاسی وزن ثابت کرے۔

ایوان میں گرما گرمی: وزیرِ اعظم کے خطاب کے انداز سے بالکل مزہ نہیں آیا، ملک کے گرد بربادی کا ماحول ہے، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

منصور احمد june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے خطاب کے بعد ایوان میں سخت اور تیکھا اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے ڈھائی سال پورے ہونے والے ہیں لیکن ملک کے ارد گرد بربادی کا ماحول ہے، جس کے تدارک کے لیے اب حکمرانوں کو اپنا روایتی رویہ اور لہجہ بدلنا ہوگا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم نے جس انداز میں آج بات کی مجھے اس کا بالکل مزہ نہیں آیا، یاد رکھیں کہ اب آپ کے پاس وقت بہت کم ہے اور ہمارے چاروں طرف ایک بڑی بربادی پھیلی ہوئی ہے۔

محمود خان اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی کے حالیہ اقدامات اور کردار پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے ایوان چلاتے ہوئے آئین اور قانون کا بالکل خیال نہیں رکھا، بلکہ انتہائی چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی چودہ ساتھی پارلیمنٹیرینز کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی اور حال میں ہمیشہ آئین کو روندنے کے لیے غیر جمہوری حکومتوں کا ساتھ دیا گیا۔ ملک میں حالیہ عدالتی سزاؤں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے انکشاف کیا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ستر سال سے زائد عمر کے بزرگ قیدیوں کو سخت سزائیں دی گئی ہیں، جہاں پانچ افراد کو مجموعی طور پر دو سو چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کو عمر بھر کی قید کی سزا سنانے کو سراسر زیادتی قرار دیا۔

اپوزیشن لیڈر نے وفاق سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی آسمان پر نہیں بلکہ بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کا مجموعہ ہے، تو پھر خیبرپختونخوا کو برابر کا پاکستان کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ انہوں نے شکوہ کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام بنیادی ضروریات اور آٹے کے لیے چیخ رہے ہیں لیکن اس پر وزیرِ اعظم کا رویہ مایوس کن تھا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ خود بلوچ قیادت کو بلائیں اور یقین دہانی کروائیں کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے بچوں کا ہے، اور یہی حق سندھ اور خیبرپختونخوا کے عوام کو بھی دیا جائے۔ خطاب کے آخر میں انہوں نے ایوان کو یاد دلایا کہ ہم سب نے آئینِ پاکستان کی حفاظت کا حلف لیا ہے، اس لیے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک بہترین فوج موجود ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان تاحال جیل میں قید ہیں۔

امریکا ایران مذاکرات میں فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار، دیگر شخصیات کو کریڈٹ دینے کی ضرورت نہیں: ہمایوں مہمند

کاشف عباسی ,june 22,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تاریخ ساز امن بریک تھرو پر ملک کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تزویراتی بحث تیز ہو گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مقتدر رہنما اور سینیٹر ہمایوں مہمند نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں کامیابی کے پیچھے بنیادی، کلیدی اور فیصلہ کن کردار صرف اور صرف چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تھا، اس لیے اس عظیم سفارتی کامیابی کا کریڈٹ کسی اور سیاسی شخصیت کو دینے کی قطعی ضرورت نہیں۔

نجی ٹی وی کے مقتدر ٹاک شو میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس عالمی میڈیا کے سامنے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس انتہائی پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر شروع دن سے واشنگٹن کے ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے ہی اسے ممکن بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف کی ان انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں کو کسی بھی سیاسی مہرے کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے ایران پر عائد عالمی پابندیوں میں ممکنہ نرمی یا خاتمے کے پاکستان پر اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے پاکستان کو معاشی طور پر براہِ راست اور زبردست فائدہ پہنچے گا، جس سے پاک-ایران گیس پائپ لائن اور پیٹرولیم مصنوعات کی سستی درآمد کے امکانات روشن ہوں گے اور ملکی توانائی بحران پر ہمیشہ کے لیے قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو ان منصوبوں میں شفافیت کو مقدم رکھنا ہو گا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی پروگرام میں حکومت کا تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین یہ کامیاب مذاکرات پاکستان کے لیے نئے معاشی، سفارتی اور تزویراتی مواقع کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ تہران پر پابندیوں میں متوقع نرمی کے نتیجے میں پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے، بجلی کی فراہمی اور دوطرفہ تجارت میں حائل تمام قانونی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس مقتدر سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی روابط کو فوری طور پر نئی بلندیوں پر لے جانا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار استحکام حاصل ہو سکے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اگرچہ کریڈٹ لینے کی جنگ جاری ہے، تاہم تمام سیاسی و عسکری مہرے اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے۔