

محمود احمد june 06,2026
اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر جنرل اسمبلی کے اہم ترین مباحثے کے دوران بھارتی نمائندے کی ہٹ دھرمی اور بے بنیاد ریمارکس کے جواب میں پاکستان نے انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور علاقائی سلامتی سے متعلق اپنے تمام ٹھوس دلائل ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے پیش کر دیے ہیں، نیویارک سے موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سرواَنی نے پاکستان کی طرف سے حاصل “حقِ جواب” کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے بھارتی مؤقف کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ بھارت ہمیشہ کی طرح اس بار بھی عالمی فورم پر حقائق کو مسخ کرنے اور دنیا کی توجہ اصل مظالم سے ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ کے تعارفی حصے کی حساس تیاری اور اسے تمام ملکوں کے اتفاقِ رائے سے منظور کرانے میں پاکستان کے مثبت اور مخلصانہ کردار کو عالمی سطح پر زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے، تاہم بھارتی نمائندے نے بوکھلاہٹ میں آ کر صرف ان اہم نکات پر منفی توجہ دی جو کشمیر تنازع سے متعلق سچے حقائق کو دنیا کے سامنے ظاہر کرتے ہیں، پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سرکاری رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ رپورٹنگ کے مخصوص عرصے میں بھارت پاکستان سوال سے متعلق بیس سے زائد اہم ترین مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے باقاعدہ پیش کیے گئے، جبکہ ۵ مئی ۲۰۲۵ کو اسی اہم ایجنڈا آئٹم پر ایک خصوصی بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی گئی تاکہ خطے کی نازک صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے، گل قیصر سروانی نے کشمیر تنازع پر پاکستان کا سخت اور اصولی مؤقف دہراتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دیرینہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے، اس لیے اسے کسی بھی طور پر بھارت کا کوئی ”اٹوٹ انگ“ قرار نہیں دیا جا سکتا، ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی پاس کردہ تاریخی قراردادوں کے تحت معصوم کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دینا عالمی برادری پر لازمی ہے، تاہم انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آٹھ دہائیوں کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ان مسلمہ قراردادوں پر اب تک عملدرآمد نہیں ہو سکا، پاکستان نے مقبوضہ و بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں جاری بدترین ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں، بے گناہ شہریوں کی گرفتاریوں، بنیادی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں اور وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے کی جانے والی آبادیاتی تبدیلیوں کے خطرناک بھارتی الزامات و اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، اس سلسلے میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کی ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۵ کی مشترکہ رپورٹ کا ناقابلِ تردید حوالہ بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا، اپنے حقِ جواب کے دوران پاکستان نے بھارت پر جوابی الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے عالمی فورم پر بے نقاب کیا کہ نئی دہلی سرکار ناصرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کی مبینہ طور پر مکمل سرپرستی کر رہی ہے اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، بلکہ اب بھارت کے کینیڈا اور امریکہ جیسے بیرون ممالک میں بھی ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل اور دیگر ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے بھیانک کردار دنیا کے سامنے آ چکے ہیں، اس کے ساتھ ہی بھارت خطے کا امن تباہ کرنے کے لیے سندھ طاس جیسے اہم بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کی مذموم کوششیں بھی کر رہا ہے، پاکستان نے واضح قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے منشور، خصوصاً آرٹیکل ۲۵ کے تحت سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے، لیکن وہ مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کو یکسر نظر انداز کر رہا ہے، اپنے اختتامی مؤقف میں پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حقائق سے فرار اختیار کرنے اور الزامات کی سستی سیاست چمکانے سے یہ سنگین مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا، جموں و کشمیر کے اس دیرینہ تنازع کا واحد اور پرامن حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں و خواہشات کے مطابق رائے شماری کرانے میں ہی ممکن ہے، انہوں نے پاکستان کے فولادی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مظلوم کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر پوری قوت سے اجاگر کرتا رہے گا اور اس کے پرامن و منصفانہ حل کے لیے اپنی کوششوں سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔