بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف لاکھوں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے، طنزیہ آن لائن تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے کا وزیر تعلیم کے استعفے تک ملک گیر احتجاج کا اعلان، تعلیمی نظام مفلوج

روزینہ اسماعیل.june 06,2026

دہلی(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

بھارت میں امتحانی پرچوں کے پے در پے لیک ہونے کے سنگین واقعات کے خلاف ملک بھر میں طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد نے شدید احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایک منفرد طنزیہ آن لائن تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مودی سرکار کے وزیر تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک چلانے کی کھلی دھمکی دے دی ہے، دہلی اور بھارتی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق ابھیجیت دیپکے نے نئی دہلی کے سب سے معروف احتجاجی مقام ”جنتر منتر“ پر ہزاروں بپھرے ہوئے طلبہ کے ساتھ ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا، جہاں وہ امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے اور ملکی تعلیمی نظام میں موجود مبینہ خامیوں و کرپشن کے خلاف دہائیاں دے رہے تھے، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے باقاعدہ اعلان کیا کہ اگر مرکزی وزیر تعلیم نے اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ نہ دیا تو آئندہ چند دنوں میں بھارت کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا، امریکہ میں زیرِ تعلیم اس تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک اب ہر اس بھارتی طالب علم کی حقیقی آواز بن چکی ہے جو موجودہ ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے، انہوں نے مودی حکومت پر سنگین الزام لگایا کہ سرکار نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طویل عرصے سے ملک کے نوجوانوں کو دیگر فضول مسائل میں الجھا کر رکھا ہوا ہے جبکہ اصل اور بنیادی مسائل جیسے تعلیم کی بہتری اور روزگار کی فراہمی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، واضح رہے کہ بھارت میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد بڑے امتحانی اسکینڈلز اور چوریاں سامنے آئی ہیں، جن میں سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے بعد ملک کے لاکھوں ہونہار طلبہ کو ذہنی اذیت سے گزرتے ہوئے دوبارہ امتحان دینا پڑا، اسی طرح بھارتی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے امتحانی نظام میں بھی شدید تکنیکی خرابیوں کے باعث نتائج میں غیر معمولی تاخیر اور دیگر مسائل نے طلبہ اور ان کے والدین میں شدید تشویش اور غصہ پیدا کیا، ان مسلسل افسوسناک واقعات کے بعد اس وقت پورے بھارت میں طلبہ اور والدین کے اندر حکومت کے خلاف شدید ناراضی اور غم و غصہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں مودی سرکار کی تعلیمی پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تعلیمی ماہرین کے مطابق بار بار ہونے والے ان امتحانی لیکس اور پیپرز کی چوری نے بھارت کے پورے تعلیمی نظام کی شفافیت، ساکھ اور انتظامی کارکردگی کا جنازہ نکال دیا ہے۔