چین اعلیٰ سطحی کھلے پن کو وسعت دیتا رہے گا، گلوبل ساؤتھ کو مضبوط بنانے پر زور: شی جن پنگ

محمود احمد, September 13,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی سطح پر یکطرفہ پالیسیوں اور ناہمواری کے مقابلے میں اعلیٰ سطحی معاشی کھلے پن کو وسعت دینے، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (GDI) پر تیز رفتار عملدرآمد اور اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت کثیرالجہتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جاری 18ویں برکس (BRICS) سربراہی اجلاس کے دوسرے مرحلے کے سیشن سے ویڈیو لنک اور باضابطہ خطاب کے دوران چینی صدر نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی معیشت، سیکیورٹی اور جغرافیائی سیاست کو خطرناک چیلنجز اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان پیچیدہ عالمی مسائل کا حل نکالنے کے لیے برکس ممالک اور ‘گلوبل ساؤتھ’ (ترقی پذیر و ابھرتی ہوئی معیشتوں) کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کا مضبوط ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور عالمی آئین کی پاسداری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک کو گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر تمام ریاستوں کی سلامتی، خودمختاری، مساوات اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تنازعات کو جنگ کے بجائے صرف اور صرف پرامن سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔

چینی صدر نے عالمی برادری میں بلاک پولیٹکس اور دوہرے معیارات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین، معاشی ضوابط اور انسان دوست اصولوں کا تمام ممالک پر یکساں اور بغیر کسی امتیازی سلوک کے اطلاق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق عالمی مالیاتی اور سیاسی نظام میں انصاف، شفافیت اور مساوات لانے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی یکجہتی کلیدی کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے “گریٹر برکس تعاون” (Greater BRICS Cooperation) کے نئے فریم ورک کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی، معاشی اور تجارتی شعبوں میں عملی شراکت داری کو بنیاد بنایا جائے۔ شی جن پنگ کے مطابق چین کی مسلسل معاشی پیش رفت اور کھلا پن دنیا کے دیگر تمام ممالک کے لیے ترقی کے مساوی اور نفع بخش مواقع فراہم کرتا رہے گا، جس کا مقصد گلوبل ساؤتھ میں پائیدار خوشحالی اور خود انحصاری کی نئی راہ بنانا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ آرٹیکل نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے حاشیے پر چینی صدر شی جن پنگ کی کی گئی تقریر اور چینی وزارتِ خارجہ و سرکاری ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ پریس ریلیز کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ آرٹیکل میں پیش کردہ بیانات چینی حکومت کا باضابطہ سفارتی موقف ہیں۔

ماخذ:

چینی سرکاری خبر رساں ادارہ Xinhua، چینی وزارتِ خارجہ پریس ریلیز، عالمی خبر رساں ادارے