

محمود احمد, September 03,2026
سرینگر / نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے نامور کشمیری رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے سرینگر کی خصوص عدالت کے سامنے ایک انتہائی اہم اور تہلکہ خیز حلف نامہ پیش کرتے ہوئے اپنے خلاف قائم مقدمے کا مزید دفاع کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں فوری طور پر سزائے موت سنائی جائے۔
یہ غیر متوقع اور ڈرامائی پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی جدید ترین فردِ جرم میں یاسین ملک کو سن 1990ء میں پیش آنے والے سرلا بھٹ قتل کیس کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا۔ اس کیس میں یاسین ملک پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اسپتال میں کام کرنے والی نرس کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔
یاسین ملک کے قانون دان ابو عادل پنڈت نے سرینگر میں متعلقہ عدالت کے جج کے سامنے یہ دستی حلف نامہ جمع کرایا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کی حال ہی میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جہاں قید کے دوران انہوں نے یہ تحریر لکھی اور اسے عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ اس قانونی دستاویز پر یاسین ملک کے انگوٹھے کے نشان کے ساتھ ساتھ تہاڑ جیل کے نائب ناظم کی باضابطہ مہر اور دستخط بھی ثبت ہیں، جبکہ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی اور تہاڑ جیل کے حکام نے بھی اس تحریر کی مکمل تصدیق کی ہے۔
تہاڑ جیل سے بھیجے گئے اس طویل حلف نامے کو یاسین ملک نے عدالتی نظام کے سامنے اپنا حتمی اور آخری بیان قرار دیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذہبی استخارے، تلاوت اور اپنے موجودہ نامساعد حالات پر طویل غور و فکر کے بعد انہوں نے یہ حتمی فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف دائر کیے گئے اس مقدمے کی مزید کوئی قانونی پیروی یا دفاع نہیں کریں گے۔ انہوں نے عدالت پر واضح کیا کہ ان کے اس فیصلے کو کسی بھی صورت میں جرم کا اعتراف یا سرکاری و تحقیقاتی اداروں کے الزامات کی تسلیم سے تعبیر نہ کیا جائے، کیونکہ وہ اس قتل میں کسی بھی طور پر ملوث نہیں ہیں، بلکہ وہ اس نظامِ عدل سے مایوس ہو کر خود کے لیے سزائے موت کی مانگ کر رہے ہیں۔
اس حلف نامے کا ایک انتہائی دردناک اور سنسنی خیز پہلو یہ ہے کہ قیدِ تنہائی کاٹنے والے کشمیری رہنما نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم اپنی اہلیہ مشال ملک کو بھی اس تحریر کے ذریعے نکاح سے آزاد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اپنی شریکِ حیات کو مزید کسی بندھن یا انتظار کی صعوبت میں نہیں رکھنا چاہتے، اس لیے وہ انہیں مکمل طور پر آزاد کرتے ہیں۔
حلف نامے کے متن کے مطابق بھارت کے تحقیقاتی افسران نے جون دو ہزار چھبیس کے پہلے ہفتے میں تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے کئی گھنٹے تفتیش کی تھی۔ اس تفتیش کے دوران ان سے ایک ایسے دستی نوٹ کے بارے میں سوالات پوچھے گئے جو مبینہ طور پر دہائیوں قبل جائے وقوعہ سے ملا تھا اور جس کی بنیاد پر ان پر اس قتل کی ہدایت دینے کا الزام لگایا گیا۔ یاسین ملک نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اس واقعے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
حلف نامے میں یاسین ملک نے ماضی کے کئی پردے بھی چاک کیے ہیں اور بھارت کی سابق حکومتی قیادت کے ساتھ اپنے تعلقات کی تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سال دو ہزار میں جیل سے رہائی کے بعد اس وقت کی بھارتی حکومت نے ان کے ساتھ باقاعدہ بات چیت اور مذاکراتی عمل کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی بھارتی قیادت کے نمائندوں بشمول اجیت دوول اور دیگر اعلیٰ سلامتی و استخباراتی حکام نے ان سے متعدد ملاقاتیں کی تھیں اور انہی رابطوں کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ میں اپنے علاج و معالجے کے سلسلے میں بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مالی امداد کی تفصیلات بھی اس حلف نامے میں درج کی ہیں۔
یاسین ملک کے اس قدم نے کشمیری سیاست اور قانون دانوں کے حلقوں میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک اہم رہنما کی طرف سے مقدمے کے دفاع سے انکار اور سزائے موت کا مطالبہ کرنا بھارت کے قضائی اور تحقیقاتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ حریت پسند حلقوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یاسین ملک کا یہ بیانیہ ان کی ثبات قدمی اور مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
فی الوقت سرینگر کی عدالت اور بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اس حلف نامے کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے اور اس کیس کی اگلی سماعت پر اس قانونی نقطے کا جائزہ لیا جائے گا کہ جب ملزم خود اپنا دفاع کرنے سے انکار کر دے اور سزائے موت کی استدعا کرے تو ایسی صورت میں کارروائی کو کس سمت میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔