بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ؛ سپریم کورٹ نے محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو بری کر دیا؛ فوجداری انصاف میں سزا محض قیاس آرائی یا شبہات پر نہیں دی جا سکتی

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک مقتدر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملکی فوجداری نظامِ انصاف میں کسی بھی ملزم کو محض قیاس آرائی، عمومی قسم کے الزامات یا مضبوط شبہات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، بلکہ استغاثہ پر قانونی طور پر لازم ہے کہ وہ مبینہ جرم کو ہر معقول شک سے بالاتر ہو کر قابلِ اعتماد اور ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت کرے۔ عدالتی رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ مقتدر تحریری فیصلے کے مطابق، معزز جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کراچی کے مشہور بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مرکزی ملزمان محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ بلاشبہ ملکی تاریخ کے المناک ترین اور افسوسناک ترین واقعات میں سے ایک تھا، جس میں 264 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں معصوم افراد شدید زخمی ہوئے، تاہم ایسے حساس اور بڑے مقدمات میں بھی قانون کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ سزا صرف اور صرف مضبوط، ٹھوس اور قابلِ اعتماد ثبوتوں کی بنیاد پر ہی دی جائے۔ تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ واقعے کی ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) میں فیکٹری مالکان اور انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات میں مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، تاہم تقریباً اڑھائی سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو جان بوجھ کر کیمیکل کی مدد سے آگ لگانے کی ایک بالکل نئی کہانی سامنے لائی گئی، جسے استغاثہ بعد میں معتبر عدالتی شواہد سے ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں مزید قرار دیا کہ ملزم عبدالرحمان عرف بھولا کا بعد میں واپس لیا گیا عدالتی اعترافِ جرم کسی بھی آزاد اور مضبوط شہادت سے ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ اس کا یہ بیان گرفتاری کے 9 روز بعد ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس غیر معمولی تاخیر کی بھی کوئی قابلِ قبول قانونی وضاحت عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ عدالتِ عظمیٰ نے تکنیکی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فرانزک شواہد سے بھی یہ ثابت نہیں ہو پایا کہ فیکٹری میں آگ لگانے کے لیے کسی مخصوص کیمیکل کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسی طرح ہولناک سانحے میں معجزاتی طور پر زخمی ہونے والے عینی شاہدین نے بھی ملزمان کے خلاف عدالت میں کوئی براہِ راست بیان قلمبند نہیں کرایا، جبکہ فیکٹری میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی اصل ریکارڈنگ بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی، جو استغاثہ کے بنائے گئے مقدمے میں ایک بہت بڑا اور اہم ترین خلاء ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی مخصوص طبقے کو عمومی الزامات یا محض مفروضوں کی بنیاد پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ فوجداری مقدمات کا سنہری اصول ہے کہ ہر الزام کا ثبوت ٹھوس، قانونی طور پر قابلِ قبول اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والے شواہد سے فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے آخر میں قرار دیا کہ چونکہ استغاثہ ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، لہٰذا مروجہ قانون کے مطابق دونوں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے عزت کے ساتھ بری کیا جاتا ہے۔