

منصور احمد, August 17,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ریسرچ اینڈ انٹرپرائز، ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس، اور اکیڈمکس کے تین نائب صدور (نائب صدرین) کی تعیناتیوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں قانونی طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
جسٹس ایاز شوکت نے شہری جاوید اختر کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر سماعت کی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل آکاش تارا عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابقہ واضح احکامات کے مطابق اسلامی یونیورسٹی تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں شفاف اور اوپن میرٹ پر کرنے کی پابند ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے قانونی عمل اور کھلے مقابلے (اوپن میرٹ) کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہی اندرونی فیکلٹی ممبران میں سے من پسند پروسیجر کے تحت تعیناتیاں کر ڈالیں۔
سماعت کے دوران جسٹس ایاز شوکت نے قانونی باریکیوں پر نکتہ اٹھاتے ہوئے ہدایت کی کہ یہ بات بھی قانون کے مطابق جانچ لی جائے کہ آیا یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز (BoG) نے اپنا باقاعدہ اختیار تعیناتی کمیٹی کو تفویض کیا تھا یا نہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو آئندہ دو ہفتوں میں قانونی موقف اور تحریری جواب عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔