پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کیا جائے: جماعت اسلامی کا 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ اور ڈی چوک میں دھرنے کا حتمی اعلان

روزینہ اسماعیل, September 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 ستمبر 2026ء

جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ اور ڈی چوک میں غیر معینہ مدت کے دھرنے کی تمام تر تیاریاں مکمل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی نشستوں کے باوجود ان کے بنیادی مطالبات تسلیم کیے جانے تک احتجاجی دھرنا جاری رکھا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینیئر نصراللہ رندھاوا نے دیگر مرکزی و مقامی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ مکمل طور پر پُرامن ہوگا جس میں ملک بھر سے لاکھوں کارکنان اور عام شہری شرکت کریں گے۔ انہوں نے اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ مارچ کے شرکا کی آمد و رفت میں کسی قسم کی رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں اور دارالحکومت کی اہم شاہراہوں کو کھلا رکھا جائے۔ نصراللہ رندھاوا کے مطابق ڈی چوک میں دھرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامیہ کو باقاعدہ درخواست جمع کرا دی گئی ہے، جبکہ تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے 20 مرکزی اور 50 ذیلی انتظامی کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس تحریک کا مرکزی نقطہ پیٹرولیم لیوی کو یکسر ختم کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ حکومت کے ساتھ 7 ستمبر سے شروع ہونے والے مذاکراتی عمل میں، جس کے چوتھے دور کی قیادت لیاقت بلوچ اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے کی، متبادل آمدنی کے واضح ذرائع تجویز کیے گئے ہیں۔ تاہم 16 ستمبر تک ہونے والی گفتگو میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فی لیٹر 100 روپے کی عارضی رعایت کی تجاویز پیٹرولیم لیوی کے مستقل خاتمے کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ جماعت اسلامی کے مطابق ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کریں گے اور دھرنے کے دوران دیگر تمام سیاسی و سماجی جماعتوں کے قائدین اور عوام کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس اور حکومت کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کی تازہ ترین پیش رفت پر مبنی ہے۔

ماخذ: اسلام آباد بیورو، نیوز اینڈ نیوز۔