گلگت بلتستان انتخابی دنگل، ابتدائی غیر سرکاری نتائج میں پاکستان پیپلز پارٹی ۱۰ نشستوں کے ساتھ سب سے آگے، مسلم لیگ (ن) ۶ نشستوں پر برتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود، سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات

کاشف عباسی ,june 08,2026

گلگت(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سب سے زیادہ نشستوں پر واضح برتری حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے سنگین الزامات بھی عائد کر دیے ہیں، گلگت سے موصول ہونے والے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی چوبیس (۲۴) نشستوں میں سے پیپلز پارٹی اس وقت دس (۱۰) حلقوں میں آگے ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) چھ (۶) نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، اس کے علاوہ آزاد امیدوار پانچ (۵) حلقوں میں سبقت رکھے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو دو (۲) نشستوں پر برتری حاصل ہے اور مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) بھی ایک نشست پر آگے چل رہی ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے علاقائی صدر امجد حسین حلقہ جی بی اے-۱ گلگت میں اپنے مخالفین سے آگے ہیں، جبکہ اسکردو اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی پیپلز پارٹی کو نمایاں کامیابیاں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، پیپلز پارٹی کے نمایاں امیدواروں میں سید توقیر مہدی (جی بی اے-۷ اسکردو)، فدا محمد نشاد (جی بی اے-۹ اسکردو)، ناصر علی خان (جی بی اے-۱۰ روندو)، اقبال حسن (جی بی اے-۱۱ کھرمنگ) اور عمران ندیم (جی بی اے-۱۲ شگر) اپنے اپنے حلقوں میں واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، دوسری جانب مسلم لیگ (ن) بھی گلگت اور استور سمیت کئی اہم حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور سخت مقابلہ کر رہی ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن (جی بی اے-۲ گلگت)، رانا فرمان علی (جی بی اے-۱۳ استور)، رانا محمد فاروق (جی بی اے-۱۴ استور)، کفایت الرحمٰن (جی بی اے-۱۸ تانگیر)، عبدالجہان (جی بی اے-۲۰ غذر) اور محمد ابراہیم (جی بی اے-۲۲ گانچھے) اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں آگے چل رہے ہیں، تحریکِ انصاف کے حوالے سے بات کی جائے تو پارٹی انتخابی نشان کے بغیر آزاد حیثیت میں میدان میں اترنے والے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں میں سہیل عباس (جی بی اے-۳ گلگت) اپنے حلقے میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، انتخابی نتائج کے مطابق دیامر، یاسین اور گانچھے سمیت کئی دور افتادہ علاقوں میں آزاد امیدوار انتہائی مضبوط پوزیشن میں سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی اسمبلی میں آزاد ارکان کا کردار حکومت سازی کے لیے انتہائی اہم ہو سکتا ہے، انتخابات کے دوران اور پولنگ ختم ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف سمیت بعض بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ دھاندلی کے شدید الزامات عائد کیے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر کارروائی جاری ہے اور سرکاری و حتمی نتائج جاری ہونا ابھی باقی ہیں، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ نتائج اسی طرح برقرار رہے تو گلگت بلتستان میں اگلی حکومت سازی کے لیے سیاسی اتحاد، جوڑ توڑ اور آزاد امیدواروں کی حمایت فیصلہ کن اہمیت اختیار کر جائے گی۔